Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / پاکستان اور روس کے درمیان خوشگوار تعلقات کا ایک نیا دور

پاکستان اور روس کے درمیان خوشگوار تعلقات کا ایک نیا دور

روس سے لڑاکا ہیلی کاپٹرس خریدنے کا معاہدہ، سردجنگ کا زمانہ قصۂ پارینہ‘ روسی وفد سے نواز شریف کی ملاقات اور پوٹن کو دورہ کی دعوت
اسلام آباد ۔ 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ’’روس اور پاکستان دو ایسے ممالک ہیں جن کے درمیان ہمیشہ سرد جنگ رہی، تاہم جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہے اور نہ کوئی مستقل دشمن۔ بالکل اسی طرح روس اور پاکستان بھی اب اپنے باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کے ایک نئے دور میں داخل ہورہے ہیں‘‘۔ یہ بات کسی اور نے نہیں بلکہ وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ کی گشت کرتی ہوئی رپورٹس کے درمیان کہی جس میں لڑاکا ہیلی کاپٹرس کی فروخت بھی شامل ہے۔ نواز شریف سے آج ایک روسی وفد جس کی قیادت رشین۔ پاکستانی انٹر گورنمنٹل کمیشن برائے معاشیات، تجارت اور سائنسی تعاون کے معاون صدرنشین وکٹرپی ایوانوف نے کی تھی۔ اس موقع پر نواز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک اب اپنی پرانی سردمہری کو سردخانے کے حوالے کرتے ہوئے ایک مستحکم باہمی تعلقات کی جانب پیشرفت کرنے والے ہیں جس سے دونوں ہی ممالک کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک تیزی سے فروغ پاتی ہوئی معیشت ہے اور بیرونی سرمایہ کاری کیلئے یہ ایک پسندیدہ ملک بن چکا ہے خصوصی طور پر توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع بہت زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور انتہاء پسندی سے نمٹنے ایک مستحکم تاہم پرامن طریقہ کار اپنا رکھا ہے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے جبکہ مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور انفراسٹرکچر کو تباہ و تاراج کیا جارہا ہے۔ ایوانوف نے بعدازاں کہا کہ پاکستان ایک تاریخی اہمیت کا حامل ملک ہے اور روس اور پاکستان کے درمیان تجارت کے بہترین مواقع موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں اور تاجرین کے استفادہ کیلئے ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان راست پروازیں شروع کئے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے صدر روس ولادیمیر پوٹن کو ملک میں نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن کے افتتاح کیلئے پاکستان مدعو کیا ہے جو روس کی جانب سے پاکستان میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ باہمی تجارت، معاشی، سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات سردجنگ کے زمانے میں انتہائی کشیدہ رہے جبکہ 1980ء میں اس وقت کے سوویت یونین کے افغانستان میں یلغار کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات نے بدترین صورتحال اختیار کرلی تھی۔ بہرحال، ماہ اگست میں دونوں ممالک نے ایک تاریخی دفاعی معاہدہ پر دستخط کئے تھے جس میں چار Mi-35 ، Hind-E لڑاکا ہیلی کاپٹرس پاکستان کو فروخت کرنا بھی شامل ہے۔

TOPPOPULARRECENT