Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / کم خرچ کی شادیوں پر اللہ کی رحمتوں کا نزول ‘ اسراف اسلام میں نا پسند

کم خرچ کی شادیوں پر اللہ کی رحمتوں کا نزول ‘ اسراف اسلام میں نا پسند

دوبدو پروگرام کی سارے ملک میں ستائش ‘ نمود و نمائش سے لڑکیوں کی شادی مسئلہ بن کر رہ گئی ہے ۔ مولا علی میں دوبدو پروگرام ‘جناب زاہد علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد /15 نومبر (سیاست نیوز) جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ سیاست و ایم ڈی ایف کی جانب سے ہونے والے دوبدو ملاقات پروگرام کی گونج سارے ملک میں سنائی دے رہی ہے، چنانچہ کشمیر کا ایک وفد حیدرآباد آیا ہے، جس نے اس پروگرام کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور اس بات کی خواہش کی کہ کشمیر میں بھی اس نوعیت کا پروگرام کیا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ مسلم شادیوں کے مسئلہ سے تقریباً ہر جگہ کے لوگ پریشان ہیں، خاص طورپر لڑکیوں کے والدین زیادہ مضطرب ہیں۔ جوڑے کی رقم، جہیز کے مطالبات اور اعلی درجہ کے شادی خانوں میں نکاح کے اہتمام کی فرمائش ماں باپ کیلئے عذاب جان بن گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسابقت کے فیشن سے متاثر ہوکر کئی متوسط اور غریب والدین سود سے قرض لے کر اپنی لڑکیوں کی شادیاں انجام دے رہے ہیں، جبکہ سود سے لئے ہوئے پیسے کا کھانا ہمارے لئے حرام ہے۔ جناب زاہد علی خاں آج صبح ادارہ سیاست و مائناریٹی ڈیولپمنٹ فورم اور لالہ گوڑہ اولڈ بوائز اسوسی ایشن کے زیر اہتمام بھارت فنکشن ہال (مولا علی) میں منعقدہ 49 ویں دوبدو ملاقات پروگرام کو مخاطب کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام میں اسراف کو ناپسند کیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کم سے کم خرچ کے ذریعہ ہونے والی شادیوں پر اللہ تعالی کی رحمتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ کئی خاندان موجودہ حالات کا شکار ہیں۔ ایک ایک لڑکی کی شادی پر اوسطاً پانچ تا چھ لاکھ روپئے خرچ ہو رہے ہیں، جو باعث افسوس ہے۔ اگر کسی کے گھر میں دو یا تین بیٹیاں ہیں تو والدین کیلئے چوتھی بیٹی کی شادی کرنا ناممکن ہو رہا ہے۔ اسی جذبہ کے تحت سیاست نے یہ تحریک شروع کی ہے، تاکہ قوم کو تمام برائیوں سے بچایا جاسکے۔ یہ کام سیاسی پارٹیوں اور مذہبی جماعتوں کا ہے، لیکن اس سلگتے مسئلہ سے ہر کوئی بے اعتنائی برت رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں میں غربت بڑھتی جا رہی ہے، لیکن اس غربت کے خاتمہ کی بجائے غیر اسلامی رسم و رواج کے ذریعہ ہم اپنے سماجی اور معاشی موقف کو کمزور بناتے جا رہے ہیں۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو اعلی تعلیم کی طرف رجوع ہونے کی ضرورت ہے۔ زرعی شعبوں کو، اسپیس ٹکنالوجی، ڈیری ڈیولپمنٹ اورکئی ایسے شعبے ہیں، جن میں مسلم نوجوانوں کو راغب ہونا چاہئے۔ انھوں نے اس سلسلے میں ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام کا ذکر کیا، جنھوں نے میزائل ٹکنالوجی میں دنیا بھر میں اپنا نام روشن کیا۔ انھوں نے اتنی غربت میں زندگی گزاری کہ ان کے پیر میں چپل بھی نصیب نہیں تھی، لیکن مقصد کی لگن نے انھیں دنیا کا ایک بڑا آدمی بنادیا۔ جناب زاہد علی خاں نے لالہ گوڑہ اولڈ بوائز اسوسی ایشن کی سرگرمیوں کی ستائش کی اور ان کی نمائندگی پر اس بات کا اعلان کیا کہ مولا علی میں جونیر اور ڈگری کالج کے قیام کیلئے وہ حکومت سے نمائندگی کریں گے۔ ابتداء میں جناب سید تاج الدین صدر اسوسی ایشن نے کہا کہ اسوسی ایشن نے ملت کے اس اہم مسئلہ کو حل کرنے جنگی خطوط پر اقدامات کا عزم کیا ہے۔          ( باقی سلسلہ صفحہ 6 پر )

TOPPOPULARRECENT