Saturday , September 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / 12فیصد تحفظات : حکومت کی پہلوتہی‘ مسلمانوں کی تساہلی نقصاندہ

12فیصد تحفظات : حکومت کی پہلوتہی‘ مسلمانوں کی تساہلی نقصاندہ

سدی پیٹ۔11نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جمعیت العلماء آندھراپردیش و تلنگانہ کے صدر و سابق ایم ایل سی مولانا حافظ پیر شبیر احمد نے تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت سے خواہش کی کہ وہ تلنگانہ ریاست کے اقلیتوں کیلئے 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اس پر فوری عمل آوری کریں‘ وہ یہاں سدی پیٹ میں ایک جلسہ میں شرکت کے موقع پرجناب عبداللطیف کی رہائش گاہ پر نامہ نگار ’’سیاست‘‘ کلیم الرحمن سے بات چیت کے دوران بتایا کہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست کے مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کی تعلیمی ‘ سماجی او روزگار کے میدان میں پسماندگی کو دیکھتے ہوئے 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اب چونکہ تلنگانہ ریاست میں سرکاری ملازمین پر مرحلہ وار تقررات عمل میں لائے جارہے ہیں ایسے میں اگر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے میں پہلوتہی کی گئی تو یہ مسلمانوں کیلئے مستقبل میں مزید ایک نقصان ثابت ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جو سرکاری ملازمتوں کے سیزن کا آغاز ہوا ہے اس کے بعد آئندہ دو دہوں تک مزید تقررات کے امکانات بہت ہی کم پائے جاتے ہیں‘ اگرچہ کے مسٹر کے سی آر نے مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی جتاتے ہوئے 12فیصد تحفظآت کا جو اعلان کیا ہے وہ قابل ستائش ہے لیکن اس پر فوری عمل کی ضرورت ہے ۔ سابق ایم ایل سی مولانا شبیر نے روز نامہ ’سیاست‘ کی جانب سے ایڈیٹر جناب زاہد علی خان صاحب کی سرپرستی میں جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست نے 12فیصد تحفظات کی جو تحریک شروع کی ہے اس کو ایک مستحسین اقدام قرار دیا اور کہا کہ یقیناً اس تحریک میں مزیدشدت پیدا کی جائے تو اس کے مثبت اور ثمر آور نتائج برآمد ہوں گے ۔ حافظ پیر شبیر احمد نیدوران گفتگو تلنگانہ ریاست کے مسلم تنظیموں ‘ اداروں ‘ سیاست دانوں ‘ سماجی جہد کاروں ‘ شعراء و ادیب ‘ داشنوروں ‘علماء کرام ‘اولیائے طلبہ اور طلباء سے پُرزور خواہش کی کہ وہ اس تحریک میں جوق در جوق شامل ہوتے ہوئے اس کو آگے بڑھائے اور تحریک میں شدت پیدا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ کسی مقام پر بیٹھ کر بیانات جاری کرے سے زیادہ عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہماری لاپرواہی ہماری کمزوری ثابت ہوگی جس سے مستقبل میں نقصان بھی ہوسکتا ہے ۔ لہذا مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے اندر شعور پیدا کرتے ہوئے تحریک میں شامل ہوجائے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی چار فیصد تحفظآت کیلئے جمعیت العلماء کی جانب سے مہم اور تحریک چلاتے ہوئے قانونی حق حاصل کرنے کی بھی کوشش کی گئی اور عدالت میں زیر سماعت ہے ‘ اب جب کہ کے سی آر کے وعدے کے مطابق 12فیصد تحفظآت کیلئے جمعیت العلماء پھر ایک مرتبہ تحریک چلانے کا عزم رکھتے ہوئیہ آگے بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے اپنی جماعت سے وابستہ ضلع و تعلقات کے صدور و معتمدین کو ہدایت دی کہ وہ مقامی طور پر اپنے متعلقہ عہدیداروں کو یادداشتیں پیش کرتے ہوئے تحفظات کی نمائندگی کریں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت کی جانب سے حیدرآباد نظام گراؤنڈ کالج میں تحفظات پر ایک بڑا جلسہ عام رکھنے کی تجویز رکھتی ہے اس کیلئے منصوبوں اور انتظامات کے علاوہ حکمت عملی کو قطعیت دی جارہی ہے ۔ مولانا نے کہا کہ 12فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے حکومت کی جانب سے ریاست گیر سطح پر مسلمانوں کی تعلیمی ‘ سماجی ‘ معاشی اور بیروزگاری کا جائزہ لینے کیلئے سدھیر کمیٹی کا جو قیام عمل میں لایا وہ فضول ثابت ہوگا ۔ اس سے اوقات کی خرابی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے اشارتاً حکومت کیجانب سے کمیٹی کے قیام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بذات خود مسلمانوں کی پسماندگی کا ریکارڈ رکھتی ہے ایسے میں کمیٹی کے ذریعہ تحقیقات کوئی معنی نہیں رکھتے ۔انہوں نے کہا کہ 12فیصد تحفظات صرف بی سی کمیشن کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ بی سی کمیشن کے دریعہ تحفظات کا جائزہ لینے کیلئے جلد سے جلد احکامات جاری کریں چونکہ حکومت اقتدار پر آکر تقریباً 17ماہ کا عرصہ گذر چکا ہے وعدوں پر عمل نہیں ہوا ‘ ایسے میں مسلمان شدید ذہنی تحفظات کا شکار ہوگئے ہیں ‘ ان کی تشویش کو ختم کرنے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ جناب حافظ پیر شبیر نے آخر میں آلیر انکاؤنٹر کے نام پر پانچ مسلم نوجوانوں کی مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا اور اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ان نوجانوں کے مقدمات قریب الختم تھے ایسے میں مقتولین پر پولیس کے ساتھ مزاحمت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پولیس کے ہاتھوں نوجوانوں کی مبینہ قتل کو غیر انسانی حرکت قرار دیا اورحکومت پر زور دیا کہ وہ سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کرواتے ہوئے اس قتل میں ملوث خاطی پولیس عہدیداروں کے علاوہ اس کے حقائق کو برسرعام لانے کا مطالبہ کیا ۔ اس میں مزید تاخیر نہ کرتے ہوئے حکومت فوری طور پر واقعہ کی وضاحت کریں ۔ صدر جمعیت العلماء نے کہا کہ مہلوکین میں ایک نوجوان کے قتل کے بعد اس مہلوک خاندان بے یارومددگار ہوگیا ہے ‘ اس خاندان سے جمعیت العلماء کا ایک وفد نے ملاقات کیا تو وہ قانونی کسمپرسی کا اظہار کیا ‘ حافظ شبیر نے جمعیت العلماء نے جمعیت العلماء کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت سماجی و ملی خدمات انجام دیتی ہے ۔ اس جماعت کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں ہے وہ حق کی آواز کیلئے ہمیشہ جہد مسلسل کرتی رہی ہے اور مستقبل میں بھی اس کام کو بحسن خوبی جاری رکھنے کا عزم رکھتی ہے اور یہ کام ہمیشہ جاری رکھے گی ۔ اس موقع پر عبداللطیف ‘عبدالقادر ‘ مجیب ‘ علیم الدین شجو ‘ واحد ‘ محمد یوسف ‘ آصف اقبال ‘ مفتی عبدالسلام و دیگر موجو د تھے ۔

TOPPOPULARRECENT