Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / بیرون ممالک اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص بجٹ کی اجرائی باقی

بیرون ممالک اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص بجٹ کی اجرائی باقی

فی کس پانچ لاکھ کے حساب سے 16 کروڑ روپیوں کی اجرائی کے لیے حکومت سے محکمہ اقلیتی بہبود کی نمائندگی
حیدرآباد۔/12اگسٹ،(سیاست نیوز) اقلیتی طلبہ کیلئے بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کی اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کیلئے جملہ 280 امیدواروں کو مستحق قرار دیا گیاہے تاہم حکومت کی جانب سے اس اسکیم کیلئے مختص کردہ بجٹ کی اجرائی ابھی باقی ہے۔ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں نے پہلے مرحلہ کے طور پر امیدواروں کو 5لاکھ روپئے کے حساب سے 16کروڑ روپئے کی اجرائی کی حکومت سے درخواست کی ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود محمد جلال الدین اکبر نے منظورہ امیدواروں کی فہرست اور درکار بجٹ کی تفصیلات آج انچارج سکریٹری اقلیتی بہبود شریمتی جی ڈی ارونا کو روانہ کی ہے تاکہ محکمہ فینانس سے بجٹ کی اجرائی کیلئے مساعی کی جاسکے۔ حکومت نے اس اسکیم کیلئے 25کروڑ روپئے مختص کئے تھے لیکن ابھی تک ایک قسط بھی جاری نہیں کی گئی۔ مستحق امیدواروں کے انتخاب کی تکمیل کے بعد بجٹ کی اجرائی ناگزیر ہوچکی ہے

 

کیونکہ ایسے امیدوار جنہوں نے بیرونی یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرلیا ہے انہیں پہلی قسط جاری کرنا پڑیگا۔ پہلی قسط کے طور پر 5لاکھ روپئے اور ایک طرف کا فضائی کرایہ امیدواروں کے اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا۔ اس اسکیم کیلئے جملہ 513امیدواروں نے درخواستیں داخل کی تھیں اور سلیکشن کمیٹی نے طئے شدہ قواعد اور معیارات کے مطابق 280 امیدواروں کو مستحق قرار دیا ہے۔ 455 طلباء اور 58 طالبات نے اس اسکیم کیلئے درخواستیں داخل کی تھیں۔ 233 درخواستوں کو مسترد کردیا گیا جن میں 60درخواستیں ایسی ہیں جو نامکمل تھیں اور متعلقہ امیدوار دستاویزات کی جانچ کیلئے موجود نہیں تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض ایسے امیدواروں نے بھی درخواستیں داخل کی تھیں جو اسکیم کے اعلان سے قبل ہی بیرون ملک روانہ ہوچکے تھے، انہوں نے مختلف یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرلیا اور وہاں سے آن لائن درخواست داخل کی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اوورسیز اسٹڈیز اسکیم برائے میناریٹیز سے استفادہ کیلئے ایسے طلبہ اہل قرار پاتے ہیں جو 19مئی کے بعد بیرون ملک تعلیم کیلئے روانہ ہوئے ہوں۔ 19مئی کو حکومت نے اس اسکیم سے متعلق جی او ایم ایس 24 جاری کیا تھا، اس سے قبل بیرون ملک جانے والے طلبہ اسکیم کیلئے مستحق نہیں ہوں گے۔ جاریہ سال پہلی مرتبہ اس اسکیم کا آغاز عمل میں آیا اور 280 طلبہ منتخب کئے گئے جن میں 263 مسلم طلبہ ہیں جبکہ 15کا تعلق عیسائی طبقہ سے ہے۔ جین اور سکھ طبقات سے ایک، ایک امیدوار مستحق قرار دیا گیا۔ سب سے زیادہ 212امیدوار حیدرآباد سے منتخب ہوئے ہیں جبکہ 172 درخواستیں مسترد کی گئیں۔ رنگاریڈی کے 24امیدوار منتخب ہوئے جبکہ دیگر اضلاع میں عادل آباد 5، کریم نگر 8، کھمم ایک، محبوب نگر 7، میدک 3، نلگنڈہ 6، نظام آباد 4 اور ورنگل سے 10امیدوار منتخب قرار پائے ہیں۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو امید ہے کہ حکومت جلد ہی پہلی قسط کے طور پر 16کروڑ روپئے جاری کردے گی۔ طلبہ کو پہلی قسط کی رقم یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے کے بعد اڈمیشن کارڈ اور روانگی سے متعلق بورڈنگ کارڈ کی کاپی روانہ کرنے کے بعد ہی ادا کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT