Tuesday , September 26 2017

آج یوم آزادی، وزیراعظم مودی ترنگا لہرائینگے
نئی دہلی، 14 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام) گرداسپور اور ادھم پور میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے پیش نظر کل یوم آزادیٔ ہند کے موقع پر ملک بھر میں سخت ترین سکیوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں اور خاص طور پر قومی دارالحکومت میں انتظامات پر خاص توجہ دی گئی ، جہاں وزیراعظم نریندر مودی قومی پرچم ’ترنگا‘ لہرائیں گے۔

 

17 ویں صدی میں تعمیر کردہ تاریخی لال قلعہ اور اس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں ہمہ پرتی سکیوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ وزیر اعظم مودی لال قلعہ کی فصیل سے قوم سے خطاب کریں گے ۔ لال قلعہ پر وزیر اعظم کیلئے بلٹ پروف شیشے کا انکلوژر قائم کیا گیا ہے لیکن ابھی واضح نہیںکہ آیا وہ اس بلٹ پروف انکلوژر سے ہی خطاب کریں گے یا سال گزشتہ کی طرح کھلے حصے سے مخاطب ہوں گے ۔ لال قلعہ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بھی فضائی خطے کو ’نو فلائی زون‘ قرا دیدیا گیا ہے جبکہ یہاں دہلی پولیس اور مرکزی نیم فوجی دستوں کے ہزاروں اہلکاروں کو متعین کردیا گیا ہے تاکہ کسی بھی طرح کی شرارت اور ناخوشگوار واقعہ کو ٹالا جاسکے ۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ اس کے علاوہ دارالحکومت میں اہم تنصیبات پربھی سکیوریٹی کو انتہائی سخت کردیا گیا ہے ۔ اسی طرح کی سخت ترین سکیوریٹی کے انتظامات ملک کی تمام ریاستوں کے دارالحکومتوں میں بھی کئے گئے ہیں، حالانکہ انٹلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے کل کسی طرح کے امکانی خطرہ کی کوئی اطلاع نہیں ہے

 

لیکن وزارت داخلہ کی جانب سے ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ کہ وہ حالیہ گرداسپور اور ادھم پور حملوں کے پیش نظر سکیوریٹی انتظامات سخت ترین کردیں۔ جو اطلاعات ملی ہیں اور مختلف ریاستوں کی انٹلیجنس ایجنسیوں کی اطلاعات کی بنیاد پر خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپس اور ان سے الحاق رکھنے والے ہندوستانی گروپس جیسے انڈین مجاہدین اور سابقہ سیمی کے ارکان امکانی طور پر لوٹس مندر ‘ میٹرو اسٹیشنوں ‘ بی جے پی دفاتر اور سیاسی شخصیتوں وغیرہ کو دہلی یا پڑوسی نوئیڈا میں نشانہ بناسکتے ہیں۔ دہلی پولیس اور مرکزی ایجنسیوں کی جانب سے ان مقامات پر قریبی نظر رکھی جائے گی ۔ یہاں کوئیک ری ایکشن ٹیمیں ‘ بم کو ناکارہ بنانے والے اور ڈاگ اسکواڈز بھی وہاں موجود رہیں گے ۔ اس کے علاوہ دہلی پولیس کی کمانڈو یونٹ کو بھی متعین کیا جائیگا ۔ قومی دارالحکومت میں سکیوریٹی انتظامات کے طور پر جملہ 40,000 اہلکاروں کو متعین کیا جا رہا ہے جن میں سے 6,000 لال قلعہ پر نظر رکھیں گے جہاں وزیر اعظم قومی پرچم لہرانے کے بعد قوم سے خطاب کریں گے ۔ حساس مقامی پر دستوں کی تعیناتی کے علاوہ وزیر اعظم اور دیگر شخصیتوں کی روٹس پر سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی نظر رکھی جائے گی۔ لال قلعہ اور اس کے اطراف میں تقریبا  500 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں ۔ ایک مرکزی کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے ۔ جموں و کشمیر ‘ شمال مشرقی ریاستوں اور نیپال و بنگلہ دیش کی سرحد پر بھی سکیوریٹی سخت کردی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT