Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / تعلیم کامیابی کی کلید سندر پچائی چینائی سے گوگل کے سی ای او تک

تعلیم کامیابی کی کلید سندر پچائی چینائی سے گوگل کے سی ای او تک

محمد ریاض احمد

تقدیر کسی پر یوں ہی مہربان نہیں ہوتی۔ قدرت نے حضرت انسان کو عقل سلیم عطا کرکے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا اسے ہر قسم کے علوم سے نوازا۔ ساتھ ہی یہ بھی پیام اس کی گٹھی میں بٹھادیا کہ ’’کر محنت کھا نعمت‘‘ چنانچہ قدرت کی عطا کی ہوئی عقل سلیم کا استعمال کرتے ہوئے انسان نے محنت شروع کی اور اسے اپنی محنت کا پھل ملنے لگا۔ دنیا میں بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ انسان کے رکھ رکھاؤ، کھانے پینے رہنے پہننے (لباس) کے انداز میں مسلسل تبدیلیاں آتی رہیں اور اب ایسا دور آچکا ہے کہ انسان کی سوچ و فکر تدبر و تفکر کے نتیجہ میں قدرت نے اس کے لئے آسمانوں میں سفر کو آسان بنادیا۔ مختلف سیاروں پر اس نے قدم رکھ دیئے حد تو یہ ہے کہ انسان نے چاند پر کمند ڈال دیں ہیں۔ دوسری جانب انفارمیشن ٹکنالوجی نے مختلف اقوام و ملکوں کے درمیان فاصلے کو اس قدر گھٹادیا ہے کہ کبھی ایک خط یا پیام کے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے میں برسوں اور مہینے لگ جاتے تھے اب دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کوئی پیام بھیجا جاتا ہے تو وہ صرف چند سکنڈس میں ہی اُس شخص کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے جس کے لئے وہ پیام بھیجا گیا تھا۔ اس کرۂ ارض کو عالمی گاؤں میں تبدیل کرنے کا سہرا انفارمیشن ٹکنالوجی کے سر جاتا ہے، اس کا کریڈٹ اس شعبہ میں تحقیق کرنے والے اسکالرس کو جاتا ہے۔

زندگی کے مختلف شعبوں میں ہمیشہ ہندوستانیوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ ریاضی، علم نجوم، علم فلکیات، دیگر سائنسی علوم وغیرہ میں ہندوستانی سائنسدانوں کی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ باودھیانہ نے ریاضی، کنڑا نے کیمیاء، چراکا نے طبیعیات، اچاریہ پنجالی نے صحت سے متعلق، کسرت ، کے پنگالا نے عروض، آریہ بھٹ نے ریاضی اور علم فلکیات وراہمی ہیرانے علم نجوم، برہما گپتا نے ریاضی، ، ناگر جنا نے ریاضی، علم معدنیات، ہلا پودھا نے ریاضی مہاویر (مہاویر جین نہیں) نے ریاضی، سدھارنے ریاضی آریہ بھٹ دوم نے ریاضی، برہمادیوا نے ریاضی اور دیگر علوم بھاسکر اچاریہ نے جو بھاسکرا دوم کے نام سے جانے جاتے ہیں ریاضی کے الجبرا اور جیومیٹری، سی وی رمن نے رمن ایفکٹ، حضرت ٹیپو سلطان شہید نے آلات حربی کے شعبوں میں اپنی تحقیق اور ایجادات کے ذریعہ انقلاب برپا کردیا۔ ہندوستانیوں کے بارے میں دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ یہ سب ذہین ، فطین اور محنتی ہوتے ہیں کسی کام کا آغاز کرتے ہیں تو اسے پائے تکمیل تک پہنچائے بناء نہیں رہتے جدید ہندوستان کی تاریخ میں ہمیں سی وی رمن، ہومی جے بھابھا، سبرامنین چندرشیکھر، شیندرا ناتھ یوسی، سرینواس رامانجم، پرسانتا چندرا مہالا نو بیز، وکرم سارا بھائی، ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام، میگھ نند سہائے، بریل ساہنی، پرفل چندرارے، شانتی سروپ بھٹناگر، راجہ رمنا، سی این راؤ، ہریش چندرا، جی این رامچندرن، ابھاس مترا، امل کمار، رائے چودھری، انا ماتی، پلا پرگڈہ سباراؤ ، راجیشوری چٹرجی، وینکٹ رامن رادھا کرشنن، ایم ایس سوامی ناتھن، اشوک سپن، عبید صدیقی، گوہر رضا، سالم علی جیسے بے شمار سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں جنھوں نے نہ صرف اپنے ملک بلکہ انسانیت کے لئے بھی کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ ہندوستانیوں کی صلاحیتوں سے ساری دنیا نے استفادہ کیا ہے۔ چنانچہ عالمی سطح کی بڑی بڑی کمپنیوں میں ہزاروں ہندوستانی اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جاریہ سال 4 فروری کو حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 47 سالہ ستیہ نادیلا کو مائیکرو سافٹ کا چیف ایکزیکٹیو آفیسر مقرر کیا گیا اور اب چینائی (مدراس) سے تعلق رکھنے والے سندر پچائی کو دنیا کے سب سے بڑی سرچ انجن کمپنی گوگل کا چیف ایکزیکٹیو آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ دنیا میں گوگل سرچ انجن اور اس امریکی ملٹی نیشنل کمپنی کی دیگر خدمات سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد اربوں میں پہنچ چکی ہے۔ گوگل کا کروم پراسسر اور انڈرائیڈ موبائیل سافٹ ویر اربوں کی تعداد میں لوگ استعمال کرتے ہیں لیکن ان افراد نے کبھی سندر پچائی کا نام بھی نہیں سنا ہوگا۔

سندر پچائی کے بارے میں کہا جاتا کہ وہ انتہائی سادگی پسند، نمود و نمائش و شہرت سے دور رہنے والی شخصیت ہیں لیکن کام کے مقامات کی سیاست سے خود کو دور رکھتے ہوئے انھوں نے ہمیشہ اپنے فرائض کی پیشہ وارانہ انداز میں ادائیگی کو ترجیح دی جس کے نتیجہ میں ان کا نام گوگل کو مقبولیت اور کامیابی کی بلندیوں پر پہنچانے والی ٹیم کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے لیا جاتا ہے۔ پچائی نے گوگل میں جو بھی کام کیا اور فرائض انجام دیئے اس کا اثر دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں افراد کی زندگیوں پر ضرور پڑا۔ ان میں خانہ دار خواتین سے لے کر کاروباری اداروں کے مالکین، ذرائع ابلاغ کی ممتاز و معروف شخصیتیں تفریح و طبع کے شعبہ سے وابستہ ماہرین اور مقبول مرد و خواتین، طلباء و طالبات، اساتذہ غرض زندگی کے ہر شعبہ سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ کروم پراسسر، گوگل ٹول بار، ڈیسک ٹاپ سرچ اور گیاڈ گیٹس جیسے ڈیسک ٹاپ پراڈکٹس اور بالخصوص انڈرائیڈ گوگل کے ایسے پراڈکٹس ہیں جنھوں نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کردیا۔ ان پراڈکٹس کے پیچھے چینائی میں پیدا ہوئے سندر پچائی کا اہم رول رہا۔ آئی آئی ٹی کھڑک پور سے انجینئرنگ کرکے اسٹانفورڈ یونیورسٹی امریکہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے پچائی کو ان کی لیاقت کا صلہ مل گیا۔ چینائی میں پلے بڑے پچائی نے آئی آئی ٹی کھڑک پور سے میٹلرجی انجینئرنگ میں بی ای کیا اور پھر انجینئرنگ میں ماسٹرس کرنے کی خاطر اسٹانفورڈ یونیورسٹی امریکہ میں داخلہ لیا۔

ماسٹرس کی تکمیل کے ساتھ ہی وارتن یونیورسٹی اسکول آف دی یونیورسٹی آف پنسلوانیہ سے ایم بی اے کی تکمیل کی اور سیبل اسکالر اور پالمر اسکالر جیسے اعزازات بھی حاصل کئے۔ گوگل میں شمولیت سے قبل پچائی نے اپلائیڈ میٹرئیلس میں ایک انجینئر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور پھر میکنسے اینڈ کمپنی میں مینجمنٹ کنسلٹنٹ کے طور پر نمایاں کام کیا۔ 43 سالہ پچائی نے سال 2004 ء میں گوگل میں اس کے پراڈکٹس مینجمنٹ شعبہ کے نائب صدر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی اور کروم پراسسر پر کام کرنے والی ٹیم کی قیادت کا انھیں اعزاز حاصل ہوا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ گوگل کروم کی لانچنگ میں کم از کم چار سال کی تاخیر ہوگی لیکن پچائی کی مدبرانہ قیادت نے اس کے نہ صرف وقت مقررہ پر آغاز کو یقینی بنایا بلکہ فائر فاکس اور مائیکرو سافٹ کے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو بھی پھیکا کرکے دنیا کا مقبول ترین ویب براؤسر بنا دیا۔ اس کی وجہ اس کی تیزی اور پیچیدہ نہ ہونا ہے۔ سال 2014 ء میں پچائی کو گوگل پراڈکٹس کا سربراہ بنایا گیا۔ یہ ایسی ذمہ داری تھی جس نے انھیں وادی سلیکان کی اہم اور بااثر شخصیتوں میں شامل کردیا۔ اس طرح وہ گوگل کے اہم ترین پراڈکٹس جیسے گوگل سرچ اینڈ رائیڈ ، کروم، انفراسٹرکچر، کامرس، ایپس، گوگل ایپس اور اس کے تجارتی حل کے راست ذمہ دار بن گئے۔ تب سے وہ گوگل کے بانی لاری پیچ کے دست راز سمجھے جانے لگے۔ پچائی گوگل کی خوبی بیان کرنے کے لئے بہت زیادہ الفاظ کا سہارا نہیں لیتے بلکہ ان کے بقول گوگل ایسا سرچ انجن ہے جس تک رسائی ایک دیہی لڑکے سے لے کر اسٹانفورڈ یا ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سب کے لئے آسان ہے۔

واضح رہے کہ جاریہ سال کے اوائل میں سندر پچائی سے ٹوئٹر جیسی کمپنی بھی رجوع ہوئی تھی تاکہ اس کے پراڈکٹ ٹیم کی قیادت انھیں سونپی جاسکے لیکن انھوں نے بڑی انکساری کے ساتھ اس پیشکش کو مسترد کردیا۔ جب اگست 2013 ء میں مائیکرو سافٹ کے سی ای او پالمر نے اپنے استعفے کا اعلان کیا تب بھی اس باوقار عہدہ کے لئے سندر پچائی کا نام لیا گیا تھا۔ گوگل کا چیف ایکزیکٹیو آفیسر مقرر کئے جانے کے ساتھ ہی ہر ایک کی زبان پر سندر پچائی کا نام ہے۔ یہ وہی سندر پچائی ہے جنھیں آئی آئی ٹی کھڑک پور کے پروفیسرس پی سندرا جن کے نام سے جانتے ہیں۔ 1989 ء میں جب انھوں نے آئی آئی ٹی کھڑک پور کے میٹلرجی ڈپارٹمنٹ کے بی ای کورس میں داخلہ لیا تھا تب سے لے کر امریکہ روانگی تک وہ سندر راجن ہی تھے۔ آئی آئی ٹی کھڑک پور کے نہرو ہال ہاسٹل میں رہا کرتے تھے۔ سندر پچائی کے استاد 69 سالہ سنت کمار رائے کے مطابق 44 سال سے وہ طلبہ کو پڑھارہے ہیں اپنے طلبہ کی کامیابی کی داستانیں ہی ان کے اطمینان کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ پچائی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک نرم گو اور بااخلاق طالب علم تھے۔ سندر نے پہلے ہی سال سے میٹلرجی شعبہ میں اعلیٰ مقام حاصل کرنا شروع کیا۔ 1992 ء میں سندر پچائی میٹلرجی بی ای میں نہ صرف ٹاپر رہے بلکہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کے باعث سلور میڈل بھی حاصل کیا۔ 12 جولائی 1972 ء کو پیدا ہوئے سندر پچائی کرکٹ کے اچھے کھلاڑی ہیں۔

انھوں نے چینائی میں اپنے اسکول شیشادری بال بھون ٹیم کی قیادت بھی کی۔ پچائی کوئی دولت مند خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے ان کا خاندان دو کمروں کے ایک اپارٹمنٹ میں مقیم تھا۔ حد تو یہ ہے کہ ان کے گھر میں ٹی وی اور کار بھی نہیں تھی۔ تاہم پچائی کے والد نے اپنے بیٹے کے ذہن میں ٹکنالوجی کی اہمیت بٹھادی۔ پچائی کے والد رگھو ناتھ پچائی جو خود الکٹریکل انجینئر ہیں کے مطابق وہ اپنے دفتر سے واپس ہوکر سندر سے ٹکنالوجی کے بارے میں بہت زیادہ تبادلہ خیال کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ انھیں الیکٹرانک کے شعبہ میں کس قسم کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پچائی کے والد کے مطابق سندر ٹیلی فون نمبرات یاد کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آئی آئی ٹی کھڑک پور سے گریجویشن کی تکمیل کے بعد انھیں اسٹانفورڈ کی طرف سے اسکالرشپ کی پیشکش کی گئی۔ اس وقت طیارہ کا ٹکٹ پچائی کے والد کی سالانہ تنخواہ سے بھی زیادہ قیمت کا تھا۔ جہاں تک گوگل کا سوال ہے یہ دراصل ایک امریکی ملٹی نیشنل کمپنی ہے جو انٹرنیٹ سے متعلق خدمات اور پراڈکٹس کے کاروبار سے جڑی ہوئی ہے۔ جن میں آن لائن اڈورٹائزنگ، ٹکنالوجیز، سرچ، کلاوڈ کمپوٹنگ اور سافٹ ویر شامل ہیں۔ اس کا زیادہ تر منافع Adwards سے حاصل ہوتا ہے۔ گوگل لاری پیج اور سرگے رین نے اس وقت قائم کیا جب وہ اسٹانفورڈ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کررہے تھے۔ اس کا نعرہ Dont be Evil ’’شیطان مت بنو‘‘ ہے اس کمپنی کو ساری دنیا کے ڈاٹا سنٹرس میں دو ملین سے زائد سرورس چلانے کا اعزاز حاصل ہے۔ گوگل ڈاٹ کام دنیا میں سب سے زیادہ مشاہدہ کی جانے والی ویب سائٹ ہے۔ 4 ستمبر 1998 ء کو قائم کردہ گوگل کے ملازمین کی تعداد تقریباً 60 ہزار ہے۔ اُمید ہے کہ سندر پچائی ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی طرح تمام چیالنجس کا کامیابی سے مقابلہ کریں گے۔
[email protected]

Top Stories

TOPPOPULARRECENT