Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / جموں و کشمیر میں علاقائی اور مذہبی منافرت پھیلانے کی سازش

جموں و کشمیر میں علاقائی اور مذہبی منافرت پھیلانے کی سازش

تفرقہ پرست لیڈروں کو باز رکھنے ریاستی گورنر سے نیشنل کانفرنس کا مطالبہ
نئی دہلی ۔ 16 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) نیشنل کانفرنس قائدین کے ایک وفد نے آج گورنر جموں و کشمیر این این ووہرا قے ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کرتے ہو ئے یہ الزام عائد کیا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بی جے پی حکومت ریاست میں عدم تحمل کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔ ریاست میں عدم رواداری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے ریاستی گورنر سے اپیل کی کہ اپنے اخلاقی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے تفرقہ پرست سیاستدانوں کو نفرت کی سیاست سے باز رکھیں اور جذبہ ایثار و محبت اور بھائی چارہ کی بنیاد پر سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے پہل کریں۔ پارٹی کے 16 رکنی وفد کے لیڈر اور صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا نے آج یہ اطلاع دی اور بتایا کہ ریاست کے 3 علاقوں کو مذ ہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ریاستی گورنر وہرا کے ساتھ ملاقات کے دوران وفد نے بتایا کہ ایک مخصوص سیاسی نظریات کو مسلط کرنے کیلئے تفرقہ پرست عناصر نفرت کا زہر گھولنے کی کوشش میں ہے ۔ انہوں نے یہ بھی شکایت کی کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ جن لیڈروں نے ریاست کے اتحاد کے حفاظت کا حلف لیا وہی اب پس پردہ انتشار پھیلانے میں مصروف ہیں ۔ نیشنل کانفرنس نے یہ الزام عائد کیا کہ حکمراں بی جے پی یہ پروپگنڈہ کر رہی ہے کہ لہیہ کو مرکزی زیر انتظام علاقہ کا موقف حاصل ہوگیا ہے جو کہ مذہبی رواداری کو فرقہ پرستی تبدیل  کرنے کے مترادف ہے ۔ وفد نے بتایا کہ حالیہ اختتام پذیر انتخابات میں بی جے پی نے پہاڑی علاقہ کو مرکزی زیر انتظام علاقہ کے موقف حاصل ہونے کا دعویٰ کیا اور بعض قائدین دستوری عہدوں پر فائز ہوکر جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کی۔ میمورنڈم میں نیشنل کانفرنس نے بتیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ کے موقع پر ریاست کے لئے معلنہ پیکیج سے وہ مطمئن نہیں ہیں چونکہ یہ پیکیج اعداد و شمار کے ہیر پھیر کے سواء کچھ بھی نہیں ہے جس میں ترقی کیلئے نہ کوئی نشانہ مقرر ہے اور نہ ہی کوئی سمت متعین کی گئی ہے جبکہ پیکیج میں بیروزگاروں اور سیلاب کے متاثرین کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے معلنہ پیکیج میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے تارکین (ریفوجیز) کی بازآباد کاری کے صرف 2000 کروڑ مختص کئے گئے جو کہ نشینل کانفرنس حکومت کے فنڈس سے بھی انتہائی کم ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT