Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ہمیں نہیں روس کو معذرت خواہی کرنی چاہئے: اردغان

ہمیں نہیں روس کو معذرت خواہی کرنی چاہئے: اردغان

آئی ایس سے تیل کی خریدی کا ثبوت پیش کیاجائے ، ترکی میں اسلامی نظام پر پوٹین کے تبصرہ پر شدید ردعمل

استنبول ؍ ماسکو 26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کی جانب سے روسی جیٹ طیارے کو مار گرائے جانے کے واقعہ پر کشیدگی کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے آج واضح طور پر کہاکہ اُن کا ملک اِس واقعہ کے لئے معذرت خواہی نہیں کرے گا۔ اُنھوں نے سی این این انٹرنیشنل کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہاکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اِس معاملہ میں کوئی فریق ایسا ہے جسے معذرت خواہی کرنی چاہئے۔ ہمارے فضائی حدود کی جس نے خلاف ورزی کی، معذرت خواہی تو وہ کریں۔ ہمارے پائلیٹس اور ہماری مسلح فورس نے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔ اس سے پہلے صدر روس ولادیمیر پوٹین نے کہا تھا کہ ترکی نے روسی جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے لئے اب تک معذرت خواہی نہیں کی ہے اور اُس نے یہ بھی یقین دہانی نہیں کرائی کہ اِس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دی جائے گی۔ کریملین میں پوٹین نے شکایت کی کہ اب تک ترکی نے نقصانات کی پابجائی کے ضمن میں کوئی قدم آگے نہیں بڑھایا۔ روس نے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اُس کے طیارے نے ترکی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ پوٹین نے یہ بھی کہاکہ ترکی اور روس کے مابین روابط تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس دوران وزیر خارجہ ترکی مولود کاسووگلو نے آج کہا کہ ان کا ملک روسی طیارہ کو شامی سرحد کے قریب مار گرائے جانے پر معذرت خواہی نہیں کرے گا۔ اُنھوں نے 25 نومبر کو روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے فون پر ہوئی بات چیت کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا

کہ اِس واقعہ پر اُنھیں افسوس ہے۔ سی این این انٹرنیشنل کو انٹرویو سے پہلے رجب طیب اردغان نے دیہاتوں کے سربراہوں کے گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کو نشانہ بنانے کی ترکی کے پاس کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہم علاقہ میں امن اور استحکام کے لئے ممکنہ کوشش کررہے ہیں۔ ہم نے کبھی کشیدگی پیدا نہیں کی اور روس کو نشانہ بنانے کی کوئی وجہ نہیں ہے جس کے ساتھ ہمارے ہمہ مقصدی اور انتہائی مستحکم روابط ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر یہ پتہ ہوتا کہ جنگی طیارہ روس کا ہے تو ہمارا رویہ کچھ اور ہوتا۔ انھوں نے کہاکہ مشترکہ پراجکٹس کو عارضی طور پر روکا جاسکتا ہے، روابط کو منقطع کیا جاسکتا ہے لیکن کیا کسی سیاستداں کے لئے یہ سب کچھ موزوں ہوگا؟ وزیر خارجہ روس کے اِس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ آئی ایس آئی ایل سے تیل خریدا جارہا ہے، طیب اردغان نے کہاکہ اِس طرح کی بات کرنے والوں کو اپنے دعوے کا ثبوت بھی پیش کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہاکہ کوئی بھی شخص ہمارے ملک کو بدنام نہیں کرسکتا۔ اگر داعش کو مالی طاقت و اسلحہ کے ذرائع کے بارے میں آپ کو فی واقعی جاننا ہو تو سب سے پہلے صدر شام بشارالاسد کے دور اقتدار اور اس حکومت کی مدد کرنے والے ممالک پر نظر ڈالنی ہوگی۔ اسی طرح صدر روس ولادیمیر پوٹن کے اس بیان پر کہ ترکی کی موجودہ قیادت دانستہ طور پر ملک کو اسلامی طرز پر ڈھالنے کی بھرپور تائید کررہی ہے، طیب اردغان نے کہاکہ ترکی کی 99 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ آخر آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ کیا کبھی انھوں نے ایسا بیان دیا ہے کہ آپ کا انتظامیہ روس کو عیسائیت میں ڈھالنے کی کوشش کررہا ہے۔ وہاں 30 ملین مسلمان رہتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ طیب اردغان ایک مسلمان ہیں اور اس ملک کی 99 فیصد آبادی بھی مسلمان ہے۔ اس کے بعد ایسی کسی کوشش کی ضرورت ہی کیا باقی رہتی ہے۔ ہم تمام تر کوشش یقینا وہی کررہے ہیں جس کی ہمارا مذہب تعلیم دیتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT