Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ پر فرقہ پرستوں کی نظر

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ پر فرقہ پرستوں کی نظر

BSP Chief Mayawati at the press conference in New Delhi on Tuesday. Express Photo by Prem Nath Pandey. 22.09.2015.

اقلیتی موقف برخاست کرنے کی کوششیں سیاسی فرقہ پرستی کی بدترین مثال، سابق چیف منسٹر یوپی مایاوتی کا بیان

لکھنؤ 28 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے مرکز کی نریندر مودی حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی موقف کو برخاست کرنے کی سازش کوشش کررہی ہے۔ انھوں نے حکومت کے ایسے کسی قدم کو ’’فرقہ پرستانہ اور سیاسی مقصد براری‘‘ پر مبنی قرار دیا۔ مایاوتی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت ان تعلیمی اداروں کے اقلیتی موقف کو برخاست کرنا چاہتی ہے جبکہ ان اداروں کا قیام کافی جدوجہد اور محنت کے بعد عمل میں آیا ہے۔ حکومت کی یہ کوتاہ ذہنی ملک کے وقار کو ٹھیس پہونچا سکتی ہے۔ حکومت کی یہ حرکت طلباء کو مذہبی اقلیتوں کا یتیم و یسیر بنانا چاہتی ہے۔ بی جے پی حکومت کا یہ فرقہ پرستانہ مقصد پر مبنی اقدام دراصل سیاسی مفادات کے لئے ہے۔ وہ اترپردیش کے بشمول بعض ریاستوں میں آنے والے اسمبلی انتخابات سے قبل اپنے ووٹ بینک کو مضبوط بنانے کی غرض سے نازک اقلیتی مسائل سے چھیڑ چھاڑ کررہی ہے۔ ذات پات اور فرقہ پرستانہ خطوط پر ووٹوں کو منقسم کرنے بی جے پی اپنے مقاصد کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی کے مقاصد کی بھی تکمیل کرنا چاہتی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیاکہ یو پی کی حکومت نے ان اداروں کے اقلیتی موقف کو کمزور کرنے کے لئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ ہم اس منطق کو مسترد کرتے ہیں کہ ان اداروں میں دلتوں اور او بی سیز کو تحفظات حاصل ہوں گے۔ انھوں نے مزید کہاکہ دلتوں کو مذہبی اقلیتیں سمجھا جاتا ہے کیوں کہ انھوں نے ہندو سسٹم میں پائے جانے والے امتیازات کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

 

بی ایس پی نے ہمیشہ ان کے لئے تحفظات کی حمایت کی ہے۔ اگر بی جے پی حکومت کو دلتوں اور او بی سیز کی بہبود کی فکر ہے تو ملک بھر کے تمام پرائمری اور سکنڈری اسکولس کی حالت بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ تاکہ دلت طلباء ترقی پاسکیں۔ حکومت مثبت قدم اٹھانے کے بجائے ووٹوں کو منقسم کرنے کے لئے مفادات سے بھرپور اقدام کرنا چاہتی ہے۔ یہ بڑی بدبختی کی بات ہے کہ حکومت کے قول و فعل میں بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ اسی دوران مہاراشٹرا کے سیانی سنگھن پور مندر میں داخلہ پر پابندی کے خلاف خواتین کی جانب سے کئے جارہے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے مایاوتی نے کہاکہ اس سے غلط ذہنیت آشکار ہوتی ہے۔ غلط ذہنیت کی وجہ سے ہی خواتین کو بعض مندروں میں داخلہ کی اجازت نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں مہاراشٹرا میں احتجاج جاری ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ پوجاریاں اور پنڈت اس کی مخالفت کررہے ہیں جبکہ وہ یہ بھول رہے ہیں کہ ان کا جنم بھی ایک خاتون کی کوکھ سے ہوا ہے اسی لئے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر ہندو کوڈ بل جاری کرنا چاہتے تھے جس میں خواتین کو یکساں حقوق فراہم کئے جاسکیں لیکن وہ بل منظور کرانے میں ناکام رہے۔ جب سے مرکزی وزیر وی کے سنگھ نے دلتوں کے خلاف قابل اعتراض بیانات دیئے ہیں دلتوں پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ آر ایس ایس اور دیگر زعفرانی تنظیمیں پس منظر میں اپنا کھیل کھیل رہی ہیں جب تک وی کے سنگھ کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی، دلتوں پر مظالم بند نہیں ہوں گے۔ حیدرآباد یونیورسٹی میں ایک دلت طالب علم کو خودکشی کے لئے مجبور کیا گیا کیوں کہ اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT