Saturday , August 19 2017

محمد عبد القادر
والدین کی خدمت جہاد سے افضل

قرآن اور احادیث میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی بہت تاکید آئی ہے۔ بندوں کے حقوق میں سب سے زیادہ حق والدین کا رکھا گیا ہے۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالی نے اپنی توحید و عبادت کا حکم دینے کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے، جس سے اس امر کی وضاحت بخوبی ہو جاتی ہے کہ ربوبیت کبریٰ (یعنی اللہ تعالی کی عبادت) کے تقاضوں کو صحیح طریقے سے وہی سمجھ سکتا اور انھیں ادا کرسکتا ہے، جو ربوبیت صغریٰ (یعنی والدین) کی اطاعت و خدمت کے تقاضوں کو سمجھتا اور ادا کرتا ہے۔ جو شخص یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ دنیا میں اس کا وجود والدین کی باہم قربت کا نتیجہ اور ان کی تربیت، ان کی غایت مہربانی اور شفقت کا ثمرہ ہے، اس لئے مجھے ان کی خدمت میں کوئی کوتاہی اور ان کی اطاعت سے سرتابی نہیں کرنی چاہئے۔ وہ یقیناً خالق کائنات کو سمجھنے اور اس کی توحید و عبادت کے تقاضوں کی ادائیگی سے بھی قاصر رہے گا۔ ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے اور اس حسن سلوک کی توفیق کو دونوں جہان کی سعادت سمجھنا چاہئے۔ اللہ تعالی کے بعد انسان پر سب سے زیادہ حق ماں باپ ہی کا ہے۔ ماں باپ کے حق کی اہمیت اور عظمت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن پاک میں جگہ جگہ ماں باپ کے حق کو اپنے حق کے ساتھ بیان کیا ہے اور اپنی شکر گزاری کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی شکر گزاری کی تاکید کی ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے: ’’اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو‘‘۔ (سورۃ النساء۔۳۶)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اور اللہ تعالی کی رضا اور حصول ثواب کی خاطر جہاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی) اور عرض کیا کہ ’’میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں‘‘۔ آپﷺ نے پوچھا: ’’کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟‘‘۔ اس نے کہا: ’’جی ہاں زندہ ہیں‘‘۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’تو پھر ان کی خدمت کرکے جہاد کرو‘‘۔ (بخاری و مسلم)

اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر والدین کو خدمت کی ضرورت ہو تو جب تک جہاد فرض عین نہ ہو جائے، اس وقت تک ان کی خدمت میں مشغول رہنا جہاد میں جانے سے افضل ہے اور یہ واقعہ عام طور سے مسلمان جانتے ہیں کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ یمن کے باشندے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے آنا چاہتے تھے، لیکن چوں کہ ان کی والدہ کو خدمت کی ضرورت تھی، اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنے پاس آنے سے منع فرماکر والدہ کی خدمت کا حکم دیا۔ چنانچہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کرسکے، لیکن والدہ کی خدمت کی بدولت اللہ تعالی نے ان کو وہ مقام بخشا کہ بڑے بڑے صحابہ کرام ان سے دعا کرواتے تھے۔ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت فاروق اعظم انتہائی اشتیاق کے ساتھ ان سے ملنے اور ان سے دعا لینے کے لئے تشریف لے گئے۔
والدین کے ساتھ حسن سلوک عام حالات میں ایسا عمل ہے، جس میں محنت و مشقت زیادہ نہیں ہے، کیونکہ ہر انسان کو فطری طورپر اپنے والدین سے محبت ہوتی ہے، اس لئے ان کی خدمت اور حسن سلوک پر دل خود ہی آمادہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف والدین کو اپنی اولاد پر جو شفقت ہوتی ہے، اس کی وجہ سے وہ خود اپنی اولاد سے ایسا کام لینا پسند نہیں کرتے، جو ان کے لئے زیادہ مشکل ہو، بلکہ معمولی سی خدمت سے بھی وہ خوش ہو جاتے ہیں اور دعائیں دیتے ہیں۔ نیز اللہ تعالی نے اس عمل کو اتنا آسان بنادیا ہے کہ ایک حدیث شریف کے مطابق ’’والدین کو ایک مرتبہ محبت کی نظر سے دیکھ لینا بھی مقبول حج کے ثواب کے برابر ہے‘‘۔ غرض والدین سے محبت رکھ کر ان کی اطاعت اور خدمت کرکے انسان اپنے نامۂ اعمال میں عظیم الشان نیکیوں کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کرسکتا ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم نکتہ اور سمجھ لینا چاہئے کہ جہاد اور دین کی خدمت صرف ان لوگوں کا کام نہیں، جن کے ماں باپ حیات نہ ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم جہاد کرتے تھے، ان میں بڑی تعداد ان ہی کی ہوتی تھی، جن کے ماں باپ زندہ ہوتے تھے، لہذا ہر شخص کو اپنے حالات کے پیش نظر فیصلہ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کی خدمت اور ان کی دعائیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
یاحنان یامنان
غلافِ کعبہ پر ’’یاحنان یامنان‘‘ لکھا ہوتا ہے۔ منان کے معنی احسان کرنے والا یا پھر مانگنے والے کو مانگنے سے پہلے ہی عطا کرنے والا اور جو امید سے بڑھ کر دینے والا ہو، اس کو بھی ’’منان‘‘ کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ’’حنان‘‘ بھی ہے، یعنی سب کو خوش رکھنے والا۔ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ میرا بندہ مجھ سے دُور ہو۔ اگر کوئی بندہ اللہ تعالیٰ سے دور ہو جائے تو اس کے لئے رب تعالیٰ کا دروازہ بند نہیں ہوتا، بلکہ ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے: ’’اے انسان! بڑے کریم پروردگار سے تجھے کس چیز نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے، کیوں اس در سے دور بھاگتا ہے، ذرا میرے در کی طرف تو آ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT