Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / جوبلی ہلز میں زیر تعمیر عمارت منہدم ، 2 افراد ہلاک

جوبلی ہلز میں زیر تعمیر عمارت منہدم ، 2 افراد ہلاک

حیدرآباد ۔ /24 جولائی (سیاست نیوز) شہر کے پاش علاقہ جوبلی ہلز میں ایک زیر تعمیر عمارت منہدم ہونے سے 2 افراد ہلاک اور تقریباً 10 افراد شدید زخمی ہوگئے ۔ متوفی مزدوروں کی شیخ اور آنند کی حیثیت سے شناخت کرلی گئی ہے جن کی عمر 28 اور 30 سال بتائی گئی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ فلم نگر کلچرل کلب کے قریب زیرتعمیر عمارت آج صبح کی اولین ساعتوں میں اچانک منہدم ہوگئی ۔ اطلاع کے ساتھ ہی شہر میں سنسنی پھیل گئی ۔ مقامی عوام نے سرکاری مشنری کے ساتھ تعاون کرکے زخمیوں کو باہر نکالا اور ملبہ میں پھنسے افراد کو عمارت سے نکالتے ہوئے ہاسپٹل منتقل کیا گیا ۔ حادثہ کے بعد میئر حیدرآباد مسٹر بی رام موہن اور کمشنر بلدیہ ڈاکٹر پی جناردھن ریڈی کے علاوہ ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین جائے حادثہ پہونچ گئے اور راحت کاری کے اقدامات کا جائزہ لیا ۔ کمشنر بلدیہ نے عمارت کے انہدام پر فوری تحقیقات کا حکم دے دیا اور زونل کمشنر نے ریاستی وزیر کے ٹی آر کو ہدایت پر بنجارہ ہلز پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ۔ تاہم دوسری طرف بلدیہ کی کلوز ٹیم نے عمارت سے ریتی ، کنکریٹ اور سمنٹ حاصل کی جس کی جانچ کی جائے گی ۔ اس دوران میئر نے متوفی افراد کو 2 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا اعلان کیا اور زخمیوں کا کارپوریٹ ہاسپٹل میں علاج جاری ہے ۔ یہ پہلا واقعہ ہے جس پر اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ تمام سیاسی قائدین نے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے ۔ حادثہ کی اطلاع پاکر مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ فلم نگر پہونچ گئے اور زخمی افراد کو ہر طرح کے تعاون کی مدد کا دلاسا دیا  اور خاطی افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ۔ رکن پارلیمنٹ چیوڑلہ مسٹر کنڈاویشور ریڈی نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور حادثہ پر افسوس ظاہر کیا ۔ کمشنر بلدیہ نے جدید ٹکنالوجی کے آلات اور آفات سماوی کی ٹیم کی جانب سے جاری راحت کاری کے اقدامات کا جائزہ لیا اور فوری تحقیقاتی ٹیم کا اعلان کرکے اندرون ہفتہ رپورٹ پیش کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ۔ فلم نگر کلچرل کلب کے قریب زیر تعمیر اس عمارت کے انہدام کا اصل سبب لاپرواہی تصور کیا جارہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس عمارت کیلئے اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی اور غیر مجاز طریقہ سے عمارت کو تعمیر کیا جارہا تھا ۔ جس کے 10 پلر اچانک منہدم ہوگئے ۔ ذرائع کے مطابق پہلے فلور کی تعمیر کے اندرون 24 گھنٹے دوسرے فلور کی تعمیر کی گئی جس میں معیار کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ تیزی سے جاری تعمیرات پر شبہات میں اضافہ ہوگیا ہے اور بلدی حکام کی مجرمانہ غفلتو اور لاپرواہی حادثات کی وجہ قرار دی جا رہی ہے ۔ عمارت کی تعمیری کاموں کی سرگرمیاں گزشتہ 20 دن سے جاری تھیں ۔ ذرائع کے مطابق زخمیوں کی شناخت سیتارام ، نرسمہا ، چندرایا ، شیوارتنم ، ملیش ، سداپا ، ہنمنتو ، کنڈل راؤ ، ملکارجن راؤ ، چنارپا ، سرینواس اور کوٹیش کی حیثیت سے کی گئی ہے ۔ تاہم اس عمارت کا کنٹراکٹر مفرور بتایا گیا ہے ۔ بعد ازاں چیف منسٹر تلنگانہ نے بھی اس واقعہ پر اپنے گہرے افسوس کا اظہار کیا اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر مسٹر جگن موہن ریڈی نے بھی حادثہ پر اپنا افسوس ظاہر کیا ۔ عمارت کے انہدام پر برہم کانگریس کارکنوں نے فلم نگر کلچرل کلب کے دفتر پہونچکر ردعمل ظاہر کیا اور فرنیچر کو نقصان پہونچایا ۔ کانگریس کے بشمول بی جے پی پارٹی نے بھی 10 لاکھ ایکس گریشیا کا اعلان کیا ۔

TOPPOPULARRECENT