Saturday , October 21 2017

سعودی عرب میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کی تفصیلات سفارت خانہ میں
کارکن 20 کیمپوں میں مقیم ، غذا فراہم۔واپسی ، برقرار رہنے اور منتقلی کے خواہش مندوں کی تفصیلات سے واقفیت

نئی دہلی 2 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے سفارت خانہ نے سعودی عرب میں ہزاروں ہندوستانی کارکنوں کی تفصیلات حاصل کرنا شروع کردی ہیں جو اُن کے آجرین کے کارخانے بند ہوجانے کی وجہ سے بے روزگار ہوگئے ہیں۔ وزیر مملکت برائے خارجہ وی کے سنگھ صورتحال کا تخمینہ کرنے اور وطن واپس ہونے کے خواہاں شہریوں کی واپسی کے انتظامات کرنے کے لئے سعودی عرب کے دورہ پر پہونچنے والے ہیں۔ فی الحال 7700 متاثرہ ہندوستانی کارکن 20 کیمپوں میں مقیم ہیں اور سفارت خانہ اُن سے دیگر مقیم ہندوستانیوں کے بارے میں جو سعودی عرب کے مختلف مقامات پر ہیں، معلومات حاصل کررہا ہے۔ وی کے سنگھ آج رات براہ دوبئی جدہ روانہ ہوجائیں گے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے کہاکہ وہ آئندہ لائحہ عمل کے تعین کے لئے حقیقی تخمینہ کریں گے۔ قبل ازیں آج وی کے سنگھ کے وزارتی ساتھی ایم جے اکبر جو خلیجی علاقہ سے متعلق مسائل کی دیکھ بھال کرتے ہیں، سفیر سعودی عرب سعود بن محمد السطی سے ملاقات کرکے اُنھیں ہندوستانیوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا کیوں کہ اُن کی ملازمتیں ختم ہوگئی ہیں۔ اُنھوں نے ٹوئٹر پر اپنی مسلسل تحریروں میں کہاکہ اُنھیں حکومت سعودی عرب سے تمام زیرالتواء مسائل کی یکسوئی کے لئے تائید و تیقن حاصل ہونے پر بیحد خوشی ہوئی۔ حکومت سعودی عرب نے ہندوستانی مزدوروں کی مشکلات کی یکسوئی کا بھی تیقن دیا ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج کل کہہ چکی ہیں کہ تمام متاثرہ ہندوستانیوں کو وطن واپس لایا جائے گا۔ ہندوستانی سفارت خانہ کی ایک ٹیم نے کل سعودی محکمہ محنت کے عہدیداروں سے ملاقات کرکے کارکنوں کے قانونی بقایہ جات سے متعلق بات چیت کی۔

اِن تمام ہندوستانیوں کے آجرین سعودی عرب سے باہر جاچکے ہیں۔ وکاس سوروپ نے کہاکہ ہندوستانی سفارت خانہ ریاض نے برادری کے سماجی کارکنوں اور رضاکاروں کا ایک اجلاس کل طلب کیا جہاں سفیر نے متاثرہ کارکنوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے اُن سے مدد طلب کی۔ سوروپ نے کہاکہ اُنھیں ایک پروفارما فراہم کیا گیا جس میں متعلقہ معلومات سفارت خانہ کو داخل کی جائیں گی۔ حکومت نے سعودی عہدیداروں سے درخواست کی ہے کہ بے روزگار ہندوستانی کارکنوں کو عدم اعتراض سرٹیفکٹ کے بغیر جو آجرین کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے، خروج کا ویزا جاری کیا جائے۔ اُنھوں نے زور دے کر کہاکہ کارکنوں کے بقایہ جات کئی ماہ سے ادا نہیں کئے گئے ہیں، اِس لئے متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ اُن کے بقایہ جات کی ادائیگی کے بارے میں بات چیت کی جائے۔ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے کہاکہ وی کے سنگھ کل علی الصبح جدہ پہونچیں گے اور جمعہ کی شام کو ہندوستان واپس ہوں گے۔ وکاس سوروپ نے کہاکہ 5072 ہندوستانی کارکن جو سعودی اوگر کمپنی میں برسر روزگار تھے، ریاض کے 9 اور دمام کے ایک کیمپ میں مقیم ہیں۔

جبکہ 1457 کارکن جو سعد گروپ میں ملازم تھے، دمام کے دیگر دو کیمپوں میں ہیں۔ شفاء ثانیہ کمپنی کے ملازمین ایک کیمپ میں مقیم ہیں۔ 14 کیمپوں میں جملہ 5547 ہندوستانیوں کو امداد فراہم کی جارہی ہے۔ جن ہندوستانی کارکنوں کو غذا کی ضرورت ہے اُنھیں ریاض اور دمام کے ایک ایک کیمپ میں ٹھہرایا گیا ہے۔ ان کے  علاوہ 2153 ہندوستانی کارکن سعودی اوگر کمپنی سے تعلق رکھتے ہیں جو جدہ کے 6 کیمپوں میں مقیم ہیں۔ ان تمام کو ہندوستانی قونصل خانہ غذا فراہم کررہا ہے۔ جملہ 7700 متاثرہ ہندوستانی کارکن 20 کیمپوں میں مقیم ہیں۔ سفارت خانہ کی ٹیم نے کل ریاض کے 6 کیمپوں کا دورہ کیا۔ ہر کارکن سے معلومات حاصل کیں کہ کیا خدمات انجام دیتے تھے۔ اُن کی کتنی تنخواہ باقی ہے۔ کتنے افراد خروج، کتنے ہنوز قیام کرنا اور کتنے اپنی منتقلی چاہتے ہیں، علیحدہ علیحدہ طور پر دریافت کی جارہی ہیں۔ کل پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ کارکنوں کو وطن واپس لایا جائے گا۔وزیر مملکت برائے خارجہ وی کے سنگھ آج رات جدہ پہونچ گئے ۔

کسی بھی کارکن کو بھوکا رہنے نہیں دیا جائے گا۔ کارکنوں کی بازآبادکاری کے طریقہ کار اور قواعد و ضوابط کا تعین کیا جائے گا۔ کتنے ہندوستانی وی کے سنگھ کے دورہ کے موقع پر وطن واپس ہونے کی خواہش کریں گے، اُنھیں بازآبادکاری فراہم کی جائے گی۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہاکہ حکومت خارجی محکمہ محنت سعودی عرب سے رب برقرار رکھے ہوئے ہے تاکہ متاثرہ ہندوستانیوں کے تخلیہ کو یقینی بنایا جاسکے۔

 

غیرمقیم ہندوستانیوں کے مسائل کا لوک سبھا میں تذکرہ
سعودی عرب اور عمان میں پریشان حال عوام کی مدد کیلئے اقدامات : سشماسوراج
نئی دہلی ۔ 2 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانیوں کو سعودی عرب اور بعض دیگر خلیجی ممالک میں درپیش مسائل کا مسئلہ آج لوک سبھا میں اٹھایا گیا۔ حکومت ہند سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کی مدد سے عاجلانہ اقدامات کئے جائیں۔ آر ایس پی کے رکن این کے پریم چندرن نے بعض ہندوستانی شہریوں کے مسائل اٹھائے جو ابوظہبی میں ملازمت کرتے ہیں اور رویس کیمپ میں پھنسے ہوئے ہیں جو 300 کیلو میٹر کے فاصلہ پر قائم ہے۔ کمپنی گذشتہ 8 ماہ سے تنخواہیں نہیں دے رہی ہے اور نہ سہولتیں فراہم کررہی ہے۔ وہ ان کے پاسپورٹس واپس دینے سے بھی گریز کررہی ہے۔ اس مسئلہ کی اطلاع مقامی پولیس لیبرکورٹ یہاں تک کہ ہندوستانی سفارتخانہ ابوظہبی کو بھی اطلاع کی جاچکی ہے لیکن ہنوز عہدیداروں نے آج تک کوئی مثبت کارروائی نہیں کی۔ ہندوستانی ملازمین بشمول کیرالا کے متوطن افسوسناک حالات میں رویس کیمپ میں مقیم ہیں۔ سی پی آئی ایم رکن پی کروناکرن نے خلیجی ممالک میں ملازم نرسیس کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اچانک اطلاع دی گئی کہ ان ہاسپٹلس کی نرسیس کی کوئی جائیدادیں نہیں ہیں۔ اس کی کوئی وجہ ظاہر نہیں کی گئی۔ اس مسئلہ پر حکومت سعودی عرب سے بات چیت کی گئی۔

حکومت نے اس مسئلہ کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے خاص طور پر خلیجی ممالک میں صورتحال سنگین ہے۔ سعودی عرب کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے جہاں 10 ہزار ہندوستانی فاقہ کشی کررہے ہیں، کانگریس رکن کے سی وینوگوپال نے اظہارحیرت کیا کہ 6 ماہ قبل اس واقعہ کی سفارتخانہ کو اطلاع ملی تھی لیکن اس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ عمان میں کیا ہوا جہاں 77 نرسیس کو برطرفی کی نوٹس دی جاچکی ہے۔ سعودی عرب میں تنخواہ تک نہیں دی جارہی ہے اور نہ انہیں غذا فراہم کی جارہی ہے۔ سعودی عرب کو اس سلسلہ میں چوکس ہوجانا چاہئے اور مسئلہ کی یکسوئی کرنی چاہئے۔ تاہم اسپیکر نے وینوگوپال سے کہا کہ وزیرخارجہ بیرون ملک پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کی مدد کرنے بہترین جدوجہد کررہی ہے۔ تھرواننتاپورم سے موصولہ اطلاع کے بموجب وزیرخارجہ سشماسوراج نے آج ریاستی بی جے پی کو اطلاع دی کہ مرکزی حکومت نے جنگی خطوط پر سعودی عرب اور عمان میں بیروزگار اور پریشان حال ہندوستانیوں کی مدد کیلئے جنگی خطوط پر کارروائی کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT