Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / اوباما انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں 6 کھرب ڈالرس جھونک دیئے : ٹرمپ

اوباما انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں 6 کھرب ڈالرس جھونک دیئے : ٹرمپ

ہلاری کے چار سال کا مطلب ہے مزید چار سال تک بیروزگاری اور دولت اسلامیہ کی دہشت
اورلانڈو ۔ 3 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی عوام ان کی انتخابی حریف ہلاری کلنٹن کو منتخب کرتے ہوئے مزید چار برس کیلئے ’’اوباما انتظامیہ‘‘ کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہیکہ امریکہ میں قیادت کو مکمل طور پر تبدیل کردیا جائے۔ اورلانڈو، فلوریڈا میں ایک زبردست انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اب تمام امریکیوں کیلئے وقت آ گیا ہیکہ وہ ملک میں نئی قیادت کی راہ ہموار کریں۔ ریالی میں شریک ٹرمپ کے حامیوں میں بھی زبردست جوش و خروش دیکھا گیا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہلاری اور اوباما کے ناکام انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں 6 کھرب ڈالرس جھونک دیئے۔ ایک ایسی جنگ جس میں ہماری جیت ہوئی ہی نہیں اور جس کا خاتمہ بھی نظر نہیں آتا۔ اب حال یہ ہوچکا ہیکہ یہی جنگ اپنے بدترین مرحلہ میں داخل ہوچکی ہے۔ انہوں نے موجودہ صدر بارک اوباما پر اور ان کی (اوباما) سابق وزیرخارجہ ہلاری کلنٹن پر زبردست تنقیدیں کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نے امریکہ کو بیرونی جنگوں میں جھونک دیا جس نے خود امریکہ کو غیرمحفوظ کردیا ہے۔ انہوں نے ملک کی سرحدیں ’’سب کیلئے‘‘ کھول دیں۔

انہوں نے امریکیوں کی ملازمتیں اور دولت دوسرے ممالک کے حوالے کردی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان سب باتوں پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو ہمیں محسوس ہوگا کہ امریکہ آہستہ آہستہ عالمی منظرنامہ سے غائب ہوتا جارہا ہے۔ خوشحالی غائب ہوچکی ہے اور امریکہ 20 کھرب ڈالرس کا قرضدار ہے۔ ہماری تجارتی معاملتیں ایسی ہوگئی ہیں کہ ہمیں ہر سال 800 بلین ڈالرس کا خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ سوچئے۔ یہ سب فیصلے کون کرتا ہے؟ احمق عوام۔ اوباما اب ایک ’’بدمعاش‘‘ امیدوار کی حمایت کرتے پھر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا اشارہ ہلاری کی جانب تھا۔ انتخابی مہمات کے بعد عوام کو جھانسہ دیتے ہوئے ہلاری کیلئے ووٹس مانگے جارہے ہیں اور اگر عوام نے ہلاری کو ووٹ دیا تو کیا وہ احمق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوباما ایک ایسی امیدوار کیلئے انتخابی مہم چلارہے ہیں جو ای ۔ میلز اسکینڈل میں ملوث ہے جس کی وفاقی تحقیقات کی بھی جارہی ہے۔ ایک صدر انتخابی مہم چلا رہا ہے اور آپ کی ساری ملازمتیں میکسیکو چلی جائیں گی۔ آئندہ چار سال تک دولت اسلامیہ کی دہشت، آئندہ چار سال تک بیروزگاری اس کا مطلب ہے مزید چار سال تک حالات ’’اوباما والے‘‘ ہی رہیں گے۔ نہیں، اب ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے۔

ایک اور الزام ہلاری پر عائد کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہلاری شام اور نیوکلیئر توانائی کے حاملک ملک روس کے ساتھ جنگ چھیڑنے کی خواہاں تھیں جو یقینا تیسری جنگ عظیم شروع ہونے کی وجہ بن جاتی۔ سب جانتے ہیں روس کے پاس عصری ہتھیاروں کا کبھی ختم نہ ہونے والا ذخیرہ ہے۔ روس ہلاری کو پسند نہیں کرتا۔ لہٰذا میرے دوستو! ہم کیا کررہے ہیں۔ ہلاری ہمارے لئے ایک آفت اور سر کا درد بن جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہلاری کیلئے فی الوقت سب سے زیادہ پریشانی والی بات یہ ہیکہ وہ یہ سمجھ چکی ہیں ٹرمپ کیمپین کامیابی سے ہمکنار ہورہا ہے۔ ہم ہر اس امریکی شہری کیلئے لڑ رہے ہیں جو اس بات پر ایقان رکھتے ہیں کہ حکومت کا کام ہے عوام کی خدمت کرنا بجائے اس کے کہ حکومت صرف ڈونرس کی پرواہ کرے اور ہلاری کے خصوصی مفاد کا خیال رکھے۔ لہٰذا میں عوام سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ایک بہتر امریکہ کا خواب دیکھیں۔ ہر امریکی خاندان کا یہ حق ہیکہ وہ بہتر امریکہ کی خواہش کرے تاکہ امریکہ بہتر ہوگا تو ان سب کا مستقبل بھی بہتر ہوگا۔ ہم سب دعا کریں۔ اچھے اور خوشگواری کے خواب دیکھنا کوئی بری بات نہیں لہٰذا آپ سب اور میں بھی ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

 

ڈونالڈ ٹرمپ پوری دنیا کیلئے خطرہ :اوباما
ایف بی آئی کو مبہم معلومات کی بنیاد پر چھان بین نہیں کرنی چاہئے
واشنگٹن، 3 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کیلئے خطرہ ہیں۔مسٹر اوباما نے افریقی امریکی اکثریت والے نارتھ کیرولینا کے افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں صدر کے عہدے کیلئے انتخاب کیا گیا تو گزشتہ 8 برسوں کی تمام تر امریکی پیشرفت الٹ کر رہ جائے گی۔  انہوں نے اپنے حامیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ شمالی کیرولینا ہی اہم جنگ کا میدان ہے اور آپ پر ہی جمہوریت کی قسمت کا فیصلہ منحصر ہے ۔مجھے یقین ہیکہ یہاں سے اس فیصلے کو صحیح سمت ملے گی۔اس سے پہلے مسٹر اوباما نے ہلاری کے ای میل کی نئے سرے سے جانچ کے معاملے میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف بی آئی) پر بالواسطہ طور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش کاروں کو مکمل معلومات کی بنیاد پر ہی چھان بین کرنی چاہیئے ۔مسٹر اوباما نے کہا کہ میں نے جان بوجھ کر ایسی کوشش کی کہ میں ایسا کچھ نہ کروں جس سے یہ لگے کہ میں اس معاملے میں مداخلت کر رہا ہوں۔ میرا خیال ہیکہ ایک رسم ہیکہ تفتیش کار مبہم معلومات پر تفتیش نہیں کرتے ہیں۔ہم ٹھوس اطلاعات پرہی ٹھوس فیصلے کرتے ہیں۔واضح رہیکہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے حال ہی میں کہا ہیکہ وہ نئے ای میل کی تحقیقات کر رہے ہیں جو ہلاری کے وزیر خارجہ رہتے خانگی سرور کے استعمال سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد سے ہی مسٹر ٹرمپ نے مسز کلنٹن کے خلاف حملے تیز کر دیے ۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی نے ہلاری کے ای میل کی جانچ پڑتال کی کارروائی کی غیر مناسب تشہیر کرنے کے لئے ایف بی آئی پر تنقید کرتے ہوئے مسٹر ٹرمپ کے روس کے ساتھ تعلقات کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT