Thursday , August 24 2017

ایس پی سلور جوبلی تقریب ، اکھلیش اور شیوپال میں لفظی جھڑپ
ایک دوسرے کے خلاف رکیک ریمارکس ، ملائم سنگھ خاموش تماشائی، اتحاد کیلئے لالو کی مساعی

لکھنؤ ۔ /5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کے خاندان اول میں بڑھتے ہوئے جھگڑے پھر ایک مرتبہ منظر عام پر آگئے جب اس پارٹی کے متحارب قائدین اکھلیش یادو اور انکے چچا شیوپال نے باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرنے کے بمشکل دو دن بعد ہی اپنی پارٹی کی سلور جوبلی کے ضمن میں منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام میں ایک دوسرے کے خلاف آج رکیک لفظی حملوں کا تبادلہ کیا ۔ اترپردیش میں حکمراں اس پارٹی میں حالیہ عرصہ کے دوران ریاستی یونٹ کے صدر شیوپال یادو اور ان کے بھتیجہ و چیف منسٹر اکھلیش یادو کے درمیان زٕبردست لڑائی اور رسہ کشی دیکھی گئی ہے ۔ حالانکہ ایس پی کے قومی سربراہ ملائم سنگھ یادو نے اپنے بھائی اور بیٹی کے درمیان صلح کی حتی مقدور کوشش کی تھی ۔ سلور جوبلی تقاریب کے دوران چند ماہ بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں سوشلسٹ نظریات کی حامی جماعتوں کے درمیان اتحاد کے قیام کیلئے ملائم سنگھ یادو نے ایک کوشش کی تھی جس کے پیش نظر دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کئی اہم سوشلسٹ قائدین نے بھی اس ریلی میں شرکت کی تھی جس میں چچا اور بھتیجہ کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف رکیک ریمارکس نے اس پارٹی میں پیدا شدہ شدید اختلافات کو پوری طرح بے نقاب کردیا ۔ برہم چچا نے ضدی بھتیجہ کے خلاف پہلا نسبتاً کم بالواسطہ حملہ کیا ۔ انہوں نے اکھلیش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ (اکھلیش) اگر ملائم کے بیٹے نہ ہوتے تو شائد کبھی چیف منسٹر نہ بنتے ۔ شیوپال نے مزید کہا کہ ’’چند افراد کو قسمت سے ملتا ہے ۔ چند کو سخت محنت سے ملتا ہے تو کسی کو ورثے میں ملتا ہے ‘‘ ۔ لیکن چند ایسے بھی ہیں جو زندگی بھر سخت محنت کرتے رہتے ہیں اور انہیں کچھ نہیں ملتا ‘‘ ۔ بے پناہ جذبات سے عملاً مغلوب شیوپال یادو نے گلوگیر آواز میں خطاب کے دوران دعوی کیا کہ گزشتہ چار سال کے دوران انہوں نے اکھلیش سے بھرپور تعاون کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں عوام میں مقبول چیف منسٹر اکھلیش سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ مجھ سے کیا قربانی چاہتے ہیں ۔ میں یہ (قربانی) دینے تیار ہوں ۔ میں کبھی بھی چیف منسٹر بننا نہیں چاہتیا ۔ آپ (اکھلیش) میری توہین کرسکتے ہیں ۔ مجھے جتنی مرتبہ چاہیں (وزارت سے ) برطرف کرسکتے ہیں ۔

لیکن پارٹی کے لئے میں اپنا خون دینے تیار ہوں ‘‘ سلور جوبلی تقریب میں جہاں چچا بھتیجہ کے درمیان تلواریں نکل چکی تھیں ، اکھلیش نے اپنے خطاب میں چچا کی تنقیدوں پر جوابی وار کیا ۔ چیف منسٹر نے رشوت کے الزام پر اپنی وزارت سے برطرف اور بعد میں ملائم کی ایماء پر دوبارہ بحال وزیر گائتری پرساد پرجاپتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’پرجاپتی نے مجھے تلوار پیش کی اور آپ نے بھی مجھے تلوار دیا اور اب چاہتے ہیں کہ میں اس کو استعمال نہ کروں ‘‘ ۔ وہ دراصل رشوت کے الزامات کا سامنا کرنے والے وزراء کی برطرفی کے خلاف شیوپال کے حامیوں کے موقف کا اشارہ دے رہے تھے ۔ واضح رہے کہ چچا کے خلاف لڑائی میں بھتیجہ کا ساتھ دینے والے رام گوپال شیوپال کی وزارت سے برطرفی عمل میں آئی تھی ۔ راجیہ سبھا کے رکن رام گوپال یادو ، ملائم کے چچا زاد بھائی ہیں ۔ اکھلیش نے سیاسی و انتظامی تجربہ کے فقدان کے عنوان سے ان پر کی جانے والی تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر آپ میرا امتحان لینا چاہتے ہیں تو لیجئے ، اس کے لئے میں تیار ہوں ۔ 2017 ء کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور بی ایس پی کو شکست دینا ہی ہمارا ہدف ہے ۔ اترپردیش کے انتخابات اس ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے ‘‘ ۔ اسمبلی کے کلیدی انتخابات سے قبل ملائم سنگھ جنہوں نے اپنی اس پارٹی کی بنیاد ڈالی تھی نازک صورتحال کو ملحوظ رکھتے ہوئے چچا اور بھتیجہ میں صلح صفائی کے لئے دو روز قبل ہی ’ وکاس سے وجئے کی اوور ‘ (ترقی سے کامیابی کی سمت) ریلی منظم کی تھی لیکن آج ان دونوں کے جھگڑے کے دوران خاموش ہی رہے ۔ تاہم لالو پرساد یادو جن کی سب سے چھوٹی دختر کی شادی ملائم سنگھ کے ایک بھتیجہ کے بیٹے سے ہوئی ہے اس پارٹی میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کی ۔

 

لالو نے اکھلیش سے شیوپال کے پیر چھونے کو کہا
لکھنؤ۔ /5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) راشٹریہ جنتادل کے صدر لالو پرساد یادو نے اکھلیش سے کہا کہ وہ چاچا شیوپال سنگھ یادو کے پیر چھوئیں اوراس طرح ان کے درمیان تلخیاں دور کرانے کی کوشش کی ۔ سماج وادی پارٹی کی سلور جوبلی تقریب کے موقع پر اسٹیج پر پہنچے لالو پرساد یادو نے مسٹر اکھلیش یادو سے چاچا کے پیر چھونے کو کہا ۔ وزیر اعلیٰ نے لمحہ بھر کی دیر کئے بغیر چاچا کے پیر چھوئے ۔ دونوں مسکرائے اور اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے ۔ لالو نے اس پر خوشی ظاہر کی اور کہا کہ یادو کنبہ ہمیشہ ایک رہے گا ۔

TOPPOPULARRECENT