Tuesday , June 27 2017
Home / مضامین / سیاست کی منڈی میں خوابوںکی تجارت

سیاست کی منڈی میں خوابوںکی تجارت

محمد جسیم الدین نظامی
واشنگٹن کے مشہور صحافیوں میں سے ایک جمیل اخترصاحب ایک جگہ لکھتے ہیں ’’ امریکی کسی اور معاملے میں بھلے ہی سنجیدہ نہ ہوں مگر خواب دیکھنے، خواب خریدنے اور خواب بیچنے کے معاملے میں بہت سنجیدہ ہیں۔یہ امریکی معاشرے کا ایک ایسا نشہ ہے جو کبھی ٹوٹتا ہی نہیں۔ خواب بکھرنے پر کوئی بے مزہ نہیں ہوتا…کسی کا دل نہیں ٹوٹتا… بلکہ وہ نئے جوش و جذبے سے ایک نیا خواب خریدنے کے لیے قطار میں لگ جاتا ہے‘‘۔لیکن  جمیل اختر صاحب اگر صرف امریکی معاشرے کوہی اس وصف سے ’’مُتّصف ‘‘ سمجھتے ہیںتوہم انکی غلط فہمی دو ر کئے دیتے ہیںکہ تعلیمی ،معاشی اورتکنیکی میدان میں بھلے ہی ہم امریکیوںسے پیچھے ہیں،مگر خواب دیکھنے ،خواب خریدنے اورخواب بیچنے کے معاملے میں امریکی باشندے ہم ہندوستانیوںکا ہاتھ نہیں پکڑسکتے…نہرو سے لے کر اندرا گاندھی تک اور جے پرکاش نارائن،لال بہادر شاستری سے لے کرمنموہن سنگھ اور موجودہ وزیراعظم نریندر مودی تک کے دوراقتدار میں ہمارے تقریباً سبھی رہنماؤں نے خوابوں کی ہی تجارت کی ہے…کسی نے جے جوان جے کسان کے خواب بیچے، توکسی نے غریبی ہٹادینے کاخواب،کسی نے سمپورن کرانتی کے خواب بیچے تو کسی نے کالادھن سے پاک ہندوستان کا …یہ الگ بات ہے کہ آزادی کے 70سال بھی یہ خواب تعبیر کے حمام میں’ ’ننگے پن‘‘ کاشکارہیں ،اور انہیں آج تک عملی ’’جامہ‘‘ نصیب نہ ہوسکا…نتیجہ یہ ہے کہ ورلڈ بینک کے مطابق، ہندوستان کی 60فیصد آبادی کو آ ج بھی روٹی کپڑا اورمکان جیسے بنیادی حقوق میسر نہ ہوسکے، چونکہ خواب تو ضرور بیچے گئے مگراسکی تعبیرکیلئے کبھی مخلصانہ کوشش ہی نہیں کی گئی…..المیہ یہ ہے کہ اس قدر طویل عرصے بعد بھی ہمارے ملک میں نہ خواب بیچنے والے کم ہوئے اورنہ خریدنے والے… دراصل  خواب دکھانے اور خواب بیچنے کا ایک اپنا ہی نشہ ہے…اسی لئے تو اب کی بار جو مودی سرکار آئی ہے وہ تو اپنی سیاست کی بنڈی پر ’’اچھے دنوں کا خواب‘‘ ہی سجا کرآئی ہے …اور وہ بھی تھوک کے حساب سے۔اورہماری حالت یہ ہے کہ ہم ایک خواب کی تعبیرپانے سے پہلے ہی دوسراخواب خریدنے کیلئے قطار میں ٹہرجاتے ہیں…یقین نہ آئے تو موجود ہ حالات کا جائزہ لے لیجئے۔کالا دھن اورکرپشن کے خاتمے کیلئے اٹھائے گئے ’’ تاریخی اقدام‘‘ کا آج 39واں دن ہے ۔اس تاریخی اقدام سے کالا دھن کتنا برآمد ہوا اور بدعنوانیو ں پر کس قد ر قابو پا لیا گیا، جعلی نوٹ پر کس حد تک غن لگا یہ کہنا ابھی مشکل ہے… لیکن ان چند ہفتوں میں بینکوں اوراے ٹی ایمس کے چکر کاٹتے کاٹتے تاحال 122 سے زیادہ لوگوں کی جانیں ضرور جا چکی ہیں۔ یومیہ اجرت پرزندگی گذارنے والے27کروڑ مزدوروں کی روزی روٹی چھن چکی ہے۔ تقریبا ًپانچ ہفتے بعد بھی بینکوں کے باہر قطار کم نہیں ہو رہی۔ مگر ان سب کے درمیان اب کیش لیس اکنامی کا خواب فروخت کیا جا رہا ہے۔کیونکہ حکومت کو احسا س ہوچلاہے کہ نوٹ بندی فلاپ ہوچکی ہے اسی لئے حکومت نے اب ایک بار پھر خوابوبو ںکی دکان سجائی ہے اوراس بار جو خواب ’’برائے فروخت ‘‘ پیش کیا گیا ہے وہ ہے ’’کیش لیس اکنامی‘‘ …کیونکہ انڈیا کو راتوں رات ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ میں بدلنا جو ہے!…لیکن کیا ہندوستان کو ابھی کیش لیس اکنامی بنانا ممکن ہے؟یہ سوال اسلئے کہ، ملک کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مکمل طور پر تیار ہی نہیں ہے، انٹرنیٹ کے رابطے تنزل پذیر ہے اور بینکنگ سسٹم سائبر سکیوریٹی سے محروم ہے، اس کے باوجود حکومت کیش لیس اکنامی اختیار کرتے ہوئے انڈیا کو ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘  میں تبدیل کرنے بضد ہے تو کیا حکومت اس مقصد میں کامیاب ہوگی ؟ اگرہاں تو کیسے ،نہیں تو کیوں؟۔  دراصل کسی ملک کے کیش لیس ہونے کا براہ راست تعلق شہریوں کی معاشی ، سماجی اور تعلیمی صورت حال سے ہے۔ اگر کسی ملک کے شہری مکمل طور تعلیم یافتہ ہوں، وہاں کی حکومت شہریوں کو صحت اور سماجی تحفظ مہیا کراتی ہو، وہاں کے لیڈرس بیوروکریسی اوردیگرآفیسرس نسبتاً ایماندار ہوں اور ٹکنالوجی کی رسائی گھر گھر تک ہو جائے تو وہاں کے زیادہ تر لوگ کیش لیس کاروبار کرنے لگتے ہیں۔اسے تھوڑا اور تفصیل سے سمجھنے کیلئے ایک نظر ان اعداد و شمار پر ڈالئے جو اس آرٹیکل میں موجودہے ۔کیش لیس سسٹم کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ’’ناقص موبائل نیٹ ورک‘‘  ہے۔ موبائل ویالیٹ سسٹم اسی صورت میں بہتر ثابت ہوسکتا ہے جب حکومت نیٹ ورک سسٹم میں سو فیصدی بہتری پیداکرنے پرکا میاب ہوجائے۔موجود ہ صورتحا ل یہ ہے کہ نوٹ بندی کے بعد ڈیجیٹل ادائیگی کی طرف رخ کرنے والوں کے سامنے روز نئی مشکلات کھڑی ہو رہی ہیں۔ کبھی سرور ڈاؤن، کبھی نیٹ غائب ۔ سرکاری محکموں، بینکوں اور ریزرو بینک کے پاس ایسی شکایات کا انبار لگ رہا ہے، جسکی یکسوئی تو دور اسکا جواب بھی فی الحال ان کے پاس نہیں ہے۔ اس حوالے سے ایک مہینے میں تقریباً 1.25 لاکھ شکایتیں موصول ہوچکی ہیں۔ڈیجیٹل ادائیگی میں سیلاب سے سرکاری اور خانگی شعبوں کو نئی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ محدود صلاحیت والے سرور ہینگ ہونے لگے ہیں۔ دوسرے ممالک کے مقابلے ہندوستان میں فی شخص انٹرنیٹ کی دستیابی بہت ہی کم ہے …دوسراسب سے اہم پہلو ماہرین کے مطابق،یہ ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگی سے متعلق تنازعات کے حل کے لئے فی الحال کوئی بھی قانونی طریقہ کار موجود نہیں ہے، نہ ہی کوئی ایسا موثرطریقہ، جس کا استعمال ڈیجیٹل منی کے کھوجانے، ہیک ہونے، چوری ہونے یا غلط استعمال کئے جانے پر کیا جا سکے.. اس کے لئے قوانین کی تدوین اور اسکے نفاذمیں برسوںلگ جائںگے ۔ آسوچیم کی حالیہ رپورٹ دیکھئے جسکے مطابق 2017 میں موبائل پے منٹ سے دھوکہ دہی کے معاملات 67 فیصد اضافے کا امکان ہے..ظاہر ایسی صورت میں لوگ کیش لیس ادائیگی سے گریزکریںگے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ کیش لیس پے منٹ کو فروغ دینے ،حکومت نے انعام کا اعلان کیا ہے،لیکن کیش لیس پے منٹ کے بعد اگر کوئی سائبر جرائم کا شکار ہوتاہے تو اسکی تلافی کیسے کی جائے گی؟ اس حوالے سے حکومت خاموش ہے…چونکہ ڈیجیٹائزیشن کی طرف بڑھنے میں سب سے زیادہ خطرہ سائبر چوروں سے ہے۔ نوٹ بندی سے ٹھیک پہلے ہی ملک میں 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈ ڈیٹا چوری کیا گیا تھا۔ کیش لیس معیشت اپنانے والے سب سے سرفہرست ملک سویڈن میں 99فیصد کیش لیس پے منٹ ہوتا ہے، کے سامنے بھی یہ مسئلہ برقرار ہے جہاںسویڈش نیشنل کونسل فار کرائم پریونشن کے مطابق  گذشتہ سا ل دھوکہ دہی کے 1.40 لاکھ کیسس درج کئے گئے تھے ۔ واضح رہے کہ سویڈن کا انفارمیشن ٹکنالوجی کو دنیا میں نمبر ون سمجھا جاتا ہے اور وہاں کئی طرح کے سیکورٹی فیچرس روبعمل لا ئے گئے۔ سویڈن میں اتنے سکیورٹی فیچرس کے باوجود جب سائبر کرائم بڑھ سکتا ہے تو ہندوستان جیسے ملک میں جہاں اب بھی اے ٹی ایم میں 15 سال پرانا آپریٹنگ سسٹم (ونڈوز XP) استعمال کیا جا رہا ہے، ان خطرات سے بچنے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟… تیسرا پہلو’’کیشلیس انڈیا‘‘ کی تعمیر میں خواندگی کی شرح بھی ایک اہم رکاوٹ ہے۔ لوگوں کو خواندہ کئے بغیر ’ای پے منٹ‘‘ انٹرنیٹ یا موبائل بینکنگ بہت ہی مشکل ہوگا، کیونکہ ہندوستان میں شرح خواندگی  70.04 فیصد ہے۔اس طرح اگر کیش لیس معیشت کے معاملے میں دنیا کے سرفہرست 5 ممالک بیلجیم، فرانس، کینیڈا، برطانیہ اور سویڈن سے موازنہ کریں تو ہندستان کیلئے کامیاب کیش لیس معیشت بننا ابھی’’دلی بہت دور ہے‘‘والی بات ہے….مگراس حقیقت کو کوئی قبول کرنے تیار نہیں ..ہم سب آنکھ بند کرکے روز ایک نئے خواب کی تلاش میں سرگرداں ہے …حالانکہ اس بار سارے خواب اتنے مہنگے ہو جائیں گے کہ اسکے عوض ہماری امیدوںکی قوت خرید جواب دے دیگی…خریدنے والے جانیں نہ جانیں مگر سیاست کی منڈی میں بیٹھا  ’ ’سپنوں کا سوداگر‘‘ یہ بات خوب جانتا ہے کہ کیش لیس معیشت پرمبنی ایسی کوئی جادو کی چھڑی انکے پاس ہے ہی نہیںجو 60فیصد بھوکے ہندوستانیوںکو  بقول ’’لالو ،ڈاٹا کے ذریعہ آٹا حاصل ہوسکے‘‘ ایسا کوئی مخلصانہ منصوبہ یا حکمت عملی انکے ’’چناوی جھولی‘‘ میںہے ہی نہیں جو ’’ترقی پذیر‘‘ ہندوستان کو ’’ترقی یافتہ‘‘ ہندوستان میں بدلنے کیلئے تمام ہندوستانیوں کو قومی یکجہتی کے دھاگے میںبندھنے کیلئے مجبور کرسکے… انکی سیاسی دکان میں ایسا کوئی نسخہ نہیں جوانڈیاکو ڈیجیٹل انڈیا بنانے سے پہلے کروڑوں بے گھر ہندوستانیوںکے سروںپرچھت فراہم کرسکے،اور کروڑوبے روزگاروں کودو وقت کی روٹی کیلئے ملازمت فراہم کرسکے…لیکن یہ وہ تلخ سچائی ہے جو نہ خریدنے والا سننا چاہتا ہے اور نہ بیچنے والا بتاناچاہتا ہے…کیونکہ بات جب خوابوں کی تجارت کی ہو تووہاں عقل عموماً بھینس سے چھوٹی ہوجاتی ہے۔

 

کیش لیس پے منٹ کی راہ میں موجود رکاوٹیں
7   انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم افراد کی تعدا د 85کروڑجبکہ، 60%آبادی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہے
7   ہندوستان میں موجود ہ نیٹ اسپیڈ 3.6mbps یعنی عالمی سطح کی رفتار سے 10گنا سے کم ہے۔
7   کیش لیس پے منٹ پر گھنٹوں انتظار کی نوبت،چو نکہ یہاں پیج لوڈہونے میں اوسط وقت 5.5 سیکنڈ ہے۔
7   ہندوستان کو 20ملین posکی ضرور ت ہوگی،جبکہ فی الوقت 1.2ملین ہی pos(پوائنٹ آف سیل) ہے
7   ملک میںپچھلے سال ہیک ہو جا نے والے ویب سائٹ کی تعداد 26,244 رہی۔
7   سائبرسیکوریٹی رسک موجودہے،اکتوبر2016میں ہی 30لاکھ ڈیبٹ کارڈ کے ڈیٹا چوری ہوگئے۔
7   میٹرووپولیٹن شہر وں میں فی 10ہزار پرایک اے ٹی ایم،جبکہ بڑے شہروں میں 15ہزار پہ ایک اے ٹی ایم ہے۔
7   چھوٹے شہروںمیں فی 40ہزار پرایک اے ٹی ایم،جبکہ گاؤں میں 20لاکھ لوگوںپر ایک اے ٹی ایم ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT