Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / داعش نے جرمن حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

داعش نے جرمن حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

برلن ۔ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اسلامک اسٹیٹ (داعش) نے جرمن کے دارالحکومت برلن کے پرہجوم کرسمس بازار میں گذشتہ روز ہوئے ٹرک حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ اس حملہ میں ایک مشتبہ شخص نے وہاں موجود افراد کو ٹرک تلے روند ڈالا تھا جس کے نتیجہ میں 12 افراد ہلاک اور دیگر 48 زخمی ہوگئے تھے۔ باور کیا جاتا ہیکہ جرمن سرزمین پر داعش کا یہ پہلا بڑا حملہ تھا۔ جرمن سیکوریٹی فورسیس ہنوز اس حملے کے سازشی سرغنوں کی تلاش میں ہیں۔ قبل ازیں گرفتار شدہ ایک مشتبہ شخص ناکافی ثبوت کی بنیاد پر چھوڑ دیا گیا۔ داعش نے اپنی عمق نیوز ایجنسی کے ذریعہ اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور حملے کے بعد ٹرک سے اتر کر فرار ہونے والے شخص کو ’’اسلامک اسٹیٹ کا سپاہی‘‘ قرار دیا، جس نے ملیبی اتحاد کے شہریوں کو نشانہ بنانے اس کی اپیل پریہ حملہ کیا تھا۔ جرمن اگرچہ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جنگی کارروائیوں میں راست طور پر ملوث نہیں ہے لیکن اس کے ٹور ناڈو جسٹس اور ریفیولنگ طیارے ترکی میں تعینات ہیں جو شام داعش کے جہادیوں کے خلاف باغیوں کی حمایت میں لڑ رہے ہیں۔ علاوہ جرمن کا ایک بحری بیڑا بحرہ روم میں فرانسیسی طیارہ بردار جہاز کی حفاظت کیلئے تعینات ہے۔ ایک پاکستانی شخص جو گذشتہ سال جرمنی پہنچا تھا، حملے کے مقام پر گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم تحقیقات کنندگان نے اس کی رہائی سے قبل ہی اس حملے میں اس کے ملوث ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

جرمن میں حملہ آور ٹرک ڈرائیور کی تلاش جاری
اصل سرغنہ آزاد ہے عوام کو چوکسی کیلئے حکام کا مشورہ
برلن ۔ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جرمن پولیس نے اس ٹرک ڈرائیور کی تلاشی میں زبردست شدت پیدا کردی ہے، جس نے گذشتہ روز برلن کے ایک پرہجوم کرسمس بازار میں عوام پر اندھادھن ٹرک چڑھاتے ہوئے کئی افراد کو ہلاک اور زخمی کردیا تھا۔ جہادی گروپ داعش نے اس مہلک حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ اس حملے کے واحد مشتبہ شخص 23 سالہ پاکستانی کو جس نے اس ملک میں پناہ کیلئے درخواست دی تھی، گذشتہ روز گرفتاری اور پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا گیا کیونکہ اس کے بارے میں ثبوت دستیاب نہیں ہوسکے۔ اس کی رہائی کے بعد ہلاکت خیز حملہ آور کے بارے میں تشویش جاری کیونکہ وہ ہنوز آزاد ہے اور اس کی آزادی پہلے ہی صدمہ کے شکار اس ملک کیلئے مزید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ جرمن وزیرداخلہ تھامس ڈی مائیزیرے نے نشریاتی ادارہ زیڈ ڈی ایف سے کہا کہ ’’ہم اس اندیشہ کو مسترد نہیں کرسکتے کہ حملہ آور سازشی ہنوز آزاد گھوم رہا ہے‘‘۔ پولینڈ کے نمبر پلیٹ پر چلائے جانے والے ٹرک گذشتہ روز پرہجوم بازار میں 12 افراد کو کچل دیا تھا۔ علاوہ ازیں کئی دوکانات کو روند دیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT