Friday , June 23 2017
Home / Top Stories / لیفٹننٹ گورنر دہلی کی جلد سبکدوش کرنے کی وزیراعظم سے خواہش

لیفٹننٹ گورنر دہلی کی جلد سبکدوش کرنے کی وزیراعظم سے خواہش

شخصی فیصلہ پر اعتراض کی گنجائش نہیں ، اروند کجریوال کی پریس کانفرنس
نئی دہلی ۔ 23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ نے وزیراعظم نریندر مودی سے آج ملاقات کرکے سمجھا جاتا ہیکہ جلد از جلد سبکدوش کرنے کی خواہش کی۔ وزیراعظم نے بھی انہیں اپنے استعفیٰ پر پیشرفت کرنے کی تائید کی جبکہ قبل ازیں دو مرتبہ لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ کی استعفیٰ دینے کی خواہش پر وزیراعظم نے انہیں برقرار رہنے کی ترغیب دی تھی۔ استعفیٰ پیش کرنے سے ایک دن پہلے انہوں نے چیف منسٹر دہلی کو ناشتہ پر مدعو کیا تھا۔ دونوں کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی حالانکہ قبل ازیں دونوں کے درمیان سخت اختلافات رہ چکے ہیں۔ نجیب جنگ کے قریبی ذرائع نے کہا کہ انہوں نے 2014ء میں دو بار مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی لیکن بی جے پی برسراقتدار آگئی تھی جبکہ ان کا تقرر یوپی اے نے کیا تھا لیکن وزیراعظم نے انہیں عہدہ پر برقرار رہنے کی ترغیب دی تھی۔ کجریوال نے نجیب جنگ سے ایک گھنٹہ طویل ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مستعفی ہونا نجیب جنگ کا شخصی فیصلہ ہے جس پر وہ کوئی اعتراض نہیں کرسکتے۔ ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا نے جو اس ملاقات کے وقت موجود تھے، کہا کہ بات چیت اعلیٰ سطح پر ہوئی۔ گذشتہ دو سال کی یادیں تازہ کی گئیں جبکہ وہ بیورو کریٹ تھے اور اپنی ملازمت کا آخری سال مکمل کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نجیب جنگ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گذارنا چاہتے ہیں اور تعلیمات پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں اس کیلئے سبکدوش ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اچانک استعفیٰ پر سیاسی حلقوں میں مختلف نظریات پیش کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی افواہیں گشت کررہی ہیں۔

وزیراعظم سے نجیب جنگ کی
ملاقات ، جلد سبکدوشی کی خواہش
نئی دہلی ۔ 23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ جنہوں نے گذشتہ روز اپنے عہدہ سے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ آج وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ جلد سے جلد اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہتے ہیں لیکن وزیراعظم نے بدستور اس پر فائز رہنے کی ہدایت کی ہے۔ نجیب جنگ آج 11:30 بجے دن ساؤتھ بلاک میں وزیراعظم کے دفتر پہنچے تھے جہاں انہوں نے تقریباً ایک گھنٹہ گذارا۔ ذرائع نے کہا کہ یہ خیرسگالی ملاقات تھی۔ جنگ نے گذشتہ روز اپنے مختصر مکتوب استعفیٰ میں وزیراعظم ان کی مدد اور تعاون کیلئے شکریہ ادا کیا تھا۔
انہوں نے اپنے پر بڑھتے دباؤ کے سبب عہدہ چھوڑنے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فیصلہ کے پیچھے کوئی سیاست نہیں ہے اور وہ بعجلت ممکنہ یہ عہدہ چھوڑنا  چاہتے ہیں۔ نجیب جنگ نے کہا کہ ’’میں نے اپنے استعفیٰ پیشکش کی کیونکہ ماضی کی یو پی اے حکومت نے میرا تقرر کیا تھا لیکن وزیراعظم نے عہدہ پر برقرار رہنے کیلئے کہا تھا۔ تین سال بعد میں نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ مجھے اس ذمہ داری سے سبکدوش کیا جائے لیکن انہوں نے بدستور خدمات انجام دینے کی ہدایت کی ہے۔

نجیب جنگ کے استعفیٰ کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے
عام آدمی پارٹی اور کانگریس کو اس سے کوئی سروکار نہیں: ریجوجی
نئی دہلی۔23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر کرن ریجوجی نے آج عام آدمی پارٹی اور کانگریس پر تنقید کی کہ یہ دونوں دہلی کے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ کے استعفیٰ پر سیاست کررہی ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کو اس استعفیٰ سے کوئی مسئلہ پیدا ہوگا۔ جب جنگ اپنی خدمت انجام دے رہے تھے، یہ پارٹیاں ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہی تھی۔ اب انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے تو سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ کیا جنگ کو کانگریس اور عادم آدمی پارٹی سے اجازت لے کر استعفیٰ دینا چاہئے۔ مملکتی وزیر برائے داخلہ ریجوجی نے مزید کہا کہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے قائدین کو سوال پوچھنا بھی نہیں آتا۔ یہ دونوں نجیب جنگ کے استعفیٰ پر اپنی سیاست چلارہے ہیں۔ ریجوجی نے اس استعفیٰ کے پیچھے وجوہات کیا ہیں سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب نہیں دیا۔ دہلی کانگریس کے صدر اجئے ماکن نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکز کو ہی نجیب جنگ کے استعفیٰ کی تفصیلات ظاہر کرنی چاہئے۔
اسکولوں کے قیام کیلئے ملک گیر بیداری مہم
نئی دہلی۔23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے ملک بھر میں اوپن اسکولوں کے قیام کے ذریعہ اپنی سکنڈری تعلیم کو پورا کرنے کی ترغیب دینے کے لئے شعور بیداری پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاویڈکر نے کہا کہ ہر سال 5 لاکھ طلباء ان اسکولوں سے کامیاب ہوکر نکلتے ہیں۔ اب طلباء کی تعداد بڑھاتے ہوئے ہر سال 10 لاکھ بچوں کو کامیاب بنانے کا پروگرام ہے۔ ہم عوام میں اعتماد پیدا کرتے ہوئے مہم شروع کریں گے تاکہ بچے اسکولوں سے اچھی تعلیم حاصل کرکے باہر نکلیں۔ 8 ویں اور 9 ویں جماعت کامیاب طلباء کو جنہوں نے 10 ویں کامیاب نہیں کیا ہے۔ دوبارہ اسکول جانے کی ترغیب دیں گے۔ جاویڈکر نے مزید کہا کہ جو طلباء اپنی تعلیم کو پورا نہیں کرسکے ہیں، انہیں اوپن اسکولنگ کے ذریعہ تعلیم پوری کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ ہم نے اوپن اسکولنگ سے متعلق اصولوں کو بھی آسان کردیا ہے۔ خاص کر اعلی تعلیم کے لئے آسان اقدامات کئے جارہے ہیں۔ قبل ازیں طلباء 8 ویں جماعت کے بعد ماہرانہ ٹریننگ جیسے آئی ٹی آئی کی تربیت حاصل کرتے تھے لیکن اسے 10 ویں کے مساوی قرار نہیں دیا گیا تھا لیکن مودی حکومت نے تبدیلی لائی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT