Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / ’’امریکی مسلما ن بھی اُتنے ہی حب الوطن جتنے دیگر امریکی ‘‘

’’امریکی مسلما ن بھی اُتنے ہی حب الوطن جتنے دیگر امریکی ‘‘

جمہوریت کا تحفظ امریکی شہریوں کی ذمہ داری ، سبکدوش ہونے والے صدر بارک اوباما کا الوداعی خطاب

شکاگو۔ 11 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدر بارک اوباما نے آج جیسا کہ توقع کی جارہی تھی کہ اپنی ایک الوداعی جذباتی تقریر میں امریکی شہریوں سے وداع لیا اور یہ بھی کہا کہ انہیں جمہوریت کی بقاء کیلئے اہم رول ادا کرنا ہوگا، کیونکہ ملک میں نسل پرستی، عدم مساوات اور امتیازی سلوک کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں اور یہ اضافہ ڈونالڈ ٹرمپ کے 8 نومبر کو الیکشن میں کامیابی کے بعد ہوا ہے۔ اپنے آبائی شہر میں تقریباً 20,000 حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وہ زمانہ یاد کیا جب 2008ء میں صدر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ہمیشہ مثبت سوچ رکھیں اور یہی کوشش کریں کہ آپ میں سے ہر کوئی امریکہ کا کامیاب سیاست داں بن سکتا ہے کیونکہ مثبت سوچ رکھنے والا کوئی بھی کارنامہ انجام دے سکتا ہے۔ اوباما نے کہا کہ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو خود اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہونا چاہئے۔ میں اگر ملک میں کوئی تبدیلی لانا چاہوں تو یہ میری صلاحیت پر مبنی ہوگا۔ اسی نوعیت کی صلاحیت آپ میں سے ہر ایک کے پاس ہے۔ بس ضرورت ہے تو اسے پہچاننے کی۔ 55 منٹ طویل خطاب کے دوران انہوں نے ملک کی جمہوریت کی بقاء پر کافی زور دیا کیونکہ وہ ملک میں حالیہ پیدا شدہ حالات سے نالاں نظر آرہے تھے۔ اوباما نے کہا کہ ہر کام کو کرنے میں ’’جی ہاں میں کرسکتا ہوں‘‘ والا رویہ اپنانا چاہئے۔ جمہوریت کو اس وقت خطرہ لاحق ہوتا ہے جب ہم خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں یا پھر حقائق کو سِرے سے پیش ہی نہیں کرتے لہذا ہمیں امریکی شہری ہونے کے ناطے بیرونی جارحیت سے ہمیشہ چوکنا رہنا چاہئے۔ امریکی اقدار کو کمزور ہوتے دیکھتے رہنا۔ یہ امریکیوں کا شیوہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہی امریکی اقدار ہیں جن کی بدولت ہماری شناخت ہے کہ ہم کیا ہیں اور کون ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2008ء میں ان کی تاریخی کامیابی اور امریکہ کی تاریخ میں کسی سیاہ فام کا صدر کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہونے کے باوجود بھی آج امریکہ میں نسل پرستی ختم نہیں ہوئی ہے۔ آج بھی سیاہ فام اور سفید فام میں امتیاز برتا جاتا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں رونما ہوئے ایک ہوٹل کا واقعہ بیان کیا جہاں ایک سیاہ فام ویٹر کو صرف اس لئے ٹِپ نہیں دی گئی کہ وہ سیاہ فام تھا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد بل کی ادائیگی کرتے ہوئے ہوٹل میں آئے ہوئے جوڑے نے کاغذ کے ایک چھوٹے سے پُرزہ پر تحریر کردیا تھا کہ ہم سیاہ فاموں کو ٹِپ نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کا انتخاب عمل میں آیا تھا، اس وقت امریکہ میں اس موضوع کے چرچے تھے کہ شاید اوباما کے آنے کے بعد ملک سے نسل پرستی یا سفید فام اور سیاہ فام کا امتیاز ختم ہوجائے گا۔ یہ نظریہ اپنی جگہ مناسب ضرور تھا لیکن اسے حقیقت کا جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ یاد رہے کہ 20 جنوری کو اوباما اپنی دوسری چار سالہ میعاد سے سبکدوش ہورہے ہیں اور اسی روز ڈونالڈ ٹرمپ ملک کے 45 صدر کی حیثیت سے حلف لیں گے۔ اس موقع پر اوباما نے وعدہ کیا کہ آئندہ ہفتہ اقتدار کی منتقلی پرامن طریقہ سے عمل میں آئے گی۔ انہوں نے ٹرمپ کا نام لئے بغیر ایک بار پھر کہا کہ 2016ء کے صدارتی انتخابات ’’مسلمانوں کے امریکہ آنے پر امتناع‘‘ جیسے متنازعہ موضوع پر لڑے گئے حالانکہ وہ خود مسلمانوں کے خلاف کسی بھی امتیاز کو مسترد کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اوباما نے جس وقت یہ کہا کہ ’’امریکی مسلمان بھی اتنے ہی حب الوطن ہیں جتنے دیگر امریکی شہری ہیں‘‘ اس وقت سارا ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔ ہمارا مقصد دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔ ہم نے کئی اصلاحات کرتے ہوئے عقوبت خانے بند کروائے۔ ان کا اشارہ گوانتا نامو جیل کی جانب تھا جو بدنام زمانہ ہے۔ ہر ایک کو اپنی پرائیویسی اور سیول لبرٹیز پیاری ہے لہذا ہم نے اس کا بھی احترام کرتے ہوئے قوانین میں اصلاحات نافذ کئے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ امریکی جمہوریت کو اس وقت خطرہ لاحق ہوجائے گا جب عوام جمہوریت کو تن آسانی سے لیں گے۔

 

فلسطین کا قیام ناممکن:اوباما
یروشلم۔11جنوری (سیاست ڈاٹ کام)صدر امریکہ بارک اوباما نے اسرائیلی ٹی وی کو دے ئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ حکومت نے جو یہودی بستیاں تعمیر کی ہیں، ان کی وجہ سے مستقبل کی فلسطینی ریاست کا قیام ناممکن ہوگیا ہے ۔مسٹر اوباما نے کہا کہ وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کہتے ہیں کہ وہ دو ریاستی حل کے حق میں ہیں مگر ان کے عمل سے مسلسل یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ان پر دباؤ ڈالا گیا تو وہ مزید یہودی بستیاں بنانے کی اجازت دے دیں گے اور یہ نہیں سوچیں گے کہ وہ دو ریاستی حل کے بارے میں کیا کہتے آرہے ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی چھینی ہوئی زمین پر جابجا متعدد یہودی بستیاں تعمیر کردی ہیں۔ مقبوضہ غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں 570,000یہوی آباد ہوگئے ہیں جب کہ فلسطینیوں کی 26لاکھ آبادی یہاں رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT