Thursday , June 29 2017
Home / مضامین / آ اب لوٹ چلیں

آ اب لوٹ چلیں

 

کے این واصف
خلیجی ممالک جس میں ایک بڑی تعداد غیر ملکیوں کی آباد ہے ، کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے ہے ۔ ان غیر ملکیوں کیلئے یہاں کی حکومتوں کی جانب سے آئے دن نئے قوانین وضع کئے جاتے ہیں جن میں کچھ ان کے حق ہوتے اور کچھ ان کے حق میں اچھے نہیں ہوتے ۔ کچھ عرصہ قبل حکومت قطر نے کفالت کا نظام ختم کئے جانے کا اعلان کیا ۔ پھر اس ہفتہ بحرین نے اپنے یہاں ’’لچکدار قانون محنت‘‘ نافذ کرنے کا اعلان کیا ۔ اس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن مارکٹ میں قانونی طریقے سے ملازمت کرنے کیلئے ورک پرمٹ جاری کراکر اصلاح حال کراسکیں گے ۔ اس نئے قانون پر عمل درآمد اپریل 2017 ء سے ہوگا ۔بحرین نے یہ قانون نافذ کر کے خلیج کے تمام ممالک پر سبقت حاصل کرلی ۔ بحرین ’’آزاد اجازت نامہ‘‘ کا قانون نافذ کرے گا۔اس کے بموجب کوئی بھی غیر ملکی کسی بھی شخص کے پاس متفقہ اجرت کے بدلے کام کرنے کا مجاز ہوگا ۔ بحرین میں لیبر مارکٹ کو منظم کرنے والی اتھاریٹی کے سربراہ اسامہ العبسی نے واضح کیا کہ نیا قانون بحرین میں موجود تقریباً 40 ہزار غیر قانونی تارکین پر نافذ کیا جائے گا ۔ ابتداء اس سے ہوگی۔ آگے جاکر اس کا دائرہ وسیع کردیا جائے گا ۔ العبسی نے کہا کہ ہمارا مقصد دو ہزار غیر قانونی تارکین کو ماہانہ ورک پرمٹ جاری کرنے کا ہے ۔ اس ورک پرمٹ کے تحت غیر ملکی کسی بھی آجر کے پاس مقررہ وقت اور مقررہ محنتانے پر کام کرنے کا مجاز ہوگا ۔ اس قانون کی بدولت آجروں کو اس قسم کے کارکنان سے فوری استفادے کی سہولت ہوگی ۔ علاوہ ازیں موجودہ قانون کی پابندیوں سے بھی آجر کے پاس مقررہ وقت اور مقررہ محنتانے پر کام کرنے کا مجاز ہوگا۔ اس قانون کی بدولت آجروں کو اس قسم کے کارکنان سے فوری استفادے کی سہولت ہوگی۔ علاوہ ازیں موجودہ قانون کی پابندیوں سے بھی آجر حضرات آزاد رہیںگے۔ العبسی نے کہا کہ ہماری مارکٹ کو اقتصادی تبدیلیوں سے ہمرکابی کیلئے اس قسم کے قانون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ اصولی طور پر نیا قانون 2 برس جاری رہے گا۔ اس دوران پیش آنے والے تجربات و معاملات کا تجزیہ کر کے پوری مارکٹ پر نفاذ سے قبل اس میں ترامیم بھی کی جاسکتی ہیں۔

خلیجی ممالک میں غیر قانونی تارکین کا ایک بڑا مسئلہ  ہے۔ مگر واضح رہیکہ خلیجی ممالک میں غیر قانونی کہلانے والے باشندوں کی نوعیت دوسرے ممالک کے غیر قانونی باشندوں سے الگ ہے ۔ یہاں سب لوگ ویزا حاصل کر کے قانونی طور پر یہاں آتے ہیں لیکن جب کوئی بندہ کفیل کے ساتھ ان بن ، رنجش ، یا نااتفاقی ہوجانے کی وجہ سے اگر اس کا ’’ورک پرمٹ‘‘ تجدید نہ ہوپائے تو وہ شخص کی حیثیت غیر قانونی ہوجاتی ہے اور جب تک کے کفیل و مکفول کے درمیان مصالحت نہ ہو وہ شخص غیر قانونی ہی رہتا ہے ۔ سعودی عرب میں بھی لاکھوں لوگ کبھی غیر قانونی حیثیت میں تھے ۔ ان کے غیر قانونی حیثیت میں آجانے کی مختلف وجوہات تھیں۔ مملکت نے اس معاملے سے نمٹنے کیلئے اب سے تین سال قبل ایک عام معافی کا اعلان کیا اور تمام  غیر قانونی حیثیت میں آجانے والے غیر قانونی تارکین کو اپنے متعلقہ سفارت خانے سے رجوع ہوکر بغیر کسی جرمانے یا سزا کے اپنے وطن لوٹ جانے کا موقع دیا تھا ۔ اس سے فائدہ اٹھاکر ہندوستان سمیت کئی ممالک کے لاکھوں تارکین مملکت چھوڑ کر چلے گئے ۔ مملکت کا یہ ا قدام لاکھوں تارکین کے حق میں تھا لیکن اب پچھلے ایک ماہ کے دوران مملکت میں جو نئے قوانین نافذ کئے جانے کا اعلان ہوا ہے ، ان سے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے جو اب مملکت کو خیر باد کہتے ہوئے وطن لوٹنے کے بارے میں سوچنے لگے ہیں۔ اسی دوران تارکین کے ترسیل زر پر 6 فیصد ٹیکس عائد کئے جانے کی بات بھی سامنے آئی تھی جس سے تارکین میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی لیکن اس ہفتہ سعودی مجلس شوریٰ نے تارکین وطن کے ترسیل زر پر 6 فیصد فیس مقرر کرنے کی تجویز واپس لے لی ۔ مجلس شوریٰ کے ترجمان نے اجلاس کے بعد واضح کیا کہ ارکان شوریٰ نے تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ یہ دولت کی گردش کی آزادی کے منافی ہے ۔ شوریٰ میں اس پر بحث ہوتی ہے تو اس سے تارکین میں تشویش پیدا ہوگی۔ ترسیل کے حوالے سے بلیک مارکٹ قائم ہوجائے گی اور منی لانڈرنگ کا سلسلہ زور پکڑ جائے گا ۔ شوریٰ کے ایک رکن نے کہا کہ غیر ملکیوں کو اپنی بچت سعودی عرب میں خرچ کرنے پر آمادہ کرنے کیلئے دیگر ممالک کی طرح تفریحی خدمات فراہم کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ترسیل زر پر 6 فیصد فیس لگائی گئی تو اس سے منی لانڈرنگ میں اضافہ ہوگا ۔ سعودی عرب کا کوئی مفاد حاصل نہیں ہوگا ۔ مملکت میں غیر ملکیوں کو اپنی بچت منافع بخش اسکیموں میں لگانے کا موقع دیا جارہا ہے۔ شوریٰ میں بحث کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ترسیل زر پر فیس لگائی گئی تو بالآخر اس کا خمیازہ سعودی شہریوں کو بھگتنا پڑے گا کیونکہ تارکین اپنا محنتانہ بڑھا دیں گے ۔ ایک رکن نے کہا کہ سعودی عرب دولت کی گردش کی آزادی کے حق کو تسلیم کرتا ہے ۔ ترسیل زر پر فیس عائد کرنے سے یہ حق متاثر ہوگا۔

اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں بسے غیر ملکیوں کی بڑی تعداد کم آمدنی والے طبقہ کی ہے جو ہر ماہ ہزار تا دو ہزار ریال بینک کے ذریعہ اپنے گھر بھیجتے ہیں جس سے وطن میں ان کے اہل خانہ کی ضرورتوں کی بمشکل تکمیل ہوتی ہے ۔ اب اگر کم آمدنی والوں پر ان کی ترسیل زر پر 6 فیصد فیس لگائی جاتی ہے تو بچارے اپنی محدود ترسیل زر کی رقم میں سے 6 فیصد فیس ادا کریں گے تو ان کی وطن جانے والی رقم میں کمی ہوجائے گی جس سے ان کے اہل خانہ کا ہاتھ اور تنگ ہوجائے گا۔ لہذا مجلس شوریٰ نے ترسیل زر پر 6 فیصد فیس کی تجویز واپس لیکر ایک اچھا اقدام کیا ۔ اس اقدام سے اس اکثریت کو فائدہ پہنچے گا جو یہاں مجرد رہ کر پابندی سے اپنے اہل خانہ کو ان کی گزر بسر کیلئے بینک کے ذریعہ رقم ارسال کرتے ہیں لیکن فیملی ٹیکس کے عائد کئے جانے سے اُن تارکین پر بڑا مالی بوجھ پڑا جو یہاں بیوی بچوں کے ساتھ رہتے ہیں جنہیں ہر فیملی ممبر پر 100 ریال ماہانہ کے حساب سے ہر سال اقامہ کی تجدید سے قبل ادا کرنے پڑے گے اور یہی نہیں بلکہ یہ ماہانہ 100 ریال دوسرے 200 ریال ماہانہ ہوجائیں گے۔ اور ہر سال اس میں 100 ریال کا اضافہ ہوتا رہے گا ۔ یہی نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں یہاں پٹرول ، بجلی اور پانی کے نرخوں میں اضافہ ہونے والا ہے ۔ یہ بوجھ فیملی ٹیکس کے علاوہ ہوگا اور یہ اضافے کا اثر تو سارے خارجی باشندوں پر پڑے گا ۔ مقامی باشندے اس سے بچے رہیں گے کیونکہ سعودی باشنوں کو حکومت زر تلافی ادا کر ے گی ۔ تارکین وطن اب یہ امید لگائے ہوئے ہیں کہ 6 فیصد ترسیل زر کی فیس کی طرح حکومت فیملی ٹیکس پر بھی نظر ثانی کرے اور اسے ختم کرے یا اس میں کچھ لچک پیدا کرے۔
پچھلے ہفتے ہم نے لکھا تھا کہ ایک اندازہ کے مطابق فیملی ٹیکس کے بوجھ سے بچنے کیلئے 25 تا 40 فیصد خارجی باشندے اپنی فیملی وطن بھیج دیں گے جس سے یہاں کے مارکٹ پر فوری اثر نظر آئے گا ۔ نیز یہاں آبادی میں کمی کا اثر خانگی دواخانوں اور اسکولس پر بھی پڑے گا ۔ جہاں تک خانگی اسکولس کا سوال ہے ، ان پر تو دو سال قبل ہی سے پریشانی کے بادل منڈلانے لگے تھے ۔ اب سے کوئی چھ ماہ قبل وزیر تعلیم نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مملکت میں قائم ایسے تمام نجی اور غیر ملکی اسکولس کولائسنس کا اجراء روک دیا جائے جنہوں نے رہائشی عمارتوں میں اسکولس کھول رکھے ہیں ۔ اخباری اطلاع کے مطابق وزیر تعلیم نے مملکت میں قائم تمام خانگی اسکولس کو دو برس کی مہلت دی تھی کہ وہ اس دوران اپنی عمارتیں تبدیل کرلیں۔ یعنی اسکولس کی عمارت کیلئے جو مقررہ قوانین ہیں ان پر عمل کریں۔ وزارت کے قانون کے مطابق اسکولس کیلئے بنیادی شرط ہے کہ وہ ایسی عمارتوں میں اسکول کھولیں جنہیں خاص طور پر اسکول کیلئے ڈیزائین کیا گیا ہو جس میں پلے گراؤنڈ، اسمبلی ہال، لائبریری، لیباریٹری اور حفاظتی تدابیر کو مدنظر رکھ کر تعمیر کیا گیا ہے ۔

یہاں کے خانگی اسکولس میں لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکی اور مقامی طلباء زیر تعلیم ہیں اوران اسکولس میں بہت کم ایسے ہیں جو وزارت تعلیم کے مقرر کردہ بلڈنگ کے معیار کو پورا کرتے ہیں۔ یہاں کے ایک خانگی اسکول کے مینجنگ ڈائرکٹر سید مسعود نے سیاست نیوز کو بتایا کہ اسکول عمارت سے متعلق وزارت کے دیئے گئے وقت کا ایک سال گزرچکا ہے اور تمام اسکول کو وزارت کی جانب سے دوسری نوٹس بھی جاری کی جاچکی ہے کہ اگلے ایک سال کے اندر اسکول انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ وزارت تعلیم کی مقررہ شرائط کے مطابق بلڈنگ میں منتقل ہوجائیں جو کہ خانگی اسکولس کی اکثریت کیلئے مشکل ہے ۔ یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ اول تو اسکولس میں تقریباً 50 فیصد طلباء کی تعداد کم ہوجائے گی جس کی وجہ فیملی ٹیکس ہے ۔ اس طرح پہلے ہی اسکول کی آمدنی پر بڑا اثر پڑے گا اور اسکول کو وزارت تعلیم کے شرائط کے مطابق تعمیر بلڈنگ میں منتقل کرنے کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ جو اسکول انتظامیہ کیلئے ایک بہت بڑا مالی بوجھ ہوگا جس کا برداشت کرنا ہر اسکول کے بس کا نہیں ۔ طلباء کی تعداد کا کم ہوجانا اور نئی بلڈنگ کی عمارت کا کرایہ برداشت نہ کر کے جب بہت سے اسکولس بند ہوجائیں گے تو سینکڑوں کی تعداد میں اساتذہ اور اسکول اسٹاف بھی بیروزگار ہوجائے گا اور ظاہر ہے یہ پریشانی بھی خارجی باشندوں کے حصہ ہی میں آئے گی ۔ نیز یہاں کے سرکاری اسکولس جہاں تعلیم مفت ہے صرف سعودی طلباء ہی داخلہ پاتے ہیں یا وہ بچے جن کا تعلق عرب ملک سے ہے مگر انہیں بھی داخلہ آسانی سے نہیں ملتا۔ یہاں آباد خارجی باشندوں کی اکثریت غیر عرب ہے ۔ لہذا ان کیلئے سرکاری اسکولس میں داخلہ حاصل کرنا بھی ممکن نہیں۔ لہذا غیر عرب تارکین وطن جو ٹیکس کی ادائیگی اور بڑھتی مہنگائی کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے، انہیں اب یہی کہنا پڑے گا ’’آ اب لوٹ چلیں‘‘
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT