Tuesday , April 25 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ میں مقامی جماعت کی زائد نشستوں پر نظر، ووٹ کی تقسیم سے ٹی آر ایس فکر مند

تلنگانہ میں مقامی جماعت کی زائد نشستوں پر نظر، ووٹ کی تقسیم سے ٹی آر ایس فکر مند

25تا30 نشستوں پرمقابلہ کی صورت میں بی جے پی کو فائدہ ممکن، حلیف جماعت کو روکنے حکومت کی حکمت عملی

حیدرآباد۔/6 اپریل، (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی کے وسط مدتی انتخابات کا اشارہ ملتے ہی جس طرح بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنا موقف مضبوط کرنے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے ٹھیک اسی طرح ٹی آر ایس حکومت کی حلیف مقامی جماعت بھی زائد نشستوں کے ذریعہ اپنی عددی طاقت میں اضافہ کا منصوبہ بنارہی ہے۔ اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کا 2026 تک کوئی امکان نظر نہیں آتا لہذا موجودہ 119 نشستوں پر اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ برسراقتدار ٹی آر ایس نے اُتر پردیش میں بی جے پی کی شاندار کامیابی کے بعد تلنگانہ میں اس کے بڑھتے قدم روکنے کیلئے وسط مدتی انتخابات کا منصوبہ بنایا ہے اور اسے یقین ہے کہ 119 کے منجملہ 102 نشستوں پر قبضہ حاصل کرلے گی۔ چیف منسٹر کی جانب سے کرائے گئے سروے میں بھی اس بات کی پیش قیاسی کی گئی ہے کہ پارٹی 100 سے زائد نشستوں پر اپنا موقف مستحکم رکھتی ہے۔ ایسے میں مقامی سیاسی جماعت کے عزائم برسراقتدار پارٹی کیلئے مسائل میں اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ مقامی جماعت جس نے ہر موڑ پر حکومت کی تائید کا کوئی موقع نہیں گنوایا حتیٰ کہ مسلمانوں سے متعلق بعض حساس معاملات میں بھی حلیف جماعت کی حیثیت سے مسلم مفادات سے زیادہ اپنی دوستی نبھانے کو اہمیت دی۔ برسراقتدار پارٹی کو خود بھی اس کا احساس ہے اور چیف منسٹر بارہا حلیف جماعت کی تائید کا تذکرہ کرتے رہے ہیں۔ اب جبکہ وسط مدتی انتخابات کا بگل آئندہ چند ماہ میں کسی بھی وقت بج سکتا ہے، زائد نشستوں پر مقابلہ کے حلیف جماعت کے عزائم سے ٹی آر ایس کے امکانات متاثر ہوسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جس طرح بی جے پی مذہبی جذبات کو ووٹ میں تقسیم کرنے کی تیاری کررہی ہے اسی طرح مقامی جماعت بھی مسلمانوں کو قومی سطح پر درپیش مختلف مسائل کو اہم انتخابی موضوع بناتے ہوئے اپنی عددی طاقت میں اضافہ کی کوشش کرے گی۔ اس کے لئے وہ 25 تا30 نشستوں پر مقابلہ کا منصوبہ رکھتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ زائد نشستوں پر مقامی جماعت کے مقابلہ کی صورت میں راست طور پر ٹی آر ایس کو نقصان ہوگا اور اس کا فائدہ بی جے پی کو پہنچ سکتا ہے۔ جس طرح دیگر ریاستوں میں ووٹ کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ حاصل ہوا اسی طرح تلنگانہ میں بھی بی جے پی، سیکولر اور مسلم ووٹ تقسیم کرتے ہوئے کم سے کم اصل اپوزیشن کا موقف حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اگر ٹی آر ایس کی حلیف مقامی جماعت 30 نشستوں پر مقابلہ کرتی ہے تو اس سے ٹی آر ایس کے امکانات بری طرح متاثر ہوں گے۔ برسراقتدار پارٹی میں ان دنوں مقامی جماعت کی سرگرمیاں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں اور قائدین کا احساس ہے کہ کسی بھی طرح مجلس کو 10سے زائد نشستوں پر مقابلہ کی اجازت نہ دی جائے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT