Wednesday , May 24 2017

سوچھ سرویکشنا 2017 کی زمرہ بندی میں جی ایچ ایم سی کا گمراہ کن پروپگنڈہ
وزیر کا ٹوئٹ حقیقت سے بعید ، شہر کو سرفہرست کے بجائے 22 واں مقام
حیدرآباد۔4مئی (سیاست نیوز) سوچھ سرویکشنا 2017کی زمرہ بندی میں جی ایچ ایم سی کا گمراہ کن پروپگنڈہ اور خود ریاستی وزیر ریاستی بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ کوبھی گمراہ کردیا جس کے سبب انہوں نے بھی ٹوئیٹر کے ذریعہ یہ دعوی کردیا کہ سوچھ سرویکشنا میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو 10لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں میں سر فہرست مقام حاصل ہوا ہے اور کہہ دیا ہے کہ ملک کے میٹرو پولیٹین شہروں میں حیدرآباد کی صفائی سب سے اچھی ہو چکی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جی ایچ ایم سی کو اس فہرست میں 22واں مقام حاصل ہوا ہے جبکہ تیسرے نمبر پر پڑوسی ریاست کے شہر وشاکھاپٹنم (ویزاگ) کو تیسرا مقام حاصل ہوا ہے اور چوتھے مقام پر گجرات کا شہرسورت ہے۔نئی دہلی میونسپل کونسل کو 7 واں مقام حاصل ہوا ہے اور ریاست مہاراشٹرا کے شہر پونے کو 13واں مقام حاصل ہوا ہے۔گجرات کے مزید 3شہر بروڈہ (وڈودرہ) احمدآباد اور راجکوٹ علی الترتیب 10ویں ‘ 14ویں او ر 18ویں مقام پر ہیں وجئے واڑہ کے شہر وجئے واڑہ کو 19واں مقام حاصل ہوا۔یہ تمام وہ شہر ہیں جن کی آبادی 10لاکھ سے زائد ہے لیکن اس کے باوجود مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کا یہ دعوی کیا جانا نا قابل فہم ہے جبکہ عہدیداروں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ 10لاکھ سے زائد آبادی والے ان شہروں میں سب سے زیادہ آبادی والے شہر کی حیثیت سے حیدرآباد و بلدی حدود کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جی ایچ ایم سی حدود میںآبادی 1 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جس کے سبب جی ایچ ایم سی یہ کہنے کے موقف میں ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو سر فہرست مقام حاصل ہوا ہے۔جی ایچ ایم سی کے اس دعوے کے متعلق کسی بھی عہدیدار کے پاس کوئی جواز نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ کہا جا رہا ہے کہ جی ایچ ایم سی کو صفائی کے اعتبار سے ملک میں سر فہرست مقام حاصل ہوا ہے۔سوچھ سرویکشنا میں 434شہروں و بلدیات کا جائزہ لینے کے بعد جاری کی گئی اس درجہ بندی میں سب سے آخری مقام اترپردیش کے شہر گونڈا کو حاصل ہوا ہے جسے 2000کے منجملہ 305نشانات حاصل ہوئے۔شہر حیدرآباد کو 22ویں مقام پر 2000کے منجملہ 1605 نشانات حاصل ہوئے ہیں۔جبکہ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کے شہر وشاکھا پٹنم کو تیسرے مقام پر 1797نشانات حاصل ہوئے ہیں اسی طرح پونے کو 13ویں مقام پر 1660نشانات حاصل ہوئے ہیں۔جی ایچ ایم سی عہدیداروں کی جانب سے جاری کئے گئے گمراہ کن اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کے وزراء ان عہدیداروں کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے اعتبار سے ہی اپنے بیانات جاری کرتے ہیں جو کہ اس طرح کے گمراہ کن دعوے ثابت ہونے لگتے ہیں۔آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے جنوبی ہند ریاستوں میں سرفہرست مقام حاصل ہونے کا ادعا کیا جا رہا ہے کیونکہ پہلے مقام پر مدھیہ پردیش کے دو شہر اندور اور بھوپال ہیں جنہیں علی التریب 1808اور 1800نشانات حاصل ہوئے ہیں اور یہ پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ وشاکھاپٹنم تیسرے نمبر پر ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT