Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / BHIM ڈیجیٹل ادائیگی میں حکومت کے ایپ کو بھی مقبولیت

BHIM ڈیجیٹل ادائیگی میں حکومت کے ایپ کو بھی مقبولیت

PAYTM اور دیگر ایپس کا ادائیگی چارجس میں کمی پر غور ۔ عوام کو قدرے راحت ممکن
حیدرآباد۔21مارچ (سیاست نیوز) حکومت نقد لین دین سے پاک تجارت کے فروغ کی کوشش میں ہے اور ان کوششو ںکو کئی خانگی کمپنیوں اور بینکوں کے ساتھ حکومت کی جانب سے شروع کردہ BHIM پے منٹ ایپلیکیشن کو شہرت حاصل ہو رہی ہے اور BHIM سے مسابقت میں PAYTMاور دیگر ایپلیکیشن کی جانب سے بھی ادائیگی چارجس میں کمی کے متعلق غور کر ہے ہیں۔ مرکز کی جانب سے کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد اقدامات میں سب سے اہم قدم نقد سے پاک لین دین کا فروغ تصور کیا جارہا ہے لیکن اسے فروغ حاصل ہوتے ہی خانگی کمپنیوں نے ایپلیکیشن میں پیسہ جمع کروانے اور ادائیگی پر چارجس کے متعلق غور کرنا شروع کردیا تھا کہ اچانک مسابقت نے ان کمپنیوں کو ایسا کرنے سے باز رکھا۔قومی سطح پر کرنسی تنسیخ کے فوری بعد PAYTMکو کافی تشہیر حاصل ہوئی اور پے ٹی ایم کے ذریعہ ادائیگی کے رجحان میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اس صورتحال پر PAYTMنے پے ٹی ایم منی کیلئے 2فیصد چارجس عائد کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا لیکن مرکزی حکومت کے علاوہ دیگر کمپنیوں کی جانب سے مفت خدمات کے آغاز نےPAYTM کو بھی مفت خدمات کی فراہمی کیلئے مجبور کردیا۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ نقد سے پاک لین دین کو فروغ حاصل ہونے کی صورت میں کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ پر عائد ہونے والے چارجس میں کافی کمی ریکارڈ کی جائے گی اور آئندہ برسوں میں اس سے صارفین کو نجات بھی مل سکتی ہے۔مرکز نے BHIMکے ذریعہ ادائیگی کے فروغ کا جو فیصلہ کیا ہے اس کے بعد خانگی کمپنیوںاور بینکوں کے ایپلیکیشن سے زیادہ شہریوں کو BHIMایپ پر اعتماد حاصل ہورہا ہے اور وہ اپنے بینک کھاتہ کو BHIMایپ سے مربوط کرنے میں خوف محسوس نہیں کر رہے ہیں اسی کے علاوہ حکومت نے تمام بینکوں سے مربوط UPIیونیفائیڈ پے منٹ انٹرفیس بھی پیش کیا ہے جسکے ذریعہ مجموعی ادائیگیاں ایک جگہ ممکن ہیں اس کے باوجود لوگوں کو BHIMایپلیکشن پر زیادہ اعتماد ہے کیونکہ اس ایپلیکشن کو خود مرکزی حکومت نے شروع کیا ہے اور اس کے ذریعہ ادائیگی میں کوئی مشکل نہیں ہے ۔ بینک کاری نظام کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں نقد سے پاک لین دین کے فروغ کیلئے اقدامات میں سب سے اہم پیشرفت آدھار کے ذریعہ ادائیگی ثابت ہوگی اور ایسا ممکن ہونے کے بعد کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے چارجس سے عوام کو ہی نہیں بلکہ تاجرین کو بھی راحت ملنے کی توقع ہے۔

TOPPOPULARRECENT