Saturday , August 19 2017
Home / نوجوانوں کا صفحہ / Education & Career ایجوکیشن / کیریئر

Education & Career ایجوکیشن / کیریئر

سوال : ایس ایس سی پرانے نصاب سے ایک یا دو تین مضمون میں ناکام طلبہ کو اب امتحان میں شرکت کا موقع نہیں دیا جارہا ہے اور انہیں تلنگانہ اوپن اسکولنگ Toss میں نئے نصاب اور ایک مضمون میں فیل ہونے پر تین مضامین لکھنے کی شرط رکھی گئی ہیں۔ اس سے نہ صرف ان طلبہ کو سخت مشکلات درپیش ہوگی بلکہ ان کا کامیاب ہونا مشکل ہوجائے اور جو سرٹیفکیٹ ایس ایس سی کا دیا جاتا تھا کیا اب وہ بجائے ایس ایس سی کے اوپن  اسکول کا دیا جائے گا۔ اس ضمن میں تشویش کو دور کریں تو بڑی نوازش ہوگی۔
کئی امیدوار ،حیدرآباد ؍ اضلاع
جواب: اس سال تلنگانہ حکومت ؍ محکمہ تعلیمات لمحہ آخر میں ایک فیصلہ کیا کہ سال 2014ء یا اس سے پہلے کے قدیم نصاب کے ایس ایس سی طلبہ جو ناکام ہوگئے ان کیلئے ایس ایس سی امتحان میں شرکت کیلئے پہلے فیس وصول کرلی اور ہزاروں طلبہ نے اپنے متعلقہ اسکولس میں فیس بھی جمع کروادیئے پھر ماہ ڈسمبر میں احکامات جاری ہوئے کہ جو پرانے نصاب کے ایس ایس سی میں ناکام ہوئے وہ اب ایس ایس سی امتحان نہیں لکھ سکتے انہیں کسی بھی Toss تلنگانہ اوپن اسکول سوسائٹی کے اسٹڈی سنٹر میں فیس داخل کرنا ہے اور وہ ۔۔۔۔ (اوپن ایس ایس سی) امتحان لکھیں۔ اس کیلئے بھی 28 نومبر تا 4 ڈسمبر تک خصوصی تاریخ دی گئی تھی اور اس کی اطلاع ہزاروں طلبہ کو نہیں ملی اور کئی طلبہ جو فیس داخل کرچکے وہ پرانے نصاب سے امتحان کی تیاری بھی کررہے تھے کہ اچانک نئے احکامات سے تشویش میں مبتلاء ہوگئے اور محکمہ تعلیمات جن طلبہ کی فیس وصول کی تھی اس کو اوپس بھی کررہی ہے۔ اس طرح یہ طئے پا گیا کہ اب ٹاس Toss اوپن اسکول ہی میں ان کو شریک ہونا ہوگا۔ ہزاروں طلبہ نے مختلف سطحوں پر نمائندگیاں کی تاحال کوئی احکامات نہیں کئے گئے اور اب جو طالب علم فیس داخل نہیں کئے ان کیئلے ٹاس کی تاریخ آ سکتی ہے۔
سوال : جونیر آفیسرس کے تقررات کیلئے IRDA کا حیدرآباد کے دفتر میں جونیر آفیسرس کی 24 جائیدادوں کیلئے اعلان آیا اس کی تفصیلات اپنے کالم میں شائع کریں تو قوم کے نئی نسل کو فائدہ ہوگا اور جو حضرات اردو سے وافق ہیں وہ بھی اس کی اطلاع اپنے احباب میں نوجوانوں کو دیں تاکہ وہ فارم داخل کرسکیں۔
طالب خیر شیخ رحمن، سید ریحان ،ٹولی چوکی
جواب : IRDA انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی آف انڈیا ہے جس کا حیدرآباد میں دفتر بشیر باغ میں ہے۔ اس میں جونیر آفیسرس کے 24 پوسٹ پر تقررات کیلئے درخواست فارم طلب کئے گئے اور فارم کے ادخال کی آخری تاریخ 4 فروری ہے اس کی مکمل معلومات کیلئے ویب سائیٹ ملاحظہ کریں۔www.irda.gov.in
سوال : میری لڑکی ایم ایس سی ہے اور وہ جرنلزم کرنا چاہتی ہے۔ اس کا کونسا کورس ہے اور داخلے کب اور کس طرح ہوتے ہیں۔ براہ کرم معلومات فراہم کریں شکر گذار رہوں گی۔
عالیہ بیگم، سنتوش نگر ، حیدرآباد
جواب : جرنلزم اور ماس کمیونکیشن کے کورسز عثمانیہ یونیورسٹی اور دیگر سنٹرل یونیورسٹی میں ڈگری کے بعد ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی ہی MCJ ہے جو پہلے BCJ تھا اب اس کو دو سالہ MCJ کردیا گیا اس کیلئے کوئی بھی گریجویٹ اہل ہے اور داخلہ OVCET (انٹرنس) کے ذریعہ ہوتا ہے اور دیگر یونیورسٹیز نہیں۔ ایم اے ماس کمیونکیشن اور سماجی ڈپلوما کورسز ہیں۔
سوال : تلنگانہ میں سرکاری ملازمتوں کیلئے پبلک سرویس کمیشن کے کئی امتحانات ہوئے اور اب گروپ II بھی ہونے والا ہے۔ کیا ایم بی اے اور انجینئرس بھی الگ امتحانات ہوں گے۔ ان کا اعلان کب آئے گا اور کیا طریقہ رہے گا۔
طاہر پاشاہ قادری،موتی گلی خلوت
جواب : امیدوار اپنی تعلیمی قابلیت کے مطابق کہ میں MBA ہوں مجھے اس ڈگری پر کیا ملازمت ملے گی یا میں انجینئر ہوں میرے لئے کونسا پوسٹ بہتر رہے گا جیسے سوالات کرنا ہی غلط ہے۔ بلکہ جب کئوی سرکاری ملازمت کا اعلامیہ آتا ہے اور اس میں جو اقل ترین تعلیمی قابلیت بتائی جاتی ہے اس کے مطابق فارم داخل کریں نہ کہ اعلیٰ تعلیم کے مطابق مثال کے طور پر ان دنوں تلنگانہ پولیس کانسٹیبلس کیلئے انٹرمیڈیٹ تعلیمی قابلیت پر فارم داخل کرنا ہے لیکن 5 ہزار سے زائد امیدوار کی تعلیمی قابلیت ایم بی اے جو اس کا فارم داخل کئے اور انجینئرس کی تعداد بھی لگ بھگ 10 ہمار ہے جنہوں نے کانسٹیبلس کیلے فارم داخل کیا۔ اس طرح چپراسی کے پوسٹ کیلئے بھی ہزاروں ایم بی اے امیدوار فارم داخل کئے تھے وہ یہ نہیں دیکھیں کہ پوسٹ کیا ہے یہ ہماری قابلیت کیا ہے بلکہ سرکاری ملازمت ہے تنخواہ اچھی ہے اور مستقل نوکری ہے۔ اس طرح اب گروپ II کیلئے گریجویٹ امیدوار اہل ہیں تو اس میں ایم بی اے بھی آتے ہیں اور انجینئرس بھی تو آپ کو اور تمام اعلیٰ قابلیت ؍ ڈگری رکھنے والے امیدواروں کو مشورہ دیا جاتا ہیکہ وہ جو بھی سرکاری ملازمت کیلئے اعلامیہ کرتے اس میں جو قابلیت ؍ اہلیت بتائی گئی وہ اگر آپ کے پاس ہو تو اس کیلئے فوری فارم داخل کردیں نہ کہ اپنی اعلیٰ تعلیم کا انتظار کریں۔

TOPPOPULARRECENT