Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / Z تلنگانہ کی آر ٹی سی بسوں میں نمبر پلیٹ سے غائب

Z تلنگانہ کی آر ٹی سی بسوں میں نمبر پلیٹ سے غائب

نظام حیدرآباد سے کئے گئے معاہدہ کی خلاف ورزی ‘ حکومت کے اعلانات کا بیورو کریسی پر اثر نہیں
حیدرآباد۔/13فبروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت حیدرآبادی تہذیب و تمدن کی برقراری کے دعوے کرتی ہے جس میں اردو زبان کی ترقی، تحفظ اور فروغ کے تیقنات بھی شامل ہیں۔ لیکن حکومت کے یہ اعلانات شاید بیوروکریسی تک نہیں پہنچ پارہے ہیں جس کے نتیجہ میں حیدرآبادی تہذیب اور زبان کے تحفظ کے وعدے محض کاغذ تک محدود ہوچکے ہیں۔ نئی ریاست کے قیام کے بعد آندھرا پردیش روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو تقسیم کرتے ہوئے تلنگانہ کیلئے علحدہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن قائم کیا گیا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ تلنگانہ سے متعلق کارپوریشن نے اپنی نئی بسوں کے نمبرات سے Z کو ہٹا دیا ہے حالانکہ یہ نظام دور حکومت سے جاری ہے اور نظام حیدرآباد سے کئے گئے معاہدہ کے مطابق کارپوریشن کی برقراری تک ہر آر ٹی سی بس کے نمبر میں Z شامل رہے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ نظام حیدرآباد کی والدہ کا نام زہرہ بیگم تھا اور ان کے نام سے نظام نے عوامی ٹرانسپورٹ سسٹم کے تحت بسوں کا آغاز کیا تھا، اسوقت سے نظام کی والدہ کے بطور یادگار Z کو نمبر میں شامل رکھا گیا ہے اور یہ روایت ریاست کی تقسیم تک بھی برقرار رہی۔ بتایا جاتا ہے کہ نظام حیدرآباد کی بسوں کو حاصل کرتے ہوئے جب روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن قائم کیا گیا تو اسوقت یہ معاہدہ کیا گیا تھا کہ ہر آر ٹی سی بس کے نمبر میں Z شامل رہے گا۔ افسوس کہ تلنگانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے اپنی نئی بسں کے رجسٹریشن نمبر سے Z کو ہٹادیا ہے جو نظام حیدرآباد کے معاہدہ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ حیدرآبادی تہذیب و تمدن اور روایات کی برقراری کی امید جس حکومت سے کی گئی اس کے عہدیدار خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت کی منظوری سے تلنگانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے اس روایت کو ختم کردیا ہے یا پھر وہ اس روایت سے ناواقف ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آر ٹی سی کی قدیم بسوں حتیٰ کہ آندھرا پردیش روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کے رجسٹریشن نمبرات میں Z ابھی بھی شامل ہے۔ آندھرا پردیش کا چونکہ ریاست حیدرآباد سے خاص تعلق نہیں رہا وہ اس طرح کا فیصلہ کرتے تو کوئی حیرت نہ ہوتی لیکن سابق ریاست حیدرآباد کے روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے یہ فیصلہ کرتے ہوئے حیدرآبادی روایات کی خلاف ورزی کی ہے۔ اردو کو نظرانداز کرنے کی ایک اور مثال تلنگانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کا ’ لوگو ‘ ہے جس میں اردو غائب ہے۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے لوگو میں بھی اردو شامل نہیں۔

TOPPOPULARRECENT