قتل ایسا کہ حادثہ نظر آئے ‘ شہر میں سینئر و کیل خواجہ معز الدین کو گاڑی سے اڑا دیا گیا

,

   

نامپلی علاقہ میں پیش آئی سنگین واردات ‘ وکلا برادری میں غم و غصہ کی لہر ۔ خاطیوں کی شناخت و گرفتاری کیلئے پولیس ٹیموں کی تشکیل
متعلقہ ڈی سی پی نے کیا مقام واردات کا دورہ ۔ افراد خاندان سے بات چیت ۔ہر زاویہ سے تحقیقات کرنے کا تیقن
حیدرآباد ۔ 23 مئی (سیاست نیوز) شہرحیدرآباد کے نامپلی علاقہ میں ایک سینئر ایڈوکیٹ کا کار کی ٹکر سے قتل کردیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد علاقہ میں سنسنی پھیل گئی۔ سینئر ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین کی قتل کی اطلاع عام ہوتے ہی وکلاء برادری میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور وکلاء برادری اور بار کونسل اراکین کی بڑی تعداد خواجہ معزالدین کے مکان پہنچی۔ وکلاء برادری نے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا اور پولیس پر ناکامی اور تحفظ فراہم کرنے میں لاپرواہی کا الزام لگایا۔ شہرحیدرآباد میں لا اینڈ آرڈر کی بگڑتی اور بے قابو صورتحال کا اندازہ خواجہ معزالدین سینئر ایڈوکیٹ کے قتل سے لگایا جاسکتا ہے۔ خواجہ معزالدین آج بعد نماز فجر اپنے مکان میں موجود تھے۔ وہ اپنے ایک زیرعلاج رشتہ سے ملاقات اور مزاج پرسی کیلئے ہاسپٹل جانے گھر سے نکلے تھے اور مکان کے باہر اپنی گاڑی میں سوار ہونے ہی والے تھے کہ ایک تیز رفتار نامعلوم گاڑی نے انہیں ٹکر دے دی بلکہ منصوبہ بند طریقہ سے انہیں اڑا دیا گیا۔ کار نے اس قدر شدت سے ٹکر دی کہ خواجہ معزالدین کئی میٹر دور جا گرے۔ تعجب کی بات تو یہ ہیکہ یہ حادثہ پولیس اسٹیشن سے تھوڑی دور کے فاصلہ پر پیش آیا۔ خواجہ معزالدین پر یہ حملہ پہلی مرتبہ کیا گیا جان لیوا حملہ نہیں تھا بلکہ ان کے مخالفین نے ان پر کئی مرتبہ حملے کروائے تھے جو ناکام ہوگئے جبکہ آج کے حملے میں سینئر ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین ہلاک ہوگئے۔ ایڈوکیٹ کی ہلاکت اور کار سے دی گئی ٹکر مقامی سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہو گئی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ اس واقعہ کے بعد پولیس کے اعلیٰ عہدیدار مقام واردات پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر آف پولیس رکشھتیا کرشنامورتی نے اپنے بیان میں بتایا کہ سارے معاملہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ پولیس کی جانب سے 4 تا 5 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو مسلسل خاطیوں کے تعاقب میں جٹی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس کار سے وکیل پر حملہ کرتے ہوئے انہیں ہلاک کیا گیا اس کا کوئی نمبر نہیں تھا۔ تاہم پولیس کی ٹیمیں کیمروں کے ذریعہ تلاش کررہی ہیں اور بہت جلد خاطیوں اور قاتلوں کا پردہ فاش کیا جائے گا۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ افراد خاندان سے بات چیت کی گئی۔ مقتول ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین کے فرزند فرحان کی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور ان کے الزامات اور مشتبہ افراد کے ناموں پر غور جاری ہے اور ہر مشتبہ شخص کو تحقیقات کے دائرے میں لیتے ہوئے تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہیکہ ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین اوقافی جائیدادوں سے متعلق مقدمات لڑرہے تھے اور پولیس کو شبہ ہیکہ ان اوقافی جائیدادوں کے معاملہ میں ان کے مخالفین کی جانب سے حملہ کیا گیا ہے تاہم پولیس ہر زاویہ سے کیس کی تحقیقات کررہی ہے۔ اس موقع پر ہائیکورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ سی پربھاکر نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے خواجہ معزالدین کے قتل کی سخت انداز میں مذمت کی اور وکلاء برادری نے برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوکیٹ پروٹیکشن ایکٹ کی تشکیل کے دو ماہ بعد ہی اس طرح کی بیدردی کا مظاہرہ کیا گیا جو پولیس کی نااہلی کو بھی عیاں کرتا ہے۔ خواجہ معزالدین پر سابق میں بھی حملے کئے گئے لیکن انہیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اوقافی اراضیات پر ناجائز قابضین کے خلاف خواجہ معزالدین جدوجہد کررہے تھے اور ایک مثالی لڑائی لڑرہے تھے۔ انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ خاطیوں کو فوری گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کرے۔عA/b