پاکستان کی جانب سے ہندوستان او رامریکہ میں ’ائی ای ڈی۔ وہیکل‘ حملہ کی جانکاری ملنے کے بعد جموں او رکشمیر میں الرٹ

,

   

سری نگر۔چند دن قبل گاڑی میں دھماکو مادہ لاد کر دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کے متعلق الرٹ ملنے کے فوری بعد جموں او رکشمیر میں تمام سکیورٹی چونکا کردی گئی ہے۔

سنڈی ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے سری نگر نے کے اعلی سکیورٹی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے اس بات کی جانکاری دی ہے پلواماں ضلع میں ہوسکتا ہے اونتی پورہ کے قریب امکانی حملہ کی جانکاری دی ہے۔

بشکیک میں ایس سی او سمیت میں جہاں پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی تھی‘ وزیراعظم نریندر مودی نے چین کے صد زی جین پنگ سے کہاہے کہ

پاکستان کو ”دہشت گردی سے پاک“ ماحول تشکیل دینے کی ضرورت ہے مگر اس موقع پر نئی دہلی کو اسلام آباد کی جانب سے ایسے کوئی آثار دیکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کی پہل انہو ں نے کی تھی مگر ان کی کوششوں کو ”تباہ“ کردیاگیاتھا۔

جموں کشمیر میں تمام سکیورٹی الرٹ کے بعد چوکنا کردی گئی‘جو کچھ دن پہلے ائی ہے‘ جو دہشت گردوں کی جانب سے ایک گاڑی پر دھماکو آلات نصب کرکے دھماکہ کرنے کے متعلق ہے۔

مذکورہ عہدیدار نے کہاکہ ”پاکستانیوں نے اسلام آباد میں واقع ہمارے ہائی کمیشن کے ذریعہ امکانی حملے کے متعلق جانکاری فراہم کی ہے۔

اس کے علاوہ انہو ں نے یہ جانکاری امریکہ کے ساتھ بھی شیئر کی ہے‘ جس نے ہمیں بھی جانکاری دی ہے۔ لہذا یہ جانکاری راست اور اسی کے ساتھ امریکہ کے ذریعہ ہمارے پاس ائی ہے“۔

عہدیدار نے بتایاکہ ”مذکو رہ حملہ پاکستانیوں نے کہاکہ ذاکر موسی کی موت کے بدلے کے لئے تیار کردہ منصوبہ ہے“۔

موسی جو القاعدہ کی ملحقہ انصارغزوۃ الوۃ الہند کاکشمیرمیں حزب المجاہدین سے علیحدگی کے بعد مئی2017میں قائم کیاتھا‘ کو پچھلے ماہ ترال علاقے میں ایک اپریشن میں ماردیاگیاتھا۔

پولیس ذرائع نے کہاکہ انصار جس نے ایک اندازے کے مطابق درجنوں دہشت گردوں کو تحریک سے جوڑا تھا اب اس میں ”دو سے تین دہشت گردوں“ تک کی گرواٹ ائی ہے۔

فبروری14کے روز سی آر پی ایف کے قافلے پر ایک خود کش حملہ ہوا تھا جس کے میں چالیس جوان شہید ہوگئے ہیں‘ اس کے بعد 26فبروری کے روز بالاکوٹ میں جوابی کاروائی کے طور پر ہندوستان کے فضائیہ کاروائی کی اوراگلے روز پاکستان نے بھی اپنا ردعمل پیش کیاتھا۔

پاکستان کی جانب سے ونگ کمانڈر ابھینندن کی واپسی کے بعد دونوں کے درمیان میں کشیدگی کم ہوئی تھی