کاروں اورسڑکوں کے بغیر سعودی عربیہ مستقبل کے شہر کی تعمیر کی طرف گامزن

,

   

جدہ۔سعودی عربیہ ایک نئے پراجکٹ”دی لائن“ کے تحت 170کیلو میٹر طویل چہل قدمی کے قبل بہت جلد بستی بسائے گا۔یہ سڑکوں اور کاروں کے بغیر مستقبل کی ہائپر کمیونٹیوں کے لئے پیدل چلنے پر مشتمل بیلٹ ہوگا۔

این ای او ایم میں 500بلین امریکہ ڈالر کے پراجکٹ کا یہ حصہ ہے اور یہ بہت ممکن ہے کہ 2021کے پہلے سہ ماہی میں اس کی شروعا ت ہوگی۔

مذکورہ سفر’دی لائن‘ کے اندر منٹ سے زیادہ تک کا نہیں ہوگا اور شہر کے اطراف برق رفتار ٹرنزٹ تعمیرکیاجائے گا۔ اس میں یومیہ ضرورتیں جیسے اسکولوں‘ میڈیسن اور اسپتال بھی ہیں جہاں پر 5منٹ میں پہنچا جاسکتا ہے۔

ولی عہد محمد بن سلما ن نے کہاکہ”اس پراجکٹ میں ایک ملین مکینوں کو رکھاجائے گا وہیں 2030تک3,80,000ملازمتیں تشکیل دی جائیں گے۔

اردگرد100ڈالر سے 200ڈالر بلین کا اس انفرسٹچکر کے لئے استعمال کیاجائے گا۔ولی عہد نے کہاکہ ”دی لائن میں سرمایہ کاری کی ریڑھ کی ہڈی سعود ی حکومت‘ پی ائی ایف اور عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے اگلے دس سالوں میں این ای او ایم کی حمایت کے لئے500بلین ڈالر ائیں گے“۔

سعودی میڈیا نے چیف ایکزیکٹیو نادھم النصر کے حوالے سے کہاکہ ”این ای او ایم کے دنیابھر میں بڑے ائیر پورٹس ہیں“۔ تاہم نہ تو مکمل تفصیلات او رنہ کی تعمیری کاموں کے لئے وقت کا تعین کا کوئی اعلان نہیں کیاگیاہے۔

اس پراجکٹ جس کو بہادر خواب اور جرتمندانہ فیصلے کے طور پر پیش کیاجارہا ہے کا 2019میں سب سے پہلے اعلان کیاگیاتھا اور اس منصوبے کو دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ کے شمال مغربی خطہ10,000اسکوئر میل تک پھیلاہوا ہوگا۔

وہاں کے تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ مذکورہ پراجکٹ کافی حد تک حقیقت پسندانہ ہے کیونکہ سرمایہ کاری کے لئے اس خطہ کے دوبئی‘ ابوظہبی اور قطر سے ٹرانسپورٹ اور کاروبارکے لئے تعلقات کافی بہتر ہیں