گھر سے فرار سعودی دوشیزہ رہف محمد کو کناڈا میں پناہ ملی

,

   

اقوام متحدہ نے کناڈا کی حکومت سے پناہ دینے کی درخواست کی تھی‘ کناڈا اورسعودی عرب کے تعلقات مزید کشیدہ ہوسکتے ہیں

اوٹاوا۔اٹھارہ سالہ سعودی دوشیزہ رہف محمد القعون کو کناڈا میں پناہ مل گئی ہے ۔ اس سے قبل کناڈا کی حکومت نے اپنے ہاں پناہ دینے کا اعلان کیاتھا جس کے بعدوہ بینکاک سے آج ٹورنٹو پہنچ گئی۔

کناڈا کے وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ نے ٹورنٹو ائیر پورٹ پر رہف محمد کا استقبال کیا۔ خیال رہے کہ رہف محمد القعون سعودی عرب سے فرار ہوکر آسڑیلیاجارہی تھی او رکئی دنوں سے بینکاک میں تھی۔

کناڈا کے درالحکومت اوٹاوہ سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق 18سالہ رہف محمد القعون سعودی عرب میں اپنے گھر والوں کی طرف سے مبینہ بدسلوکی اور جبری شادی کے منصوبے سے فرار ہوکر بیرون ملک پناہ لے لینے کی خواہش مند تھی ‘ اس لئے وہ واپنے وطن سے فرار ہوئی تھی۔ وہ شروع میںآسڑیلیا جانا چاہتی تھی مگر اسے تھائی لینڈ کے درالحکومت بینکام میں حکام نے روک لیاتھا۔

اس کی وجہہ اس کے پاس کوئی سفر دستاویزات نہ ہونا تھی‘ کیونکہ بینکاک میں سعودی اہلکاروں نے مبینہ طور اس کاپاسپورٹ زبردستی اس سے لے لیاتھا۔ ریف محمد القعون گذشتہ کئی دنوں سے بینکاک ائیر پورٹ کے ایک ہوٹل میں مقیم تھی۔

شروع میں تھائی حکام نے اسے ملک بدر کرکے واپس سعودی عرب بھیجنے کا سوچا تھا لیکن اس امکان کی انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت کی جانے لگی تھی۔ سوشیل میڈیا پر رہف کی بینکاک سے سعودی عرب ممکنہ ملک بدری کے خلاف شدید احتجاج کے بعد تھائی حکام نے اپنا فیصلہ ملتوی کردیاتھا او رانسانی حقوق کی کٹی تنظیمیں رہف کی مدد کے لئے سرگرم ہوگئی تھیں

۔اس پیچیدہ صورت حال کے آغاز کے چند ہی روز بعد اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے نے رہف کو پناہ کی متلاشی یک سعودی خاتون کے طور پر باقاعدہ تسلیم کرلیاتھا۔ اسی دوران کناڈا میں حکام نے یہ اشارہ بھی دیاتھا کہ اگر رہف محمد القنون کناڈا ائے تو اسے سیاسی پناہ دیے جانے کے امکانات روشن ہوں گے

۔ اس پیش رفت کے بعد کناڈا کے وزیراعظم جسٹس ٹروڈو نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں اچانک یہ اعلان کردیا تھا کہ کناڈا رہف کو اپنے ہاں پناہ دینے پر تیار ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اوٹاوہ حکومت کا رہف محمد القعون کو کناڈا میں پناہ دینے کا فیصلہ یقینی طور پر کناڈا اور سعودی عرب کے مابین پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ کا سبب بنے گا۔