ہندوستانیوں کے بیرونی ممالک میں 216-490بلین ڈالرس پھنسے ہوئے ہیں‘ کالے دھن کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ رپورٹ

,

   

نئی دہلی۔این ائی پی ایف پی‘ این سی اے ای آر اور این ایف ائی ایف کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق ملک کے باہر ہندوستانیوں کا غیر محسوب دولت ایک اندازہ کے مطابق 216.48بلین ڈالر سے 490بلین ڈالر جو 1980سے لے کر 2010کے مختلف دور کی رقم ہے۔

مذکورہ مطالعہ جس کو تین اداروں نے کیاہے سے پتہ چلا ہے کہ وہ جس سے غیر محسوب آمدنی سب سے زیادہ ائی ہے وہ رائیل اسٹیٹ‘ کانکنی‘ فارماسیٹکل‘ پان مصالحہ‘ گٹکا‘ تمباکو‘

بغیر ناپ تول کا سونا چاندی‘ اشیاء فلم اور تعلیم کے شعبہ ہیں اورکہاکہ لوک سبھا میں پیر کے ر وز اسٹانڈنگ کمیٹی برائے فینانس نے ایک رپورٹ بھی پیش کی ہے۔

مارچ2011میں فینانس منسٹر ی نے این ائی پی ایف پی‘ این سی اے ای آر اور این ائی ایف ایم سے استفسار کیاتھا کہ ملک کے باہر او راندر غیر محسوب آمدنی اور دولت پر مشتمل ایک سروے منعقد کرے۔

اس نے کہاکہ”ایسا ہے کہ غیرمحسوب آمدنی او ردولت کا قابل بھروسہ اندازہ لگانا مشکل کام ہے‘یہ حوالہ ان تینوں اداروں کی جانب سے غیرمحسوب آمدنی پر مشتمل اندازہ کی تصدیق ہے۔