چین کے یومیہ کویڈ معاملات میں ریکارڈ اضافہ۔ رپورٹ

,

   

چینی مین لائنڈ نے 3927نئے مقامی سطح پر منتقل ہونے کویڈ 19معاملات کی خبر دی ہے
بیجنگ۔سرکاری ڈیٹا بتارہا ہے کہ چین میں جب سے وباء شروع ہوئی ہے اس وقت سے اب تک چہارشنبہ کے روز سب سے زیادہ کویڈ19کے یومیہ معاملات درج ہوئے ہیں۔مذکورہ سرکاری میڈیا ادارہ گلوبال ٹائمز(جی ٹی) نے خبر دی ہے کہ ”چین کے مین لائنڈ نے 3927نئے مقامی سطح پر منتقل ہونے والے کویڈ19کے معاملات درج ہوئے ہیں اور 27517نئے مقامی غیر علامتی معاملات درج ہوئے ہیں“۔

رائٹرس نیوز ایجنسی کے مطابق تازہ اعداد وشمار سابق کے اپریل13کو درج کی گئی تعداد کا ریکارڈ توڑ دیاہے‘ جب29317تک معاملات پہنچ گئے تھے“۔ پیر کے روز چین کے اونچے صحت کے عہدیدار نے کہاکہ کرونا وائرس کے منظرعام پر آنے کے بعد سے اب تک ملک کو ”سب سے زیادہ مشکل اور خراب تارین مخالف وبائی حالات“ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

بیجنگ سنٹر برائے انسداد وباء اور کنٹرول (سی ڈی سی) لیو زیوفنگ کے حوالے سے جی ٹی نے کہا ہے کہ چین کرونا وائرس سے مقابلے میں چین کو ”حساس اور سخت ترین وقت سے گذر نا“ پڑرہا ہے۔

انہوں نے لوگوں سے گھروں میں معمرین اور دیگر امراض کاشکار افراد کی حفاظت کرنے کو کہا ہے۔

رائٹرس نے سوشیل میڈیا پر گشت کررہے ویڈیوز کے حوالے سے کہا کہ خاص طور پر اس ہفتہ زہنگ زاہو شہر میں فاکس کونن کے فلیگ شب ائی فون پلانٹ سینکڑوں کوکارکنان کو احتجاج کرتے ہوئے دیکھا گیاہے جہا ں سے مارچ کرتے ہوئے مرد اور عورتوں کو تحویل میں لیاگیاہے جو ہزمت سوٹ اور تشدد پولیس نے کیاہے۔

چین میں مظاہرے زہنگ زاہو شہر کی بڑی فیکٹری میں بدامنی کی نشاندہی کررہے ہیں۔ مذکورہ ورکرس بونس ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہہ سے الجھن کا شکار ہیں ایسا مظاہرین نے راست نشریات میں کہہ رہے ہیں۔

رائٹرس نے فی الفور ویڈیوز کی تصدیق نہیں کی ہے۔ مذکورہ احتجاج ملک میں مزید خطرانک کویڈ قوانین کی وجہہ سے الجھن کا شکار لوگوں کررہے ہیں جو خطرے کی نشانی ہے۔ فوٹیج کے مطابق دیکھا یاگیاہے کہ مذکورہ ورکرس جنھیں مکمل ہزمات سوٹ پہنے ہوئے لوگوں نے گھیرے میں لیاہے نعرے لگارہے ہیں کہ ”ہمیں ہمارے پیسے دو“۔

جبکہ ایک او رفوٹیج میں آنسو گیس شل برساتے ہوئے دیکھایاگیا ہے اور ورکرس قرنطین کی رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ رائٹرس کی خبر ہے کہ بعض ورکرس نے شکایت کی تھی کہ انہیں ان ساتھیوں کے ساتھ جس کو کویڈ19کی جانچ میں مثبت پایاگیاہے ڈور میٹرس شیئرکرنے کے لئے مجبور کیاگیاہے۔

ان الزامات کومسترد کردتے ہوئے فاکس کنن نے ایک بیان میں کہاکہ ان کے ادائیگی کے معاہدے کو پورا کرلیاگیاہے او رنئے بھرتیوں کے ساتھ کیمپس میں رہنے والے متاثرہ عملے کی خبریں ”غلط“ تھیں۔

کمپنی نے مزیدکہاکہ ”کسی بھی تشدد کے متعلق کمپنی ملازمین او رحکومت کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گی تاکہ اس طرح کے واقعات کودوبارہ رونما ہونے سے روکا جاسکے“۔ اس سے قبل چین کے شہر زہنگ زاہو سے اکٹوبر میں اس طرح کی خبریں موصول ہوئی تھی۔

کویڈ سے متاثرہ زہنگ زاہو میں ملک کی سب سے بڑی ائی فون فیکٹری سے تارکین وطن کارکنوں کی بڑی تعداد اپنے آبائی شہروں کو واپس بھاگ رہی ہے۔