ء 2005 سے قبل جاری کردہ کرنسی نوٹ واپس لینے کا اعلان

حیدرآباد 3 مئی (سیاست نیوز) ریزرو بینک آف انڈیا نے ملک بھر میں موجود 2005 ء سے قبل جاری کردہ کرنسی نوٹوں کو واپس حاصل کرتے ہوئے صرف 2005 ء کے بعد جاری کردہ نوٹوں کو قابل استعمال بنانے کی تاریخ 30 جون 2015ء مقرر کردی ہے لیکن اس کے باوجود تجارتی مراکز پر 2005 ء سے قبل کی کرنسی نوٹ قبول نہیں کی جارہی ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے بڑ

حیدرآباد 3 مئی (سیاست نیوز) ریزرو بینک آف انڈیا نے ملک بھر میں موجود 2005 ء سے قبل جاری کردہ کرنسی نوٹوں کو واپس حاصل کرتے ہوئے صرف 2005 ء کے بعد جاری کردہ نوٹوں کو قابل استعمال بنانے کی تاریخ 30 جون 2015ء مقرر کردی ہے لیکن اس کے باوجود تجارتی مراکز پر 2005 ء سے قبل کی کرنسی نوٹ قبول نہیں کی جارہی ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے بڑے تجارتی اداروں نے 2005 ء سے قبل جاری کردہ نوٹ قبول کرنا بند کردیا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سال گزشتہ حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے 2005 ء سے قبل جاری کی گئی تمام کرنسی نوٹ بالخصوص 500 اور 1000 روپئے کے نوٹ واپس لینے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن مختلف گوشوں کی جانب بڑھتے دباؤ کو دیکھتے ہوئے تاریخ میں توسیع کا سلسلہ جاری رہا اور اب ریزرو بینک آف انڈیا کے تازہ سرکیولر کے مطابق 30 جون قطعی تاریخ دے دی گئی ہے تاکہ جن لوگوں کے پاس بھی 2005 ء سے قبل کے نوٹ موجود ہیں وہ انھیں تبدیل کروالیں۔ ذرائع کے بموجب غیر محسوب دولت جو جمع ہے اسے باہر لانے کے لئے حکومت نے آر بی آئی کے تعاون سے یہ اقدام کیا ہے تاکہ کرنسی نوٹوں کی شکل میں موجود غیر محسوب دولت کو بازار میں واپس لایا جاسکے۔ تجارتی اداروں کا کہنا ہے کہ 2005 ء سے قبل جاری کردہ نوٹ قبول کرنے سے اس لئے انکار کیا جارہا ہے چونکہ جب بینک میں یہ نوٹ جمع کروائے جارہے ہیں تو بینک اس کی تفصیل حاصل کررہا ہے اور آر بی آئی کے سرکیولر کے مطابق آر بی آئی نے تمام بینکوں سے 2005 ء سے قبل جاری کردہ کرنسی نوٹ واپس لے لئے ہیں اور اس بات کی ہدایت بھی جاری کردی گئی ہے کہ وہ اے ٹی ایم یا کھاتہ داروں کے ذریعہ ان نوٹوں کو دوبارہ بازار میں پہونچنے نہ دیں بلکہ جو نوٹ بینک کو وصول ہورہے ہیں انھیں آر بی آئی کے حوالے کریں۔ حیدرآباد و سکندرآباد میں موجود مختلف تجارتی اداروں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ جاریہ سال کی ابتداء سے ہی ان کرنسی نوٹوں کا چلن تقریباً بند کردیا گیا ہے اور قبول کرنے سے منع کیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں بازار میں ان کرنسی نوٹوں کی گشت سے عوام کو بھی مشکلات ہوں گی اسی لئے بینک کے ذریعہ ہی ان نوٹوں کی تبدیلی کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ ایک بینک عہدیدار کے بموجب جن لوگوں کے پاس بھاری تعداد میں اس طرح کی کرنسی جمع ہے وہ ان کی تبدیلی سے خائف ہے چونکہ بڑی تعداد میں اس کرنسی کی موجودگی اس بات کے شبہات پیدا کرتی ہے کہ یہ غیر محسوب دولت ہے اسی لئے یہ گھر میں بغیر تبدیل ہوئے رکھی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کے متعلق بینک عہدیدار کا کہنا ہے کہ بینک اب بھی 2005 ء سے قبل جاری کردہ نوٹ قبول کرنے سے انکار نہیں کررہے ہیں لیکن اگر کوئی لاکھوں کی رقم 2005 ء سے قبل جاری کردہ نوٹوں میں ہو تو بینک عہدیدار چوکسی اختیار کررہے ہیں۔ چونکہ یہ معاملات بسا اوقات سنگین نوعیت اختیار کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT