Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / ء1984 ء کے فسادات ، نسل کشی کے مترادف

ء1984 ء کے فسادات ، نسل کشی کے مترادف

متاثرین میں امداد کی تقسیم ، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا خطاب

متاثرین میں امداد کی تقسیم ، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا خطاب
نئی دہلی ۔ 26 ڈسمبر ۔ (سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے 1984ء کے مخالف سکھ فسادات کو قتل عام و نسل کشی قرار دیا اور کہا کہ ایسے کئی افراد جن کا اس بربریت میں رول رہا ہے ۔ ہنوز سزاء نہیں پاسکے ہیں۔ راج ناتھ سنگھ نے ان فسادات کے متاثرین کو اضافہ شدہ معاوضہ پر مبنی چیکس پیش کرتے ہوئے مغربی دہلی کے علاقہ تلک ویہار میں کہا کہ ’’ان واقعات ( مخالف سکھ فسادات ) میں ایسے کئی افراد ہیں جنھیں ہنوز سزاء نہیں ملی ہے ۔ مجھے ہمارے نظامیہ عدلیہ پر بھروسہ ہے اور یقینا ان افراد کو بھی سزاء ملے گی ‘‘ ۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا ’’میں جانتا ہوں کہ جب تک ان افراد کو سزا ء نہیں ملے گی متاثرین کو راحت حاصل نہیں ہوگی ۔ میں دوبارہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ حکومت آپ کے ساتھ ہے اور حتی کہ برے دنوں میں بھی ہم آپ کے ساتھ تھے۔ اس تقریب میں وزیر داخلہ نے مخالف سکھ فسادات کے 17 متاثرین میں فی کس پانچ لاکھ روپئے کے چیکس تقسیم کئے ۔

حکومت کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق تنقیح کے بعد دیگر 2,459 متاثرین کو اضافہ شدہ معاوضہ پر مشتمل امداد دی جائے گی ۔ راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ 1984 کے مخالف سکھ فسادات کے متاثرین کی شکایت کا جائزہ لینے کیلئے انھوں نے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس کمیٹی سے شکایات رجوع کرنے والوں کے مسائل کو حکومت کی طرف سے حل کیا جائے گا ‘‘ ۔ مرکز نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ 1984 ء کے مخالف سکھ فسادات میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو فی خاندان پانچ لاکھ روپئے معاوضہ ادا کیا جائے گا ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس کا کریڈٹ وہ وزیراعظم نریندر مودی کو دیں گے ۔ وزیر داخلہ نے ان فسادات کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ فساد نہیں تھا بجائے اس کے یہ نسل کشی تھی ۔ سینکڑوں بے قصور افراد کو ہلاک کیا گیا ۔ کروڑہا روپئے کا معاوضہ دینے کے باوجود متاثرین فسادات کے عزیزوں کا دکھ کم نہیں ہوسکتا ‘‘ ۔ اس تقریب میں چند متاثرین فسادات کے رشتہ داروں نے کہاکہ معاوضہ میں اضافہ کے بجائے وہ خاطیوں کو سزاء دینا چاہتے ہیں۔
فسادات میں شوہر سے محروم 70 سالہ امرجیت نے چیک حاصل کرنے کے بعد کہا کہ وہ ’’روپیہ پیسے سے میرا دکھ درد کم نہیں ہوگا ۔ میں چاہتی ہوں کہ خاطیوں کو سزاء دی جائے ۔ 30 سال گذرنے کے باوجود خاطی سڑکوں پر آزاد گھوم رہے ہیں ‘‘ ۔ اس خاتون نے کہا کہ ہم اس حکومت سے کسی دوسری چیز کی کوئی توقع نہیں کررہے ہیں بلکہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ فسادات 30 سال پہلے ہوئے تھے اور انصاف کیا جانا چاہئے ۔ ایک اور بیوہ بخشیش کور نے بھی کہا کہ ’’میں رقم نہیں انصاف اچاہتی ہوں ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT