Wednesday , October 24 2018
Home / شہر کی خبریں / آئندہ انتخابات میں کانگریس سے اتحاد ‘ تیسرے محاذ کی تائید نہیں

آئندہ انتخابات میں کانگریس سے اتحاد ‘ تیسرے محاذ کی تائید نہیں

جھارکھنڈ مکتی مورچہ لیڈر ہیمنت سورین کا بیان ۔ راہول گاندھی سے ملاقات کا ادعا
حیدرآباد 6 مارچ (سیاست نیوز) قومی سطح پر کانگریس اور بی جے پی کے متبادل کے طور پر تیسرا محاذ تشکیل دینے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرنے سے قبل ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔ کے سی آر نے تین دن قبل کانگریس اور بی جے پی کے خلاف تھرڈ فرنٹ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا اور ٹی آر ایس کی جانب سے ممتا بنرجی، ہیمنت سورین، پون کلیان، اجیت جوگی اور دوسری جماعتوں سے مکمل تائید و حمایت حاصل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ دوسرے ہی دن چیف منسٹر تلنگانہ نے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے مختلف شہروں میں سیول سرویس کے ریٹائرڈ عہدیداروں اور فوج کے تینوں شعبوں کے ریٹائر عہدیداروں کے علاوہ سماج کے مختلف طبقات اور تنظیموں سے بھی مشاورت کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ان کی کوششوں کو آج اس وقت دھکا لگا جب جے ایم ایم کے قائد ہیمنت سورین نے آئندہ انتخابات میں کانگریس سے اتحاد کرتے ہوئے انتخابی مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہیمنت سورین نے کہاکہ انھوں نے تھرڈ فرنٹ کی کوئی تائید نہیں کی ہے بلکہ ان کی صدر کانگریس راہول گاندھی سے ملاقات ہوئی ہے جس میں دونوں کے درمیان ایک دوسرے سے اتحاد کرتے ہوئے اسمبلی اور پارلیمنٹ کے لئے مقابلہ کرنے سے اتفاق کیا گیا ہے۔ جے ایم ایم کی پہل پر راہول گاندھی نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ 48 گھنٹوں میں ہیمنت سورین کا موقف تبدیل ہوجانے سے تھرڈ فرنٹ کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرنے سے قبل ہی ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔

 

کے سی آر کے مجوزہ تیسرے محاذ سے کوئی خطرہ نہیں۔ بی جے پی
حیدرآباد 6 مارچ ( پی ٹی آئی ) بی جے پی نے آج کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے غیر کانگریس و غیر بی جے پی جماعتوں کا تیسرا محاذ بنانے کی کوششیں شمال مشرقی ریاستوں کے نتائج پر ان کا بے چینی والا رد عمل ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ اس منصوبہ سے بی جے پی یا این ڈی اے کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ بی جے پی ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے کہا کہ ان کی پارٹی کو تریپورہ میں تشکیل حکومت کیلئے زبردست تائید حاصل ہوئی ہے ۔ میگھالیہ اور ناگالینڈ میں بھی ان کی پارٹی نے جیت حاصل کی ہے اس سے کئی سیاسی جماعتوں میں خوف پیدا ہوگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT