Monday , December 18 2017
Home / دنیا / آئندہ سال 10,000 شامی پناہ گزینوں کو امریکہ میں بازآباد کیا جائے : اوباما

آئندہ سال 10,000 شامی پناہ گزینوں کو امریکہ میں بازآباد کیا جائے : اوباما

پناہ گزینوں کو امریکی عوام کی تائید، پناہ گزینوں کے ساتھ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی دراندازی کا اندیشہ

واشنگٹن ۔ 11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال کم و بیش 10,000 شامی پناہ گزینوں کو امریکہ میں پناہ دی جائے گی حالانکہ بارک اوباما کو مشرق وسطیٰ کی خانہ جنگی سے متاثرہ عوام کی خاطرخواہ مدد نہ کرنے پر شدید تنقیدوں کا سامنا ہے۔ تاہم کل وائیٹ ہاؤس ترجمان جوش ارنیسٹ نے بتایا کہ صدر نے کل ہی یہ احکامات جاری کئے ہیں کہ امریکہ میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد بڑھائی جائے اور 30 ستمبر تک اختتام پذیر ہونے والے مالیاتی سال تک 1800 پناہ گزین امریکہ آ چکے ہوں گے۔ علاوہ ازیں مسٹر ارنیسٹ نے کہا کہ اوباما نے واضح طور پر کہہ دیا ہیکہ آئندہ مالیاتی سال تک امریکہ میں کم و بیش 10,000 شامی پناہ گزینوں کو بازآباد کیا جائے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ آج عالمی سطح پر عوام میں اس بات کا غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ روزانہ اخبارات، ٹیلیویژن اور سوشیل میڈیا پر شامی پناہ گزینوں کے غرقاب ہونے کی تصاویر اور خبریں بھری پڑی ہیں جس کے بعد عالمی سطح پر ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ انسانیت کے ناطے ان کا متعلقہ ملک شامی پناہ گزینوں کی امداد کیلئے آگے آئے۔ دوسری طرف زائد از 62000 امریکی شہری ایسے ہیں جنہوں نے ایک درخواست تیار کرتے ہوئے اس پر دستخطی مہم چلائی ہے اور اوباما انتظامیہ کو اس بات کیلئے مجبور کیا ہے کہ 2016ء تک کم و بیش 65000 پناہ گزینوں کو امریکہ میں بازآباد کیا جائے۔

 

جوش ارنیسٹ کا یہ بھی استدلال ہیکہ حکومت امریکہ نے جس طرح کا ردعمل ظاہرکیا ہے وہ بھی اپنی جگہ عیرمناسب نہیں ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں شامی پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے جو خانہ جنگی سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے در در بھٹک رہے ہیں کیونکہ انہیں خود ان کے ملک، شہر اور مکانات سے بھاگ نکلنے پر مجبور کیا گیا ہے جس کیلئے تشدد کا سہارا لیا جارہا ہے۔ ہمیں بس یہی دیکھنا ہے کہ کیا ہم ان پناہ گزینوں کو ان کی بنیادی ضروریات فراہم کرسکیں اور یہی وجہ ہے کہ انسانی بنیادوں پر نہ صرف شامی پناہ گزین بلکہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں انسانیت سوز مظالم کا شکار افراد کیلئے امریکہ نے ہمیشہ اپنی مالی امداد سب سے پہلے روانہ کی ہے۔ اگر صرف شام کی خانہ جنگی کو دیکھا جائے تو صرف اس کے لئے ہی امریکہ نے 4 بلین ڈالرس مختص کئے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ اس وقت دنیا میں جہاں کہیں بحران کی کیفیت ہے اور عوام اپنا ملک چھوڑ کر امریکہ کی جانب رخ کررہے ہیں تو ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے اور امریکہ سالانہ طور پر کم و بیش 70,000 متاثرین کو قبول کررہا ہے البتہ جہاں تک شامی پناہ گزینوں کو اپنانے کا سوال ہے تو امریکہ نے اس معاملہ میں کچھ سستی کا مظاہرہ کیا ہے جس کا وہ اعتراف کرتا ہے۔ اسی دوران فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن کے ڈائرکٹر جیمس کومی سے یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ کیا اس بات کا خدشہ موجود نہیں ہے کہ شامی پناہ گزینوں کی بھیڑ میں دولت اسلامیہ کے جنگجو بھی شام ہوکر امریکہ آجائیں گے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعی ایک خطرہ ہے جس نے ہمیں پریشان کر رکھا ہے۔ ہمیں پناہ گزینوں پر مسلسل نظر رکھنی ہوگی کہ ان کے ساتھ اور کون امریکہ آرہا ہے جس کیلئے سیکوریٹی چیک اپ میں اضافہ کیا جائے گا۔

 

امریکہ پر حملہ کے 14 سال
صدر اوباما نے 9/11 مہلوکین کو خراج پیش کیا
واشنگٹن ۔ 11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما اور خاتون اور مشیل اوباما نے آج 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کی 14 ویں برسی کے موقع پر سوگ منانے والے امریکیوں کی قیادت کرتے ہوئے خراج پیش کیا۔ اس حملہ میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نیویارک میں پولیس اور مہلوکین کے رشتہ داروں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر مقام پر مہلوکین کے کنندہ ناموں کو پڑھتے ہوئے گراونڈ زیرو پر خراج پیش کیا۔ یہاں نیشنل 9/11 میموریل اور میوزیم تعمیر کیا گیا ہے۔ صبح 8 بجکر 46 منٹ کو القاعدہ کے اغواء کاروں نے امریکی ایرلائنس کی فلائیٹ 11 اغواء کرنے کے بعد ٹوئن ٹاور پر حملہ کیا تھا۔ اوباما نے اپنی اہلیہ اور چیف آف اسٹاف ڈینیش میگڈونوف نیشنل سکریٹری اڈوائزر سوسان رائس اور ترجمان جوش ایرنسٹ کے بشمول حملہ کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ خاموشی منائی۔ وائیٹ ہاؤز پر امریکی پرچم سرنگو کردیا گیا تھا۔ صدر امریکہ اور ان کی اہلیہ خاموشی سے پیدل چلتے ہوئے تعزیتی مقام پر پہنچے اور کچھ دیر ٹھہرے رہے۔

TOPPOPULARRECENT