Friday , November 17 2017
Home / شہر کی خبریں / آئندہ ماہ سے سعودی ویزا کے نئے قوانین ، ملازمت کیلئے مقامی شہریوں کو ترجیح

آئندہ ماہ سے سعودی ویزا کے نئے قوانین ، ملازمت کیلئے مقامی شہریوں کو ترجیح

لاکھوں این آر آئیز کو مشکلات ممکن ، کمپنیوں سے ویزوں کی منسوخی
حیدرآباد۔24اگسٹ (سیاست نیوز) خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب میں ملازمت کے مواقع نے ہندستانی مسلمانوں کی معاشی حالت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار اداکیا ہے لیکن بتدریج سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے دروازے ہندستانیوں کے لئے بند ہونے لگے ہیں اور آئندہ ماہ کے اواخر تک سعودی عرب میں ملازمت کر رہے ہندستانیوں کے لئے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اوراس بات کا بھی خدشہ ہے کہ سعودی عرب میں خدمات انجام دے رہے ہندستانی شہریوں کو ملازمتو ں سے برطرف بھی کیا جانے لگے۔ ستمبر 2017سے حکومت سعودی عرب نے نئے ویزا قوانین پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان قوانین کے مطابق اب ہر کمپنی بیرونی شہریوں کو ملازمت کی فراہمی کیلئے ویزا حاصل نہیں کر پائے گی بلکہ کمپنیوں کو سعودی شہریوں کو ملازمت کی فراہمی کی ترغیب دی جانے لگے گی تاکہ سعودی شہریوں کو ملازمت کے حصول کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی دولت سعودی عرب میں ہی اندرون ملک موجود رہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران سعودی عرب نے اپنی خارجہ و معاشی پالیسیو ں میں کئی تبدیلیاں لائی ہیں جن میں نطاقہ قوانین کے علاوہ سعودی شہریوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے ذریعہ سعودی عرب کی معیشت کو مستحکم کرنا شامل ہے۔ اسی طرح سعودی حکمراں طبقہ جو اب تک تیل کی دولت پر انحصار کیا کرتا تھا وہ اب تیل پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے شہریو ں کے ذریعہ اپنی معیشت کو مستحکم بنانے اور بیرونی شہریوں کو واپس کرنے کے متعلق منصوبہ تیا رکر رہا ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ سعودی عرب میں کئی غیر قانونی طور پر مقیم شہریوں کے علاوہ اگر صرف ان لوگوں کا جائزہ لیا جائے جو خدمات کی انجام دہی اور ملازمت کیلئے جائز طریقہ سے سعودی عرب میں مقیم ہیں ان کی تعداد 30لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور اسی طرح کم و بیش 2.5لاکھ پاکستانی شہری سعودی عرب میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ سعودی عرب نے جو ویژن 2030 تیار کیا ہے اس منصوبہ کے تحت ہی آئندہ ماہ کے دوران سعودی شہریوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں مہم چلائی جائے گی اور ستمبر کے اواخرتک چھوٹی چھوٹی کمپنیو کے تمام ویزا منسوخ کردیئے جائیں گے اور صرف سرکردہ کمپنیو ںکو ہی بیرون ملک افراد کو ملازمت کی فراہمی کا اختیار حاصل ہوگا اور ان میں بھی ایسی کمپنیو ںکو یہ اختیار دیا جائے گا جو سعودی شہریوں کو ان کے حقوق کے مطابق ملازمتوں کی فراہمی میں کوتاہی نہیں کرتے ہیںاور انہیں بیرون ملک کی مہارت درکار ہو۔ ماہرین کا کہنا کہ ستمبر2017کے بعد سعودی عرب میں خدمات انجام دے رہے ہندستانی ملازمین کی واپسی کا سلسلہ شروع ہونے کا خدشہ ہے اور ان کی واپسی ہندستانی معیشت پر کاری ضرب ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ان کی جانب سے جو بیرون زر مبادلہ کے سبب آمدنی ہوا کرتی تھی اس میںبھاری گراوٹ ریکارڈ کی جا سکتی ہے اور سعودی عرب میں خدمات انجام دینے کے بعد ملک واپس ہونے والوں کی بڑی تعداد ملک میں بیروز گاری میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں موجود ہندستانیوں میں سب سے بڑی تعداد کا تعلق ریاست کیرالا سے ہے جبکہ دوسری بڑی تعداد کا تعلق ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے ہے اور اگر ان کی واپسی کے فوری بعد ان کی بازآبادکاری کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاستی حکومتوں کو بھی کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT