Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / آئندہ ماہ منعقد شدنی راجیہ سبھا انتخابات کے لیے کانگریس سے ارکان کا انتخاب موہوم

آئندہ ماہ منعقد شدنی راجیہ سبھا انتخابات کے لیے کانگریس سے ارکان کا انتخاب موہوم

تلنگانہ و آندھرا پردیش میں کانگریس کو پہلی مرتبہ شدید نقصان
حیدرآباد ۔ یکم ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے پہلی مرتبہ راجیہ سبھا کے لیے کانگریس کا کوئی امیدوار منتخب نہیں ہوگا اور جاریہ سال راجیہ سبھا میں بی جے پی کو اکثریت حاصل ہوجائے گی ۔ 2018 کے دوران دونوں تلگو ریاستوں سے راجیہ سبھا کے 6 امیدواروں کی میعاد مکمل ہورہی ہے ۔ ان مخلوعہ نشستوں کے انتخابات کے لیے آئندہ ماہ فروری میں نوٹیفیکیشن جاری کیا جائیگا ۔ جن 6 ارکان کی میعاد مکمل ہورہی ہے ۔ ان میں 4 ارکان کا کانگریس سے تعلق ہے اور ان چار ارکان میں بھی تین ارکان آنجہانی پی گوردھن ریڈی ، رینوکا چودھری اور آنند بھاسکر کا تلنگانہ سے تعلق ہے جب کہ فلم اسٹار سے سیاستداں بن جانے والے چرنجیوی آندھرا پردیش کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ باقی دو ارکان تلگو دیشم کے ہیں ۔ دیویندر گوڑ (تلنگانہ ) ، سی ایم رمیش ( آندھرا پردیش ) دونوں تلگو ریاستوں میں کانگریس کا کمزور موقف ہونے کی وجہ سے پہلی مرتبہ آئندہ راجیہ سبھا کے انتخابات میں ایک بھی کانگریس کا رکن منتخب نہیں ہوگا ۔ کانگریس پارٹی میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہونے والے امیدوار کو کم از کم دوسری میعاد کے لیے بھی منتخب کیا جاتا ہے ۔ مگر تلنگانہ میں کانگریس کے صرف 19 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے ہیں ۔ جن کی عددی طاقت ایک راجیہ سبھا امیدوار کو منتخب کرنے کے لیے کافی نہیں ہے ۔ تلنگانہ سے جن تین راجیہ سبھا کے ارکان کی میعاد مکمل ہورہی ہے ۔ ان تینوں نشستوں پر ٹی آر ایس کا آسانی سے قبضہ ہوجائے گا جب کہ آندھرا پردیش میں کانگریس کا ایک بھی رکن اسمبلی منتخب نہیں ہوا ہے ۔ آندھرا پردیش میں ایک راجیہ سبھا نشست کے لیے وائی ایس آر کانگریس پارٹی حکمران تلگو دیشم کو سخت چیلنج دے سکتی ہے ۔ مگر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان اسمبلی ایک کے بعد دیگر کی تلگو دیشم میں شمولیت سے تینوں نشستوں پر حکمران تلگو دیشم کا موقف مستحکم ہوگیا ہے ۔ جن 6 ارکان راجیہ سبھا کی میعاد مکمل ہورہی ہے وہ صرف 30 تا 40 دن کے مہمان باقی رہ گئے ہیں ۔ دراصل ان کی میعاد 2 اپریل کو مکمل ہورہی ہے ۔ مگر انتخابات کے لیے فروری میں ہی نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا ہے ۔ تلنگانہ میں ایک اور آندھرا پردیش میں 2 تلگو دیشم کے ارکان کی میعاد مکمل ہورہی ہے ۔ تلنگانہ میں تلگو دیشم کا وجود ہی خطرے میں ہے ۔ مگر تلنگانہ کے نقصان کی تلگو دیشم کو آندھرا پردیش سے پابجائی ہورہی ہے ۔ تینوں نشستوں پر تلگو دیشم امیدواروں کے کامیاب ہونے کے قوی امکانات ہیں ۔ راجیہ سبھا میں فی الحال کانگریس کے 57 اور بی جے پی کے 57 مساوی ارکان ہیں ۔ 2018 میں بی جے پی کو راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل ہوجائے گی اور کانگریس کا دبدبہ ختم ہوجائے گا ۔ اس طرح بی جے پی کی حلیف جماعتوں بشمول تلگو دیشم کی اکثریت میں ہونے والا اضافہ بی جے پی کو نئی طاقت عطا کرے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT