Friday , December 15 2017
Home / سیاسیات / آئندہ پارلیمانی انتخابات میں ملائم سنگھ یادو کا مرکزی رول

آئندہ پارلیمانی انتخابات میں ملائم سنگھ یادو کا مرکزی رول

اترپردیش میں مفاہمت خارج از امکان۔ چیف منسٹر اکھلیش یادو کا بیان
نئی دہلی۔/11ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) سماجوادی  پارٹی نے اگرچیکہ 2019  کے لوک سبھا انتخابات میں مفاہمت کیلئے امکانات کھلے رکھے ہیں لیکن چیف منسٹر اترپردیش اکھلیش یادو نے 2017 کے اسمبلی انتخابات میں کسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد کوخارج از امکان قرار دیا ہے۔ ’’ ایجنڈہ آج تک ‘‘ کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ان کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ ان کے والد اور سماجوادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو 2019 کے انتخابات کے بعد مرکز میں کلیدی رول ادا کریں تاہم انہوں نے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں نتیش کمار کی جنتا دل متحدہ اور سماجوادی اپرٹی کے درمیان مفاہمت کے امکانات کو مسترد کردیا اور یہ استدلال پیش کیا کہ اسمبلی انتخابات سے قبل چیف منسٹر بہار اور آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو نے عظیم اتحاد تشکیل دیتے وقت ان کے والد ملائم سنگھ کو نظرانداز کردیا تھا۔ مسٹر اکھلیش یادو نے کہا کہ گوکہ ہم اسمبلی انتخابات کیلئے تیار ہیں اور ہم ہماری نظریں 2019 کے پارلیمانی انتخابات پر بھی ہیں اور ہمیں یہ ایقان ہے کہ اسمبلی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل ہوگی۔ لہذا ریاستی انتخابات میں کوئی اتحاد نہیں کیا جائے گا

لیکن 2019 کے انتخابات میں اگر کوئی ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہتا ہے تو خیرمقدم کیا جائے گا۔ اکھلیش یادو نے یہ توقع ظاہر کی کہ اترپردیش کا کوئی لیڈر 2019 کے انتخابات کے دوران مرکزی رول ادا کرے اور میری یہ خواہش ہے کہ یہ لیڈر سماجوادی ہونا چاہیئے۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ آئندہ عام انتخابات میں نتیش کمار کو مرکزی لیڈر کی حیثیت سے ان کی پارٹی قبول کرے گی۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ بہار اسمبلی انتخابات سے قبل جب عظیم اتحاد تشکیل دیا گیا تھا اس وقت نیتا جی ( ملائم سنگھ )صدر تھے۔ اورتمام لیڈروں نے انہیں صدر بنایا تھا لیکن داخلی سیاست کی وجہ سے نیتا جی کو نظرانداز کردیا گیا اور نتیش اور لالو پرساد نے انہیں ( ملائم سنگھ ) کو باہر راستہ کیوں دکھایا وہی جواب دے سکتے ہیں۔ چیف منسٹر اتر پردیش نے کہا کہ سماجوادی پارٹی اسمبلی انتخابات میں تنہا مقابلہ کرے گی جو کہ پارٹی کیلئے اگنی پریکشا ( تیزابی آزمائش ) ثابت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ بہار کے انتخابات میں بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کو شکست اٹھانی پڑی لیکن اتر پردیش کے رائے دہندوںنے سب سے پہلے فرقہ پرستوں کو دھول چٹائی تھی۔واضح رہے کہ اکھیلیش یادو نے حال ہی میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ ان کے والد ملائم سنگھ یادو کو وزیر اعظم اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی کو نائب وزیر اعظم بنائے جانے کی شرط پر پارلیمانی انتخابات میں سماج وادی پارٹی اور کانگریس میں اتحاد ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT