Saturday , January 20 2018
Home / مضامین / آئندہ چناؤ متحدہ فرقہ پرستی اور منتشر سیکولرازم کے درمیان مقابلہ

آئندہ چناؤ متحدہ فرقہ پرستی اور منتشر سیکولرازم کے درمیان مقابلہ

غضنفر علی خان
2019کے عام انتخابات ہمارے ملک میں جارحانہ فرقہ پرستی اور منتشر سیکولر طاقتوں کے درمیان ایک ایسا مقابلہ ہوگا جس میں ملک کے مستقبل اس کی رواداری، تحمل پسندی اور معقولیت کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ ہوگی۔ اسوقت حالات یہ ہیں کہ سارے ملک میں فرقہ پرست طاقتیں پوری جارحیت کے ساتھ خم ٹھوک کر کھڑی ہیں۔ ان کا دائرہ اقتدار دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔ سیدھے سادھے الفاظ میں ان کا ووٹ بینک بھی بڑھتا جارہا ہے تو دوسری طرف اس ملک کی فلاح و بہبود چاہنے والی سیاسی طاقتیں ہر دن ایک نئے اور خوفناک و تباہ کن انتشار کا شکار ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ مذہبی تنگ نظری، عصبیت ہے کہ کہیں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ بی جے پی اور ہندوتوا کی حامی دیگر طاقتیں سراُبھار رہی ہیں اور آنکھیں دکھا رہی ہیں کہ ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ بظاہر ان کا یہ زعم کچھ غلط بھی نہیں معلوم ہوتا۔ ہم ہندوستانی ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ایک طرف گہرا سمندر ہے تو دوسری طرف گہری کھائی ہے۔ اس دوراہے سے اپنی متاعِ عزیز اپنی جمہوریت میں تحمل پسندی اور مختلف عقائد کی حفاظت ایک چیلنج بن گیا ہے۔ میدان بالکل صاف ہے اب ملک میں صرف دو ہی طرح کی سیاسی پارٹیاں رہ گئی ہیں ایک طرف فرقہ پرست پارٹیاں اور دوسری جانب سیکولر جماعتیں ہیں۔ وقت کا سب سے بڑا سانحہ ہے کہ دوسری قسم کی یہ پارٹیاں ابھی تک متحد نہیں ہیں، ان پارٹیوں کے پاس کوئی ایسی قیادت نہیں ہے کہ ان تمام کو اتحاد کے دھاگے میں باندھ سکے جو ان کی شیرازہ بندی کرسکے۔1976 میں صورتحال مختلف تھی اسوقت کانگریس پارٹی کی نافذ کردہ ایمرجنسی کے خلاف جے پرکاش نارائن نے تمام سیاسی پارٹیوں کو یکجا کرکے جنتا پارٹی تشکیل دی تھی، ان پارٹیوں کا ایک طرف جن سنگھ جیسی کٹر اور تنگ نظر پارٹی اس اتحاد کا حصہ تھی تو دوسری طرف کمیونسٹ ، سوشلسٹ اور دیگر سیکولر پارٹیاں اس کا حصہ تھیں۔ آنجہانی جے پرکاش نارائن نے ان مختلف الحیال اور ایک دوسرے کی سخت مخالف جماعتوں کو متحد کرکے ایک نئی تاریخ بنائی تھی۔ ’ اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخﷺ زیبالیکر‘ آج کا عنوان ہے۔ آخر کب تک جمہوری اور سیکولر جماعتیں اپنی شکست خوردگی اور اپنے شکار رہیں گی، آخر کب تک آج کی اس جارحانہ فرقہ پرستی Agressive Communalism کی فضاء رہے گی۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد سے کبھی فرقہ پرستوں کو اپنے حوصلے بلند کرنے اور بلند رکھنے کا ایسا موقع نہیں ملا تھا جیسا آج ملا ہے۔ اب تو یہ طاقتیں شیتر بے مہار اور قبل بے زنجیر کی طرح گھوم پھر رہی ہیں ان کو نکیل دینے والا کوئی نہیں۔

فرقہ پرستی تو ہر دور میں ہر ملک میں کسی نہ کسی صورت میں ہوتی ہی رہی ہے لیکن ایسی بے لگام انداز میں ملک کی 70 سالہ ازادی میں نہیں دیکھی گئی اور خدا نہ کرے آئندہ کبھی دکھائے۔ کئی مسلم نوجوانوں کو اس لئے قید و بند اور عدالتی کارروائیوں میں پھنسادیا گیا ہے کہ انہوں نے کسی غیر مسلم لڑکی سے محبت کرکے شادی کرلی اس کے لئے چھوٹی چھوٹی لیکن حد درجہ خطرناک فرقہ پرست طاقتوں نے ایک بے معنی اصطلاح Love Jihad بنالی۔ بات یہیں ختم ہوجاتی تو خیر ٹھیک تھا ابھی پچھلے ہفتہ کرناٹک کے علاقہ چکمگلور میں 20 سالہ دھنا شری نامی ایک لڑکی نے خودکشی کرلی اس بدقسمت لڑکی کی صرف یہ غلطی تھی کہ وہ واٹس اپ پر اپنے ایک ہندو دوست کو پیام بھیج رہی تھی کہ خود دھنا شری نے کہا تھا کہ ’’ میں مسلمانوں کو چاہتی ہوں ‘‘ بس پھر کیا تھا کہ مقامی بی جے پی یوا مورچہ کے کارکنوں نے لڑکی اور اس کے والدین کو اتنا ڈرایا دھمکایا کہ وہ اپنے گھر میں خودکشی کرنے پر مجبور ہوگئی۔ یہاں ہندو لڑکی نے کسی مسلمان لڑکے کے ساتھ محبت نہیں کی تھی۔ لو جہاد کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس نے صرف یہ کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کو چاہتی ہے۔ اس پر عرصہ حیات اتنا تنگ کردیا گیا کہ وہ مجبور ہوکر خودکشی کربیٹھی۔ مسلمانوں کو پسند کرنے کی اتنی سخت سزا دی کہ لڑکی کو اپنی زندگی ختم کرنی پڑی جو صاف ظاہر کرتی ہے کہ انتہا پسند ہندوتوا کے حامی لفظ ِ مسلمان ہی سے نفرت کرتے ہیں۔ اس واقعہ سے ان طاقتوں کی ذہنی ساخت کا پتہ چلتا ہے ۔ اس واقعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے آج کی اقتدار پر فائز طاقتیں ملک میں مسلم دشمنی اور ہر طرح سے مسلمانوں کی زندگی اجیرن کرنے کے درپے ہیں۔ یہاں تک تو نوبت پہنچ چکی ہے، مسلمانوں کو پسند کرنے کی سزا فرقہ پرست طاقتیں خوف کی شکل میں دینا چاہتی ہیں۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی اعتدال پسند ، عدل پسند سیاسی پارٹیاں کیوں خود کو متحد کرنے کی کوئی کوشش نہیں کررہی ہیں؟ کیا ان میں یہ احساس پیدا ہوگیا کہ اس جارحانہ فرقہ پرستی کا اب ملک میں کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔؟

ملک کے عوام ابھی پوری طرح اس فرقہ پرستی کے شکار نہیں ہوئے ہیں لیکن یہ بات کہنے سننے اور لکھنے میں کم از کم مجھ احقر کو کوئی تکلف نہیں کہ ملک کی اکثریتی آبادی فرقہ پرستی کے زہر میں مبتلاء ہورہی ہے۔ ابھی یہ زہر پوری طرح ہندوستانی قوم کے رگ و پئے میں سرایت نہیں ہوا بلکہ رفتہ رفتہ یہ زہراثرکررہا ہے ۔ اس زہر کا تریاق صرف یہی ہے کہ انصاف پسند طاقتیں خاص طور پر سیاسی پارٹیاں اپنے اس خود ساختہ اورغلط روش کو ختم کردیں تواب سیکولر ہندوستان میں ان کا کوئی رول نہیں رہا۔ان طاقتوں کو اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنا چاہیئے کہ آج سے پہلے کبھی ان کا رول اتنا اہم نہیں تھا جتنا کہ آج ہے۔ اس لئے کہ آج سے پہلے کبھی فرقہ پرستی کو ایسا غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا۔ آج سے پہلے کوئی محمد اخلاق، کوئی جنید ، کوئی پہلو خاں کو بے رحمی سے ہلاک نہیں کیا گیا تھا ۔ آج سے پہلے کبھی کسی ریاستی حج ہاوز کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کا واقعہ نہیں ہوا تھا۔ کبھی مساجد سے اذان کی آواز آنی بند نہیں ہوئی تھی۔آج تک کبھی اس ملک کی مسلم خاتون کو جس کا کوئی محرم نہیں حج کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ حج ایک فریضہ ہے جس کی ہر صاحب استطاعت مسلمان مرد اور خاتون کو ادا کرنا ہے۔ 1400 برس سے یہی احکام نافذالعمل رہے ہیں کہ خاتون جو حج میں بیت اللہ کو جانا چاہتی ہے تو اپنے ساتھ کسی محرم کو رکھے، آج کیوں چند خواتین جنہیں محرم کے بغیر حج جانے کی مودی سرکار سے اجازت ہے۔ آج کیوں یہ اجازت دی جارہی ہے اور کیوں شرعی احکام کی حکومت کی جانب سے خلاف ورزی اور مداخلت کی خود مسلم خواتین تائید کررہی ہیں؟ اب آئندہ اور کیا ہوسکتا ہے اس کا تصور بھی ہمارے لئے محال ہے۔ اس فرقہ پرستی اور اسلام دشمنی کا صرف تنہا ہندوستانی مسلمان مقابلہ نہیں کرسکتا۔ مسلمان البتہ وسیع النظر والی سیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کرسکتا ہے کہ اس واہیات اور لغو باتوں سے اس ملک کو بدنام کرنے والوں سے ملک کو بچائیں۔ بے حد نازک وقت ہے، ایک کڑی آزمائش ہے، ڈر صرف اس بات کا ہے کہ جارحانہ فرقہ پرستی کے آگے کیوں ملک کی روادار اور اصول پسند جماعتیں بڑی بے باکی کے ساتھ خود سپردگی کے عالم میں ہیں انہیں کیوں یہ احساس نہیں ہورہا یہ کہ ملک سے سیکولرازم اور تحمل پسندی اور فکر و خیال کی ہم آہنگی اگر ختم ہوجاتی ہے تو پھر ہم آنے والی نسلوں کو بھی نہ دے سکیں گے، دیتے وہ ہیں جن کے دامن میں کچھ ہوتا ہے، 2019 کے مجوزہ انتخابات میں فرقہ پرستی اور جمہوریت و سیکولرازم کی حامی پارٹیوں کے درمیان ایسا مقابلہ ہوگا جس کے اثرات ملک کی تاریخ پر مرتب ہوں گے اور ہمیں صرف کفِ افسوس ہی ملنا ہوگا۔ اقوام عالم کی داستانوں میں ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT