Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / آئنسٹائن کے منکشف ’سیاہ حلقوں‘ کا وجود نہیں

آئنسٹائن کے منکشف ’سیاہ حلقوں‘ کا وجود نہیں

آسمانوں میں ’بلیک ہول‘ صرف خیالی چیز ، ڈاکٹر سدھارتھ کی بھی تحقیق

آسمانوں میں ’بلیک ہول‘ صرف خیالی چیز ، ڈاکٹر سدھارتھ کی بھی تحقیق
حیدرآباد ، 18 اکٹوبر (سیاست نیوز) فلکیات کے شعبہ میں زبردست ’’سیاہ حلقوں‘‘ نے ایک صدی تک اپنی مسحورکن خصوصیات کے ساتھ ذہنوں پر چھائے رہے جو تب سے شروع ہوا جب آئنسٹائن نے عمومی نظریۂ اضافیت میں اُن کے وجود کا خیال پیش کیا تھا۔ ان پُراسرار اجسام نے کئی نسلوں کے تخیل پر قبضہ جمائے رکھا۔ تاہم حال میں ڈاکٹر بی جی سدھارتھ، ڈائریکٹر بی ایم برلا سائنس سنٹر نے استدلال پیش کیا کہ سیاہ حلقے جیسا کہ عام خیال ہے شاید کوئی وجود نہیں رکھتے اور صرف اُن کی نہایت زبردست علامتوں کے وجود کا امکان ہے۔ اُن کی تحقیق کے مطابق عام نوعیت کے سیاہ حلقے دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کے بہت ہی وسیع سیاہ حلقے جن کا وزن سورج کے مقابل لاکھوں گنا زیادہ ہوتا ہے، موجودہ طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کہکشاؤں اور دور افتادہ آسمانی گوشوں کے مراکز میں ہیں۔ جہاں تک عام نوعیت کے سیاہ حلقوں کا معاملہ ہے، اُن کے وجود کا محض بالواسطہ ثبوت ہے۔ حالیہ ریسرچ سے بظاہر اس مخالف نتیجہ کی تائید ہوتی ہے۔ حالیہ بات ہے کہ اسٹیفن ہاکنگ جو خود ماہر علم ’بلیک ہول‘ ہے ، انھوں نے خیال پیش کیا کہ سیاہ حلقوں کا کوئی وجود ہی نہیں۔ ایک اور رائے فرینکفرٹ انسٹی ٹیوٹ آف اڈوانسڈ اسٹیڈیز کے والٹر گرینر کی طرف سے سامنے آئی۔ انھوں نے بھی مختلف نقطہ نظر سے دلیل پیش کرتے ہوئے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ ’بلیک ہولس‘ کا بس وجود نہیں ہے۔ ماضی قریب میں یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا کے ڈاکٹر ایل مرسینی۔ ہاؤٹن نے ثابت کیا کہ اول تو سیاہ حلقے تشکیل ہی نہیں پاسکتے۔ سرسری بیان کریں تو یہ اس لئے کہ کوئی ممکنہ سیاہ حلقہ بننے کیلئے مادہ کو بکھرنا پڑے گا، جسے ’ہاکنگ ریڈئیشن‘ روک دے گا۔ لہٰذا ’بلیک ہولس‘ کو خیرباد کہہ دینا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT