Wednesday , December 13 2017
Home / دنیا / آئی ایس آئی پر ملا عمر کے انتقال کی خبر پوشیدہ رکھنے کا الزام

آئی ایس آئی پر ملا عمر کے انتقال کی خبر پوشیدہ رکھنے کا الزام

پنٹگان کے سابق عہدیدار ڈیوڈ سڈنی کا سنسنی خیز انکشاف ‘امریکہ بھی ذمہ دار

واشنگٹن۔16 اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے محکمہ سراغ رسانی کو طالبان کے مرحوم سربراہ ملا عمر کے انتقال کی خبر تھی لیکن اس نے اس خبر کو خفیہ رکھا تھا ‘ تاکہ امریکہ ۔ پاکستان سراغ رسانی تعاون ناکام نہ ہونے پائے بلکہ امریکی محکمہ سراغ رسانی کو بھی اس کی اطلاع تھی ۔ پنٹگان کے ایک سابق عہدیدار نے کہا کہ یکچشم کمانڈر جنہوں نے 20سال تک طالبان کی قیادت کی تھی ‘23اپریل 2013ء کو کراچی کے ہسپتال میں انتقال کرگئے تھے لیکن یہ اطلاع صرف جاریہ ماہ حاصل ہوئی ۔ اس کے بعد طالبان نے ‘ وہائیٹ ہاؤز ‘ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں نے بھی اس کی توثیق کی ۔ پاکستان کا طالبان کی قیادت پر کافی اثر و رسوخ ہے چنانچہ گذشتہ ماہ حکومت افغانستان کے ساتھ امن بات چیت کی میز پر حکومت پاکستان کی کوشش کی وجہ سے ہی طالبان آئے تھے ۔

تاہم اس اجلاس میں ملا عمر کے انتقال کی سختی سے تردید کی گئی تھی ۔ ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری برائے دفاع افغانستان اور پاکستان 2009-2013ء ڈیوڈ سڈنی نے شدت کے ساتھ کہا ہے کہ اس علاقہ کے دہشت گرد گروپس کے ساتھ علاقائی سراغ رساں برادری اور امریکہ کے گہرے روابط ہیں ‘ تاہم حکومت امریکہ اس کی سختی سے تردید کرتی ہے ۔ سڈنی نے کہا کہ اس علاقہ کی تمام دہشت گرد تنظیمیں اپنے قائدین کھوچکی ہیں ۔ عوام افغانستان ‘ پاکستان اور امریکہ میں دریافت کرتے ہیں کہ ایسا کیوں اور کیسے ہوا ۔ یہ کھلی دھوکہ دہی ہے ۔ اس کی مثال ماضی کی تاریخ میں کہیں بھی نہیں ملتی ۔ اس قسم کی دھوکہ دہی کو سراغ رسانی حکمت عملی کے طور پر کبھی بھی استعمال نہیں کیا گیا ۔ سڈنی جو بحراوقیانوس قونصل کے غیر مقیم سینئر فیلو اور اعلیٰ سطحی امریکی دانشور ہیں ۔ کہتے ہیں کہ دو سال تک ملا عمر کے انتقال کی خبر پوشیدہ رکھنا امریکی محکمہ سراغ رسانی کی بڑے پیمانے پر ناکامی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT