Wednesday , November 22 2017
Home / دنیا / آئی ایس کے طاقتور گڑھ منبج پر عرب ۔ کرد اتحادیوں کا قبضہ

آئی ایس کے طاقتور گڑھ منبج پر عرب ۔ کرد اتحادیوں کا قبضہ

حلب کے جنوبی ٹھکانوں پر بشارالاسد کی فوج کو پسپائی ، روس کی تائید کے باوجود مشکلات کا سامنا

بیروت ۔6 اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) عرب اور کرد باغیوں پر مشتمل اتحاد نے اسلامک اسٹیٹ ( آئی ایس ) کے طاقتور گڑھ منبج پر آج قبضہ کرلیا ۔ شمالی شام کے اس شہر پر کنٹرول کیلئے دو ماہ قبل بڑے پیمانہ پر مہم شروع کی گئی تھی ۔ انسانی حقوق کے ادارہ نے بتایا کہ شامی ڈیموکریٹک فورسیس نے ہفتہ کو منبج پر قبضہ کرلیا اور شہر میں جہادیوں کی بڑے پیمانے پر تلاش جاری ہے۔ امریکی زیرقیادت اتحادی افواج کے فضائی حملوں کی مدد سے ڈیموکریٹک فورسیس نے منبج پر قبضہ کرنے کیلئے 31 مئی کو مہم شروع کی تھی ۔ یہ ٹاؤن آئی ایس کو ترکی سرحدی شہر رقہ تک رسائی کا ایک اہم راستہ فراہم کرتا ہے ۔ آئی ایس نے خودساختہ نظام حکومت کا رقہ کو دارالحکومت قرار دیا تھا ۔ ڈیموکریٹک فورسیس نے جون کے اوائل میں ٹاؤن کا محاصرہ کیا اس کے بعد جاریہ ماہ اندرونی حصوں میں پیشقدمی شروع کی۔ جہادیوں کی مزاحمت اور خودکش حملوں و کاربم دھماکوں کے ذریعہ مقابلہ کی وجہ سے پیشرفت سست ہوگئی تھی ۔ شام میں جہادیوں اور اسلامی باغیوں پر مشتمل اتحاد نے حلب کے جنوب میں کئی اہم ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے

اور شہر کا سرکاری فوج نے جو محاصرہ کر رکھا ہے اُسے توڑنے کیلئے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی جارہی ہے۔ حقوق انسانی ادارہ کے بموجب اتحادیوں نے اسلحہ کے ایک گودام پر کنٹرول حاصل کرلیا جہاں بڑے پیمانے پراسلحہ کا ذخیرہ رکھا ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ فوجی تربیت دینے والے اسکول کے ایک بڑے حصہ پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے ۔ ادارہ کے سربراہ رمی عبدالرحمن نے بتایا کہ فائرنگ اور بندوقوں کا استعمال کرتے ہوئے اتحاد کی کوشش یہ ہے کہ سرکاری زیرکنٹرول اضلاع تک رسائی کا راستہ بند کیا جائے گا ۔ یہ سڑک جنوبی مشرقی مضافاتی حلب تک ہوکر گذرتی ہے ۔ اگر باغی اس سڑک پر قبضہ کرلیں تو سرکاری فوج کیلئے اس راستہ سے گذرنا ناممکن ہوجائے گا اور انھیں شہر کے مشرقی علاقہ سے نئی سڑک کا کام شروع کرنا پڑے گا۔ سابقہ النصرہ فرنٹ نے جس کا نام القاعدہ سے علحدگی کے بعد جبہت فتح الشام ہے آج دو فوجی اداروں اور تین فوجی ٹھکانوں پر قبضہ کا اعلان کیا ہے ۔

اس دوران سرکاری ٹیلی ویژن پر تین مقامات پر لڑائی دکھائی دی ۔ عبدالرحمن نے کہا کہ روس کی فضائی مدد کے باوجود سرکاری فوج کو انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ عبدالرحمن نے بتایا کہ کرد اور عرب گرپوں کا یہ اتحاد داعش کے بقیہ دہشت گردوں کی تلاش میں شہر کے بیچ سرچ آپریشن کررہا ہے۔حلب جو کبھی شام کا معاشی مرکز تصور کیا جاتا تھا آج باغی زیرکنٹرول مشرق اور حکومت کے زیرکنٹرول مغربی علاقہ میں منقسم ہوگیا ہے۔ جہادیوں اور باغیوں نے تقریباً تین ہفتے بعد پھر یہ نمایاں پیشرفت کی جبکہ سرکاری فوج نے روسی فضائی حملوں کی مدد سے شہر کے اپوزیشن زیرقبضہ اضلاع کا محاصرہ کرلیا تھا، اس کی وجہ سے یہاں بڑے پیمانے پر انسانی بحران پیدا ہوگیا تھا۔ 2011 ء میں مخالف حکومت احتجاج کو کچلنے کے بعد جو خانہ جنگی شروع ہوئی اُس کے نتیجہ میں اب تک 2,80,000 سے زائد افراد شام میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ روس نے گزشتہ سال ستمبر سے شامی حکومت کی تائید میں فضائی حملے شروع کئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT