Monday , June 25 2018
Home / دنیا / آئی ایم ایف میں اصلاحات نہ ہونے پر ہندوستان مایوس

آئی ایم ایف میں اصلاحات نہ ہونے پر ہندوستان مایوس

واشنگٹن۔19اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان نے آئی ایم ایف کوٹہ اور حکمرانی میں اصلاحات کے عدم نفاذ پر گہری مایوسی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ عالمی بحران کے دوران قرض دینے والے ادارہ کو عظیم تر اثر و رسوخ حاصل ہونا چاہیئے جو ملک کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کے متناسب ہو ۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے بین الاقوامی مالیتی فنڈ اور معاشی کمیٹ

واشنگٹن۔19اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان نے آئی ایم ایف کوٹہ اور حکمرانی میں اصلاحات کے عدم نفاذ پر گہری مایوسی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ عالمی بحران کے دوران قرض دینے والے ادارہ کو عظیم تر اثر و رسوخ حاصل ہونا چاہیئے جو ملک کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کے متناسب ہو ۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے بین الاقوامی مالیتی فنڈ اور معاشی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند 2010ء کے کوٹہ اور حکمرانی کی اصلاحات کے عدم نفاذ پر بہت زیادہ مایوس ہے ۔ حالانکہ اصلاحات کو عالمی برادری کی بھرپور تائید حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کو گہری تشویش ہے کہ ہم نے 15ویں جائزہ میں کوٹہ فارمولہ پر نظرثانی نہیں کی گئی اور نہ حکمرانی میں اصلاحات کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ساکھ ‘ جواز اور تاثیر کو یقینی بنانے کیلئے حکمرانی میں اصلاحات ضروری ہیں ‘ تاکہ انہیں کارآمد بنایا جاسکے ۔ ان اصلاحات کو غیر معینہ مدت تک ملتوی نہیں کیا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ 2010ء کا کوٹہ اور حکمرانی اصلاحات جلد از جلد کی جانی چاہیئے ۔

آئی ایم ایف کوٹہ اصلاحات امکان ہے کہ اس ادارہ کو ابھرتی ہوئی معیشتوں جیسے ہندوستان اور چین کو زیادہ فنڈ فراہم کرنے کی گنجائش فراہم کریں گے ۔ امریکہ اور یوروپی ممالک ان ممالک میں بلند اثر و رسوخ رکھتے ہیں ۔ 2010ء کے اصلاحات درحقیقت امریکہ کی جانب سے شروع کئے گئے تھے ۔ صدر بارک اوباما نے بار بار ان اصلاحات کی توثیق کی ہے لیکن امریکی کانگریس نے معاہدہ پر دستخط سے انکار کردیا ۔ بعض ارکان امریکی کانگریس نہیں چاہتے کہ آئی ایم ایف زیادہ رقم ادا کرے اور دیگر افراد کو تشویش ہے کہ آئی ایم ایف پر امریکہ کا اثر و رسوخ دن بہ دن کم ہوتا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ایکزیکٹیو بورڈ کو تیز رفتاری سے اپنا کام مکمل کرنا چاہیئے ۔ تاکہ اہم شعبہ 2010ء کا کوٹہ اور حکمرانی کی اصلاحات جو طویل مدت سے زیرالتواء ہیں فوری نافذ کی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر متبادل طریقوں پر بھی غور کرنا ضروری ہے ۔ ہمیںیقین ہے کہ متبادل طریقوں کو غیرمربوط کرنے سے انتہائی مطلوب متبادل عنقریب حاصل ہوسکے گا اور 2010ء کے اصلاحی پیاکیج پر عمل آوری ممکن ہوسکے گی ۔ عارضی طور پر ترغیبات میں تخفیف کی جاسکتی ہے اور اصلاحات پر بھرپور عمل آوری نہ کرنے والوں کو امداد میں کمی کی جاسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT