Wednesday , December 12 2018

آئی سی سی کے نئے فیوچرٹورسے پاکستان کو فائدہ

لاہور۔20 ڈسمبر(سیاست ڈاٹ کام)آئی سی سی کے اپ ڈیٹ فیوچر ٹور پروگرام میں تبدیلی کا قوی امکان ہے کیونکہ سنگاپور اجلاس کے بعد بیشتر اراکین کے ایف ٹی پی منصوبہ میں معمولی ردوبدل کے نتیجے میں سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کرکٹ بورڈ اٹھائے گا جس کو چار سالہ سائیکل میں104کے بجائے اب 121میچز کھیلنے کو ملیں گے ،ابتدائی فہرست میں دو ٹسٹ،پانچ ونڈے اور دس ٹی ٹونٹی مقابلوں کا اضافہ ہو گیا،اس نئی تعداد کے بعد پاکستانی ٹیم بھی آسٹریلیا،بنگلہ دیش،جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے قریب جا پہنچیں گے۔تفصیلات کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں سنگاپور میں منعقدہ ایف ٹی پی ورکشاپ میں کئے جانے والے فیصلوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی مصروفیات میں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ فائدہ ہو جائے گا۔سات اور آٹھ دسمبر کے فیوچر ٹور پروگرام کیلئے خصوصی ورکشاپ میں کئے جانے والے فیصلوں کے بعد جو تفصیلات سامنے آئی تھیں ان میں اجلاس کے بعد تمام ممالک نے اپنے منصوبے کو اپ ڈیٹ کیا جس کے نتیجے میں جو تبدیلی کی گئی اس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہوگا۔ابتدائی طور پر جاری ہونے والے فیوچر ٹور پروگرام میں پاکستان کے میچوں کی مجموعی تعداد 104تھی جو اسے 2019سے لے کر 2023 تک کھیلنا تھے لیکن اپ ڈیٹ ورژن کے بعد ان میچوں کی تعداد 121تک جا پہنچی ہے اور ابتدائی فہرست کے مقابلے میں اب دو ٹسٹ،پانچ ونڈے اور دس ٹی ٹونٹی میچوں کا اضافہ ہو جائے گا۔ میچوں کی اس مجموعی تعداد نے پاکستانی ٹیم کو آسٹریلیا کے 123،بنگلہ دیش کے 124،جنوبی افریقہ کے 122 اور نیوزی لینڈ کے 119میچوں کے قریب پہنچا دیا ہے اور یہ تاثر ختم ہو گیا کہ پاکستان کو دوسرے کئی ممالک کے مقابلے میں کم میچز دیئے گئے ہیں۔اگرچہ ابھی یہ بات ہنوزواضح نہیں ہوئی کہ یہ اضافی میچز کن ممالک کیخلاف ہوںگے لیکن فروری میں جب تمام ممالک اپنا اپ ڈیٹ ورژن آئی سی سی بورڈ اجلاس میں پیش کریں گے تو اس بات کا بھی تعین ہو جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT