Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / آئی ٹی آئی گلڈ وجئے نگر میں مہیب آگ کے بعد اقلیتوں کا کاروبار متاثر

آئی ٹی آئی گلڈ وجئے نگر میں مہیب آگ کے بعد اقلیتوں کا کاروبار متاثر

35 سال سے حکومت کے کرایہ دار ہونے کے باوجود اراضی الاٹ کرنے سے گریز معاملہ عدالت میں زیر دوراں

35 سال سے حکومت کے کرایہ دار ہونے کے باوجود اراضی الاٹ کرنے سے گریز معاملہ عدالت میں زیر دوراں

حیدرآباد /17 مارچ ( سیاست نیوز ) مہیب آتشزدگی کے واقعہ کے بعد وجئے نگر گلڈ میں حالات بحال ہو رہے ہیں ۔ تاہم گذشتہ دو دنوں سے گلڈ میں برقی سربراہی کو بند کردیا گیا ہے ۔ تقریباً 35 برسوں سے قائم وجئے نگر گلڈ میں 15 مارچ کا پہلا سانحہ تھا جس سے گلڈ میں خوف و بے چینی پیدا ہوگئی تھی تاہم اسوسی ایشن اور دوکانداروں نے برقی سربراہی نہ ہونے کے باوجود بھی اپنے کاروباری اداروں کو کھلا رکھتے ہوئے اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کا پیغام دیا ہے ۔ وجئے نگر گلڈ جس میں 108 شیڈس موجود ہیں ۔ تقریباً تین ہزار افراد کی روزی روٹی ان شیڈس پر منحصر ہے کئی تو سرکاری دوکاندار ہیں تو کئی افراد نے اپنے شیڈ س کو کرایہ پر دے دیا ہے ۔ 15 مارچ اتوار کا دن ہونے کے سبب ورکرس بھی چھٹی پر تھے اور سمجھا جارہا ہے کہ چھٹی کا دکن ہونے کے سبب جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی بھگدڑ مچی ۔ وجئے نگر گلڈ میں ویلڈنگ ، لیتھ مشین روڈ رولرس ڈائی میکرس ، پینٹنگ ورکرس ، ویلڈنگ راکس فرنیچرس اور فیابریکیشن ورکس کارپینٹرس ،ڈینٹنگ اور پینٹنگ کا کارخانے پائے جاتے ہیں ۔ اس گلڈ میں موجودہ 108 شیڈس کے مالکین اپنی شناخت اور مالکانہ حق پر حت کیلئے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں ایک دوکاندار محمد یوسف نے بتایا کہ حکومت سے بارہا مطالبہ کے بعد اب مسئلہ عدالت سے رجوع ہوچکا ہے ۔ چونکہ تقریباً 35 سال سے گلڈ قائم ہے اور ابھی تک ہمیں اپنا حق نہیں ملا صرف کرایہ دار کی حیثیت سے موجود ہیں۔ ان دوکانداروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے قریب میں واقع نائس ہاسپٹل اور سینٹ اینس اسکول کی اراضی پر ان اداروں کو حق دے دیا اور ایک رقم مقرر کرتے ہوئے انہیں زمین حوالے کردی گئی جو سرکاری زمین تھیں ۔ لیکن تین ہزار افراد کے روزگار سے جڑے اس سنگین مسئلہ میں حکومت قریبی دوکانداروں کے تعلق سے اپنا سخت گیر موقف رکھتی تھی ۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ سال 1999 میں ہی ان دو اداروں کو زمین حکومت نے فروخت کردی جبکہ وجئے نگر گلڈ گذشتہ 35 سال کے طویل عرصہ کو طئے کرنے کے بعد اب ایک چھوٹی صنعت کی شکل اختیار کرگئی ہے جو گھریلو صنعت کی شناخت حاصل کرلے گی ۔ قدیم و پرانی اشیاء کو نیا رنگ دینا ان گلڈس والوں کی منفراد کارکردگی ہے ۔ شیڈس والوں کا کہنا ہے کہ اور اسوسی ایشن کی ایک بھی خلاف ورزی وہ نہیں کرتے تاہم 15 مارچ کو جس دن سانحہ پیش آیا تھا اس دن فائر انجن گاڑیوں کی گلڈ میں آمد مشکل ہوگئی تھی ۔ چونکہ راستہ تنگ اور لاپرواہی کے سبب سامان راستوں کو بند کرچکا تھا ۔ گلڈ کے ذمہ داروں نے اب صفائی اور راستوں کو ہموار بنانے کی مساعی کا آغاز کردیا ۔گلڈ کے دوکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ جائیداد ٹیکس بھی بہ خوبی ادا کردیتے ہیں لیکن اب انہیں اس اراضی پر حق چاہئے جہاں وہ گذشتہ 35 سالوں سے موجود ہیں۔ وجئے نگر گلڈ سانحہ میں ایک ایسا دوکاندار متاثر ہوگیا جس کی زندگی کے گذر بسر کا مکمل دارومدار اس کے کارخانہ پر تھا ۔ اے سی گارڈ علاقہ کے ساکن محمد معراج نے بتایا کہ وہ وجئے نگر گلڈ میں پینٹنگ کا کارخانہ چلاتے ہیں گذشتہ دنوں ان کے ایک گاہک اپنی گاڑی لیکر آیا تھا اور انہوں نے کام بھی شروع کردیا تھا لیکن اتوار کے حادثہ سے کارخانہ اور اس گاہک کی گاڑی دونوں جلکر خاکستر ہوگئے ان کے شیڈ کا نمبر 15 ہے ۔ جو مکمل طورپر جھلس گیا ۔ جبکہ اصل آگ آئیل کے گودام میں لگی تھی جو 13 اور 14 نمبر کے شیڈس میں موجود تھا ۔ اب معراج کی ایک طرف روزی پر اثر پڑا ہے تو دوسری طرف گاڑی کے مالک کا دباؤ بھی بڑھ گیا ہے ۔ ایسے کئی افراد ہیں جن کی روزی پر اثر پڑا ۔ فٹ پاتھ پر سائلینسرس ، پنکچر ، لانٹاپ و دیگر کاروبار کرنے والے اپنی جان بچاکر چلے گئے ۔ اب ان کا روزگار مشکل میں پڑ گیا ہے۔ گلڈ کے شیڈس والوں کا کہنا ہے کہ حکومت ان کی طرف توجہ دے اور اس چھوٹی سی صنعت کی بقاء و ترقی کو یقینی بنائے ۔

TOPPOPULARRECENT