Wednesday , January 17 2018
Home / کھیل کی خبریں / آئی پی ایل جشن کی واپسی، آج ستاروں سے بھری افتتاحی تقریب

آئی پی ایل جشن کی واپسی، آج ستاروں سے بھری افتتاحی تقریب

کولکاتا ، 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اس کے اسکینڈل والے ماضی کے سیزنس کی یادیں ہنوز تازہ ہیں، لیکن انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کے آرگنائزرز یقینی بنانا چاہیں گے کہ اصل توجہ بدستور پوری طرح کرکٹ پر مرکوز رہے جب نقدی سے مالامال یہ ایونٹ کل یہاں پُرکشش افتتاحی تقریب کے ساتھ شروع ہوجائے گا، جس میں سرکردہ بالی ووڈ اسٹارز نظر آئیں گے۔ گزشتہ

کولکاتا ، 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اس کے اسکینڈل والے ماضی کے سیزنس کی یادیں ہنوز تازہ ہیں، لیکن انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کے آرگنائزرز یقینی بنانا چاہیں گے کہ اصل توجہ بدستور پوری طرح کرکٹ پر مرکوز رہے جب نقدی سے مالامال یہ ایونٹ کل یہاں پُرکشش افتتاحی تقریب کے ساتھ شروع ہوجائے گا، جس میں سرکردہ بالی ووڈ اسٹارز نظر آئیں گے۔ گزشتہ سال تنازعہ سے پاک ٹورنمنٹ منعقد کرانے میں کامیابی کے بعد آرگنائزرز کو دوبارہ پُرسکون کھیل کی امید رہے گی جب 47 روزہ ٹورنمنٹ جو 2013ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سے متاثر رہا، چہارشنبہ 8 اپریل کو ایڈن گارڈنس میں ڈیفنڈنگ چمپینس کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) اور ممبئی انڈینس (ایم آئی) کے درمیان مقابلے سے چل پڑے گا۔ اس سے قبل یہ ایونٹ کا رسمی افتتاح کل رات پُرشکوہ تقریب سے ہوگا جہاں بالی ووڈ کے ستارے جیسے رتیک روشن، شاہد کپور اور انوشکا شرما زوردار پرفارمنس پیش کرنے والوں میں شامل ہیں۔ اس ایونٹ میں خصوصی تال میل بہت جلد دکھائی دینے کی توقع ہے جیسا کہ دو کھلاڑی جنھوں نے گزشتہ ماہ ہی ورلڈ کپ میں ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ آرائی کی، اب ایک ہی ٹیم میں ساتھ کھیلتے نظر آئیں گے۔ ڈیوڈ وارنر اور شکھر دھون آسٹریلیا میں حالیہ چپقلش کو فراموش کرتے ہوئے ڈریسنگ روم (سن رائزرز حیدرآباد) میں یکجا ہوں گے۔ چونکہ بین الاقوامی حریف کھلاڑیاں یہاں دوست بن جائیں گے، اس لئے بعض تو اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کامیابی کیلئے بے تاب ہوں گے جبکہ یہ ٹورنمنٹ آئندہ سال کے ورلڈ ٹوئنٹی 20 سے قبل موزوں ’لانچ پیاڈ‘ فراہم کرتا ہے، جو لگ بھگ یہی وقت ہندوستان میں منعقد ہونے والا ہے۔ بعض ویٹرن ہندوستانی اسٹارز بھی ہوں گے جیسے ویریندر سہواگ، یوراج سنگھ اور ظہیر خان و دیگر، جو اس ایونٹ کو نیشنل ٹیم میں واپسی یقینی بنانے کیلئے آخری موقع سمجھیں گے۔ ہندوستانی سلیکٹرز کی سوچ مختلف ہوسکتی ہے، لیکن آئی پی ایل ٹیموں کا واضح طور پر ماننا ہے کہ 33 سالہ یوراج میں ہنوز دم خم باقی ہے جیسا کہ انھیں ریکارڈ 16 کروڑ روپئے کی بولی کے ساتھ دہلی ڈیرڈیولس ( ڈی ڈی ) نے چار فرنچائزیز کے مابین زبردست مسابقت کے بعد حاصل کیا ہے۔ یہ چیز اُن کی تین متواتر رانجی ٹروفی سنچریوں کے بعد ہوئی، جو اُن کیلئے ورلڈ کپ اسکواڈ میں شمولیت کیلئے کافی نہ ہوئیں۔ لیکن ہندوستان کی 2011ء ورلڈ کپ کامیابی کے ’پلیئر آف دی ٹورنمنٹ‘ پست حوصلہ ہونے والے نہیں اور ایسے کھلاڑیوں میں سے ہوں گے جن پر اس سیزن سب کی نظریں لگی رہیں گی۔ درحقیقت یوراج دہلی ڈیرڈیولس کیلئے کامیابی کی کلید رہیں گے، جو گزشتہ دو سیزن ٹیموں کی درجہ بندی میں سب سے نیچے رہے تھے۔ ڈی ڈی نے پھر ایک بار مکمل تبدیلی کرلی ہے اور یوراج کے علاوہ انھوں نے 36 سالہ ظہیر خان پر بھی سرمایہ لگایا ہے، جو خود بھی ایک آخری بار ٹیم انڈیا کا لباس زیب تن کرنے کی آرزو پوری کرنا چاہیں گے۔ جنوبی افریقی جے پی ڈومینی کی قیادت والی ڈی ڈی ٹیم میں اُن کے ہم وطن عمران طاہر بھی ہیں جبکہ پاکستانی نژاد لیگ اسپنر اپنے ورلڈ کپ مظاہرے کو دہرانا چاہیں گے۔ پُراستقلال محمد سمیع پیس ڈپارٹمنٹ میں نہایت تجربہ کار ظہیر کا ساتھ دیں گے، جبکہ یوراج سنگھ اسٹار سری لنکن آل راؤنڈر انجیلو میتھیوز کی شکل میں اس ٹیم کے پاس ضروری اضافی طاقت موجود ہے۔ یہ بظاہر بہت طاقتور ٹیم ہے لیکن دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ 2012ء کے اپنے پرفارمنس کو بہتر بناتے ہیں جہاں انھوں نے لیگ مرحلے کا ٹاپ پوزیشن پر اختتام کیا اور پھر پلے آف میچز میں ہار گئے۔ وہ 2008ء اور 2009ء میں آخری چار تک بھی پہنچے تھے۔ سری لنکائی کپتان میتھیوز اس ٹیم کے اوپننگ میچ بتاریخ 9 اپریل بمقام چینائی سے محروم رہیں گے کیونکہ حکومت ٹاملناڈو نے لنکن کھلاڑیوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ایک اور طاقت سے بھرپور ٹیم جسے ہنوز باوقار ٹروفی جیتنا ہے، رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) ہے، جو 2009ء اور 2011ء میں فائنلسٹ رہی۔ ان کے ٹیم مالک اور بڑے بزنسمن وجئے مالیا کی طرح یہ ٹیم کافی جوش و خروش دکھاتی ہے لیکن یہ بات ہمیشہ جیت کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئی ہے۔ یہ ٹیم ظاہر ہے اپنے ٹاپ چار میں کرس گیل، ویراٹ کوہلی اور اے بی ڈی ولیرس کی موجودگی کے بعد مزید آگے انحصار کرنا نہیں چاہے گی۔ آر سی بی نے دنیش کارتک کو بھی 10.5 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے ساتھ حاصل کیا ہے۔ تاہم اُن کی بولنگ قدرے غیرمستحکم نظر آتی ہے، جس میں ورون آرن اور اشوک دنڈا نمایاں پیس بولرز ہیں۔ 2010ء اور 2011ء کے چمپینس چینائی سوپر کنگس (سی ایس کے) تمام سیزنس کا جائزہ لیں تو سب سے زیادہ پُراستقلال ٹیم رہی ہے مگر 2015ء کی شروعات کچھ توجہ بٹانے والی میدان سے باہر کی تبدیلیوں کے پس منظر میں کرے گی جیسا کہ سپریم کورٹ نے گروناتھ میئپن اور آئی سی سی چیرمین این سرینواسن زیر قیادت انڈیا سیمنٹس کی جانب سے اس ٹیم کی ملکیت کے بارے میں فیصلے صادر کئے ہیں۔ تاہم انڈیا کیپٹن مہندر سنگھ دھونی کی شکل میں سی ایس کے کو ایسے کپتان کی خدمات حاصل ہیں جو کسی بھی بحران پر آسانی سے قابو پاسکتا ہے۔ اس سال بھی انھوں نے ٹیم کے اہم حصہ کو برقرار رکھا اور عرفان پٹھان اور مائیکل ہسی، کائل ایبٹ، راہول شرما و دیگر کے حصول میں اپنا سرمایہ مشغول کیا ہے۔ 2013ء کے ونرز ممبئی انڈینس کے پاس اسٹارز سے بھرپور ’سپورٹ اسٹاف‘ ہے جس میں رکی پانٹنگ کوچ ہیں اور ٹیم آئیکان کے طور پر سچن تنڈولکر اپنے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے دستیاب رہیں گے۔ گزشتہ سیزن کے رنرزاپ کنگس الیون پنجاب نے اپنی مہم کی شاندار شروعات کی تھی جس میں انھوں نے یو اے ای مرحلے کے دوران پانچ میچز لگاتار جیتے تھے۔ انھیں ورلڈ کپ ونرز گلن میکسویل اور مچل جانسن کے علاوہ جنوبی افریقی ڈیوڈ ملر کی خدمات حاصل ہیں لیکن دیکھنا ہے کہ وہ آنے والے دقت طلب سیزن سے کس طرح نمٹ پاتے ہیں۔ ان کے پاس جارحانہ اوپنر سہواگ بھی رہیں گے۔ سن رائزرز حیدرآباد جنھوں نے وارنر کو اپنا کیپٹن بنایا ہے، اُن کے پاس بھی دھماکو بیٹنگ لائن اپ ہے جس میں دھون، اوئن مورگن اور کیون پیٹرسن شامل ہیں۔ تاہم پیٹرسن لیگ مرحلہ نہیں کھیلیں گے اور پلے آف کیلئے ہی واپس ہوں گے۔ شائقین اور منتظمین کو موسمی پیش قیاسی پر بھی نظر رکھنا پڑسکتا ہے کیونکہ گرج و چمک کا طوفان سیزن کے اس وقت کے دوران ان حصوں میں شام میں غیرمتوقع بات نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT