Saturday , May 26 2018
Home / ہندوستان / آبدوز کشتی’’ کلواری ‘‘کی شمولیت سے بحریہ کی طاقت میں اضافہ

آبدوز کشتی’’ کلواری ‘‘کی شمولیت سے بحریہ کی طاقت میں اضافہ

تقریب سے وزیراعظم نریندر مودی کا خطاب ‘ مشیرقومی سلامتی ‘ سربراہ بحریہ اور فرانسیسی سفیر کی شرکت

ممبئی ۔ 14 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندرمودی نے آج اسکارپین زمرے کی پہلی آبدوز کشتی ’’ کلواری ‘‘ کو ہندوستانی بحریہ میں شامل کرلیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت ہند کی ’’ میک ان انڈیا ‘‘ پہل کا ثبوت اور ملک کی دفاعی تیاری کی سمت ایک ’’ بڑا قدم ‘‘ ہے ۔ مودی آبدوز کشتی میں سوار ہوئے اور اس کی تختی کی نقاب کشائی کی ۔ انہوں نے پہلی کلواری کے کہنہ مشق ارکان عملہ سے ملاقات بھی کی جو اس تقریب میں موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ( بی جے پی دور اقتدار کے) گذشتہ تین سال تبدیلی کا آغاز برائے دفاع و سلامتی سے مربوط ماحولیاتی نظام ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک چاہتے ہیں کہ امن و استحکام کے راستہ پر ہندوستان کے ہمراہ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور ہندوستان پورے عالم انسانیت میں اہم کردار ادا کررہا ہے ۔ آبدوز کشتی کی بحریہ میں شمولیت کی تقریب سے جو بحریہ کے ڈاک یارڈ میں منعقد کی گئی تھی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کلواری ہمارے میک ان انڈیا پروگرام کی بہترین مثال ہے ۔ سربراہ بحریہ ایڈمیرل سنیل لامبا ‘ مشیر قومی سلامتی اجیت دوول اور فرانسیسی سفیر برائے ہندوستان الگزینڈر زیگلر اس تقریب میں شریک تھے ۔

مودی نے فرانس کا شکریہ ادا کیا ۔ یہ دفاعی مشترکہ پراجکٹ اُس کے تعاون ہی سے تکمیل پذیر ہوا ۔ انہوں نے آبدوز کشتی کیشمولیت کو 125 کروڑ ہندوستانیوں کیلئے ’’قابل فخر ‘‘ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس آبدوز کشتی کی شمولیت پر انہیں فخر ہے ۔ کلواری کی بحریہ میں شمولیت دفاعی تیاری کی سمت ایک بڑا قدم ہے ۔ کلواری کو خوفناک ٹائگر شارک سے منسوب کیا گیا ہے جو بحرہند کی گہرائیوں میں رہنے والی ایک شکاری مچھلی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کلواری کی طاقت جو ٹائیگر شارک کی ہوتی ہے ہماری بحریہ کو مضبوط بنائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان پڑوسیوں کے بحران کے وقت جیسے سیلاب ‘ پانی کی قلت یا سمندری طوفانوں میں سری لنکا ‘ مالدیپ اور بنگلہ دیش کی مدد کرنے میں ہمیشہ آگے رہا ہے ۔ نیپال کے زلزلے کے دوران ہندوستانی بحریہ اور فضائیہ نے بڑے پیمانہ پر مدد فراہم کی گھی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان نے سمندری قزاقی‘ منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ماہی گیری جیسے چیلنجس سے نمٹنے میں ہمیشہ مدد کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی صیانتی پالیسیوں کے اثرات نہ صرف خارجی بلکہ داخلی صیانت پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں ۔ آپ تمام جانتے ہیں کہ دہشت گردی ہندوستان کے خلاف نیابتی جنگ کو بطور ہتھیار استعمال کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا منتر ’’ سب کا ساتھ ۔ سب کا وکاس ‘‘ کے ذریعہ ہندوستان پوری دنیا کو اپنا خاندان سمجھتا ہے اور اپنی عالمی ذمہ داریوں کی تکمیل کرتا ہے ۔ بحرہند نے ہندوستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں اس کی مدد کی ہے اور ہندسوتان کو زیادہ طاقوت بنایا ہے ۔ میں بحرہند کو ایک خاص نام ایس اے جی اے آر سے پکارتاہوں جس کا مطلب اس علاقہ کے تمام افراد کیلئے صیانت اور ترقی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT