Wednesday , November 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / آبپاشی پراجکٹس پر توجہ ، کسان نظر انداز

آبپاشی پراجکٹس پر توجہ ، کسان نظر انداز

کریم نگر /17 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) حالیہ بجٹ میں آبپاشی پراجکٹ کی تعمیر کے سلسلہ میں کافی توجہ دی گئی ہے لیکن کسانوں کی ترقی پر توجہ نہیں دی گئی ۔ الیکشن سے قبل کسانوں کے زرعی قرضوں کو معاف کردینے کا تیقن دیا گیا تھا ۔ اقتدار حاصل ہونیکے بعد قسطوں میں قرض کی رقم کی اجرائی عمل میں آرہی ہے کسانوں کی یہ رقم بینکوں کے سود میں ہی جارہی ہے جس کی وجہ اصل قرض جیسا کا ویسا ہی ہے ۔ مناسب بارش نہ ہونے کی وجہ خشک سالی اور قحط جیسا حال ہے ۔ کسان اس غلط فہمی میں تھے کہ حکومت سارے کا سارا قرضہ معاف کردے گی لیکن کسانوں کو اب تک کی بجائے سرمایہ داروں سے قرض لینے کی نوبت آگئی ہے ۔ سارے ضلع میں قرض معافی کے تحت 380208 افراد کے 1694 کروڑ 26 لاکھ روپئے معاف کردئے گئے ۔ دوسری قسط میں بھی رقم مختص کردی گئی لیکن تیسری اور چوتھی قسط کی اجرائی ہونی ہے ۔ سال گذشتہ غیر موسمی بارش اور ژالہ باری سے 16439 ہیکڑ اراصی کی فصل کو نقصان پہونچا ۔ 50680 کسانوں کے نقصان کے تحت حکومت سبسیڈی کے تحت 22.03 کروڑ روپئے جاری کئے ۔ خریف میں بارش نہ ہونے کے سبب 53965 ہیکڑ اراضی کی فصل کو نقصان ہوا تقریباً 163100 کسانوں کے نقصان ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے اور 19 منڈلوں کو خشک زدہ علاقہ کا اعلان کیا گیا ۔ اس تعلق سے 36.92 کروڑ روپئے کی سبسیڈی کی حکومت کو یادداشت پیش کی گئی لیکن منظوری کب ہوگی ۔ اس کا کسی کو اندازہ نہیں ۔ تمام کسانوں کو صرف 25 فیصد قرض کی معافی کی منظوری ملی ہے ۔ لیکن ماباقی میں سے کسانوں کو پانچ یا دس ہزار بھی مل جائے تو بہتر تھا ۔ ادھر بنک 2400 کروڑ روپئے کا نشانہ مقرر کئے ہوئے ہے لیکن حکومت نے صرف 1613 کروڑ 75 لاکھ روپئے قرض دئے ہیں ۔ اس طرح 1580 کروڑ روپیوں کی جائے 796.32 کروڑ روپیوں کا قرض دیا گیا ۔ حالانکہ مقررہ نشانہ کے مطابق مزید 1570 کروڑ روپئے کا قرض انہیں دینا باقی ہے۔ اگر حکومت اپنے اعلان کے مطابق یکمشت یہ رقم کسانوں کی معاف کردیتی تو کسانوں کا اتنا نقصان ہوتا اور کسان خوشحال زندگی بسر کرسکتا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT