Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / آبپاشی پراجیکٹس کی تعمیر میں مقدمات کے ذریعہ رکاوٹ کا الزام

آبپاشی پراجیکٹس کی تعمیر میں مقدمات کے ذریعہ رکاوٹ کا الزام

اپوزیشن نے حکومت کے ہر کام میں رکاوٹ کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے ۔کانگریس پر ریاستی وزیر ہریش راؤ کی تنقید
حیدرآباد۔21 مارچ (سیاست نیوز) وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس پارٹی مقدمات کے ذریعہ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔ تلنگانہ اسمبلی میں آبپاشی کے مطالباتِ زر پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن جماعتیں ، حکومت کے ہر کام پر تنقید اور رکاوٹ پیدا کرنے کو اپنا شیوہ بنا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ریاست کی ترقی کے سلسلے میں تعمیری تجاویز کے ذریعہ تعاون کرنا چاہئے، برخلاف اس کے تلنگانہ کی اپوزیشن جماعتیں ترقی میں رکاوٹ پیدا کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جن کا انتقال ہوچکا ہے، ان کے نام سے فرضی دستخطوں کے ساتھ عدالتوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین مہیندر ریڈی اور ہرش وردھن ریڈی نے پراجکٹس کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست پیش کی ہے۔ عدالتوں کے مقدمات کے سبب پراجکٹس کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پالمور پراجکٹ میں رکاوٹ پیدا کرنے کیلئے کیا کانگریس پارٹی گرین ٹریبیونل سے نہیں ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ ریاست کا ہر بچہ اس حقیقت سے واقف ہے کہ کانگریس پارٹی مختلف طریقوں سے پراجکٹس کی راہ میں حائل ہورہی ہے اور حکومت پر بے قاعدگیوں کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ ہریش راؤ نے بتایا کہ توٹاپلی ذخیرہ آب کی گنجائش 1.7 ٹی ایم سی ہے لیکن اس سے 0.95 ٹی ایم سی پانی استعمال کیا جارہا ہے۔ حکومت نے اس کے ذریعہ 6 مواضعات کا تحفظ کیا ہے جو پانی سے محروم تھے۔ ہریش راؤ نے حکومت کی جانب سے تعمیر کئے جانے والے مختلف پراجکٹس اور ان سے سیراب ہونے والے علاقوں کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ سنگور پراجکٹ کے تحت 30,000 ایکر اراضی کو پانی سیراب کیا گیا ہے۔ حکومت آبپاشی پراجکٹ کی تعمیر کے ذریعہ ریاست میں ایک کروڑ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے ایلم پلی پراجکٹ کو مکمل کیا جس کے تحت 20 ٹی ایم سی پانی کا استعمال کیا گیا۔ پراجکٹس کے تعلق سے کانگریس پر دوہرا معیار اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ کسانوں کو گمراہ کرتے ہوئے حکومت پر الزام تراشی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو پراجکٹس کے لئے اراضی حوالے کرنے سے روکنے کی کوشش میں اپوزیشن کا رول افسوسناک ہے۔ وزیر آبپاشی نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں میدک ضلع کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے نام سے شروع کئے گئے پراجکٹس بھی مکمل نہیں کئے گئے۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ اپنے رویہ میں تبدیلی لائیں اور سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کے سلسلے میں حکومت سے تعاون کریں۔

TOPPOPULARRECENT