Saturday , December 15 2018

آب بیتی اور سفر ناموں کا مطالعہ تاریخی احوال سے واقفیت کا ذریعہ

لالی چودھری کے سفر نامہ کا رسم اجراء ، پدم شری مجتبیٰ حسین ، پروفیسر شمیم حنفی اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔7مارچ(سیاست نیوز)پروفیسر بیگ احساس نے کہاکہ لالی چودھری کا تعلق پاکستان سے ہونے کے باوجود ہندوستانی تاریخ سے ان کی دلچسپی قابل ستائش ہے۔ لالی چودھری کی تحریروں میںگنگاجمنی تہذیب کی خوبصورتی بھی واضح طور پر نظر آتی ہے ۔ ان کے تحریر میں پیرس کے میوزیم کا تذکرہ اور اندولس کے سفر نامہ کا مطالعہ سے ان کی مذہبی اور تاریخی دلچسپی بھی نمایاں طور سے نظر آتی ہے۔ اُردو ہال حمایت نگر میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیراہتمام منعقدہ ڈاکٹر رفعیہ سلیم کے مرتبہ لالی چودھری کا سفر نامہ کی رسم اجرائی تقریب سے وہ مخاطب تھے ۔ کتاب کا رسم اجراء پروفیسر شمیم حنفی کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ پدم شری مجتبیٰ حسین‘ سابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا جناب سید عزیزپاشاہ ‘سکریٹری اُردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور‘ پروفیسر اشرف رفیع‘ پروفیسر حبیب نثار‘ صدر شعبہ اردو حیدرآباد یونیورسٹی ‘ ڈاکٹر ایس ایم حبیبی‘ڈاکٹر رفیعہ سلیم نے خطاب کرتے ہوئے لالی چودھری کے تصنیفات ادب کو تہذیب کی ایک بڑی تحقیق قراردیا۔جناب تراب الحسن کے علاوہ دیگر معززین شہر نے شرکت کی ۔ کاروائی جناب محبو ب خان اصغر نے چلائی۔پروفیسر بیگ احساس نے اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہاکہ جس شوق اور دلچسپی کے ساتھ ڈاکٹر رفیعہ سلیم نے کتا ب کو مرتب کیاہے وہ قابل ستائش ہے ۔جناب مجتبیٰ حسین نے ساحر لدھیانوی پر کی گئی تنقید کا لالی چودھری کا مضبوط جواب خو داس بات کی دلیل ہے کہ لالی چودھری کو ہندوستانی ادب سے کس قدر محبت ہے۔انہوں نے مصنفہ لالی چودھری کو ایک منظم خاتون قراردیتے ہوئے کہاکہ وہ درس وتدریس سے بھی وابستہ رہیں ۔ انہو ںنے کہاکہ پاکستان میںان کی کوئی کتاب شائع نہیںہوئی ۔لالی چودھری کی پہلی کتاب سال2002میںہندوستان میںشائع ہوئی تھی جس کے بعد ان کی کتابوں کاسلسلہ شروع ہوگیا۔ جناب مجتبیٰ حسین نے کہاکہ لالی ہمیشہ اپنی شہرت سے بے نیاز رہیں او روہ بہترین حافظے کی حامل تھیں ۔ انہوں نے لالی چودھری کے اقتصادی اورسماجی شعور کی بھی ستائش کی۔ جناب شمیم حنفی نے کہاکہ رسم اجرائی تقریب میںشرکت ادیب کے لئے سب سے بڑا اعزاز ہوتا ہے۔انہو ںنے کہاکہ آب بیتی اور سفرناموں کامطالعہ تاریخی احوال سے واقفیت کا بہترین ذریعہ ہے۔انہوں نے بھی لالی چودھری کے سفر ناموں کی ستائش کیا ۔پروفیسر ایس اے شکور نے کہاکہ لالی چودھری کو ہندوستان میں سب سے پہلے جناب مجتبیٰ حسین نے متعارف کروایاجس کے بعدادارہ ادبیات اُردو کا نمبر ہے۔ ڈھائی سے تین سال تک سب رس میں لالی چودھری کے مضامین کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہاہے۔ انہوںنے کہاکہ سفر ناموں کی مقبولیت کا جہاں تک سوال ہے تو جناب مجتبیٰ حسین کے سفرنامہ کافی مقبول ہوئے اور جاپان چلو جاپان کو عثمانیہ یونیورسٹی کے نصاب میںبھی شامل کیاگیا ہے۔جناب سیدعزیز پاشاہ نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے صدر پروفیسر بیگ احساس کو ساہتیہ اکیڈیمی کے ایوارڈ سے نوازے جانے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ کے انجمن ترقی پسند مصنفین کے لئے ایک باعث فخر بات ہے۔محترمہ اشرف رفیع نے ادبی تہذیب کے بگاڑ کے دور میںسفر ناموں کی اشاعت لسانی تہذیب کے تحفظ کے لئے ایک بہترین کوشش ہے۔ انہوں نے کہاکہ لالی چودھری کے سفرناموں میں مغلوں کی تاریخ کا تذکرہ بھی شامل ہے۔ڈاکٹر رفیعہ سلیم نے لالی چودھری کے سفر نامہ پر روشنی ڈالی اور کتا ب کی ترتیب میں پروفیسر بیگ احساس او رجناب مجتبیٰ حسین کے گرانقدار تعاون پر شکریہ ادا کیا ۔

TOPPOPULARRECENT