Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / آج پانچویں مرحلہ کی رائے دہی

آج پانچویں مرحلہ کی رائے دہی

نئی دہلی ۔ 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات کے پانچویں مرحلہ میں کل 12 ریاستوں میں رائے دہی مقرر ہے اور 121 حلقوں کا احاطہ کیا جارہا ہے۔ 195 ملین سے زائد رائے دہندے مجموعی طور پر 1762 امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ ان حلقوں میں 2009ء انتخابات کے دوران بی جے پی نے 44 اور کانگریس 37 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ کرناٹک میں جہا

نئی دہلی ۔ 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات کے پانچویں مرحلہ میں کل 12 ریاستوں میں رائے دہی مقرر ہے اور 121 حلقوں کا احاطہ کیا جارہا ہے۔ 195 ملین سے زائد رائے دہندے مجموعی طور پر 1762 امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ ان حلقوں میں 2009ء انتخابات کے دوران بی جے پی نے 44 اور کانگریس 37 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ کرناٹک میں جہاں جنوبی ہند میں پہلی بی جے پی حکومت قائم ہوئی تھی کل تمام 28 نشستوں پر رائے دہی ہورہی ہے۔ بنگلور ساوتھ سے سابق آئی ٹی شخصیت نندن نیلکنی مقابلہ میں شریک ہیں۔ راجستھان میں 20 نشستوں پر کل رائے دہی ہوگی۔ گذشتہ سال اسمبلی انتخابات میں یہاں بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے سچن پائلیٹ کو یہاں کی ذمہ داری تفویض کی جبکہ بی جے پی کو باغی لیڈر جسونت سنگھ کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔

وہ بارمیر سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کررہے ہیں۔ مہاراشٹرا میں 19 نشستوں پر کل رائے دہی ہوگی اور مرکزی وزیرداخلہ سشیل کمار شنڈے، اشوک چوہان اور گوپی ناتھ منڈے کے علاوہ سپریہ سولے مقابلے میں شریک ہیں۔ اترپردیش میں 11 حلقوں پر ہورہی رائے دہی میں سابق مرکزی وزیر و بی جے پی امیدوار مینکا گاندھی ساتویں مرتبہ اپنی قسمت آزمائی کررہی ہیں۔ اوڈیشہ میں 11، مدھیہ پردیش میں 10 اور بہار میں 7 نشستوں پر رائے دہی ہوگی۔ شتروگھن سنہا، سابق مرکزی معتمد داخلہ آر کے سنگھ اور آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کی دختر میسا بھارتی مقابلہ میں شریک ہیں۔جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور جموں و کشمیر میں بھی کل رائے دہی مقرر ہے۔ ان تمام حلقوں میں سیکوریٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے ہیں اوربھاری تعداد میں عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

کانگریس ہی اقلیتوں کیلئے
’’محفوظ قلعہ‘‘ : چدمبرم
سیواگنگا ۔ 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیرفینانس پی چدمبرم نے آج یہ دعویٰ کیا کہ کانگریس ہی واحد پارٹی ہے جو اقلیتوں کیلئے ’’محفوظ قلعہ‘‘ ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ کبھی اس نے اقلیتوں کی پرواہ نہیں کی اور اس کی سوچ یہی رہی ہیکہ صرف اکثریتی ووٹ ہی کافی ہیں۔ انہوں نے اپنے فرزند کارتی پی چدمبرم کی تائید میں انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے سواء کسی نے بھی دلتوں کے تحفظ کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ انتخابات میں عوام کو چاہئے کہ وہ صحیح پارٹی کو ووٹ دیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT